اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

پروجیکٹ فریڈم پلس: ہرمز میں نئی کشیدگی کا امکان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز
اب تک 10 ملاح ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 30 سے زائد بحری جہاز متاثر ہوئے ہیں

ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری رہنے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے پروجیکٹ فریڈم آپریشن دوبارہ شروع کر سکتا ہے، جسے چند روز قبل معطل کر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کی شام وائٹ ہاؤس سے روانگی کے دوران کہا کہ میرا خیال ہے کہ پروجیکٹ فریڈم ایک اچھا منصوبہ ہے، لیکن میرا یہ بھی ماننا ہے کہ ہمارے پاس یہ کام کرنے کے دیگر طریقے بھی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ایرانی ردعمل سنجیدہ نہ ہوا تو پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے تاہم اس بار ’اضافی اقدامات‘ کے ساتھ ہوگا۔ 

ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ ہوگا، یعنی پروجیکٹ فریڈم کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی شامل ہوں گی۔

تاہم امریکی صدر نے ان ’اضافی اقدامات‘ کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

یاد رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

46465 1
امریکا کا بڑا اشارہ، ایران نہ مانا تو ہرمز میں نیا فوجی منصوبہ شروع ہوگا

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے گزشتہ جمعرات کی رات جنوبی ایران میں بعض مقامات پر حملے کئے، جبکہ جمعہ کو ایرانی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن پر الزام تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ پیش رفت اس اعلان کے بعد سامنے آئی جب سینٹکام نے گزشتہ اتوار آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرنا تھا۔ 

ہرمز میں کشیدگی
پھر بڑھ گئی
ٹرمپ نے
پروجیکٹ فریڈم پلس
کا عندیہ دے دیا

جنگ کے آغاز یعنی 28 فروری سے ایرانی دھمکیوں کے باعث اس علاقے میں جہاز رانی شدید متاثر ہو چکی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے گزشتہ منگل کو اچانک اس آپریشن کو معطل کر دیا تھا۔
انہوں نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
امریکا کی ممکنہ نئی حکمت عملیکئی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر دونوں ممالک خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو امریکی افواج ویسی ہی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہیں جیسی ماضی میں بحیرہ کیریبین میں اپنائی گئی تھی، یعنی ایرانی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنانا اور بحری محاصرہ جاری رکھنا۔ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی سے ایران پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی انٹیلی جنس کی تازہ رپورٹس کے مطابق تہران زیادہ سے زیادہ تین یا چار ماہ تک اس محاصرے کو برداشت کر سکے گا، جس کے بعد اس کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کم از کم 10 ملاح ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں میں 30 سے زائد بحری جہاز متاثر ہوئے ہیں، یہ اعداد و شمار بین الاقوامی بحری تنظیٹ نے جاری کیے ہیں۔

ادھر امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین کے مطابق اس وقت بھی تقریباً 1600 تجارتی جہاز، جن پر 22 ہزار سے زائد ملاح اور تکنیکی عملہ موجود ہے، سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔