جنگ کے آغاز یعنی 28 فروری سے ایرانی دھمکیوں کے باعث اس علاقے میں جہاز رانی شدید متاثر ہو چکی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے گزشتہ منگل کو اچانک اس آپریشن کو معطل کر دیا تھا۔
انہوں نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
امریکا کی ممکنہ نئی حکمت عملیکئی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں ممالک خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو امریکی افواج ویسی ہی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہیں جیسی ماضی میں بحیرہ کیریبین میں اپنائی گئی تھی، یعنی ایرانی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنانا اور بحری محاصرہ جاری رکھنا۔ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی سے ایران پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی انٹیلی جنس کی تازہ رپورٹس کے مطابق تہران زیادہ سے زیادہ تین یا چار ماہ تک اس محاصرے کو برداشت کر سکے گا، جس کے بعد اس کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
پروجیکٹ فریڈم پلس: ہرمز میں نئی کشیدگی کا امکان
Overseas Post