امریکی وزارتِ دفاع نے اڑن طشتریوں اور نامعلوم فضائی مظاہر UAP سے متعلق خفیہ فائلیں جاری کر دی ہیں، جن میں ایسی ویڈیوز بھی شامل ہیں جن میں اجسام کو اس انداز میں پرواز کرتے دیکھا گیا جو طبیعیات کے قوانین کو چیلنج کرتا محسوس ہوتا ہے۔
وزارت نے ان دستاویزات کو ’ایسی فائلیں جن کی مثال پہلے کبھی نہیں ملی‘ قرار دیا۔
جاری کی جانے والی فائلوں میں متعدد عرب ممالک بھی شامل ہیں جہاں اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے گزرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
مذکورہ خفیہ فائلوں میں متحدہ عرب امارات میں پراسرار فضائی مظاہر کا ذکر ملتا ہے جہاں متعدد مرتبہ اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے گزر کا ثبوت ملتا ہے۔
سرکاری فائلوں کا مطالعہ کرنے کے لیے کلک کریں۔
اسی طرح پیٹاگون کی فائلوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اڑن طشتریاں اور خلائی مخلوق کا گزر عراق میں بھی ہوا ہے۔
سرکاری فائل کا مطالعہ کرنے کے لیے کلک کریں۔
ادھر شام میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں نامعلوم پر اسرار اجسام پائے گئے ہیں۔ (کلک کریں)
مکمل فائلوں میں داخلی فوجی یادداشتیں بھی شامل ہیں جن میں یونان جیسے ممالک میںممکنہ طور پر ایک چھوٹے نامعلوم اڑنے والے جسم کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
مکمل دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ان دستاویزات کے ساتھ جاری بیان میں کہا گیا:
یہاں محفوظ مواد ایسے معاملات کی نمائندگی کرتا ہے جن کا حتمی فیصلہ اب تک نہیں ہو سکا، یعنی حکومت مشاہدہ کئے گئے مظاہر کی نوعیت کو قطعی طور پر متعین کرنے سے قاصر ہے۔
اس کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں، جن میں ناکافی معلومات بھی شامل ہیں۔
وزارتِ جنگ نجی شعبے کی تجزیاتی صلاحیتوں، معلومات اور مہارت کا خیر مقدم کرتی ہے۔
وزارت قانون کے مطابق حل شدہ نامعلوم اڑتی اشیا کے معاملات پر علیحدہ رپورٹس بھی جاری کرتی رہے گی۔
اس انتظامیہ کے دوران ہم حقیقت سامنے لانے اور نتائج امریکی عوام کے ساتھ شیئر کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
وزارت نے وضاحت کی کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی حکومت کے نامعلوم غیر معمولی فضائی مظاہر UAP سے متعلق معلومات میں شفافیت کی ہدایات کے جواب میں کیا گیا۔