واشنگٹن میں حال ہی میں جاری ہونے والی 927 صفحات پر مشتمل ایک مالیاتی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی کے پہلے سال کے دوران 2.2 ارب ڈالر سے زائد کمائے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار امریکی صدارتی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔
روایتی طریقوں سے انحراف
امریکی صدور دہائیوں سے اپنے اثاثوں کو ’بلائنڈ ٹرسٹ‘ میں منتقل
کرتے رہے ہیں تاکہ سرکاری فرائض اور ذاتی دولت میں فرق رہے۔
تاہم ٹرمپ نے اس روایت کو چھوڑ دیا ہے اور ان کے کاروبار کا انتظام اب بھی ان کے خاندان کے پاس ہے۔
کرپٹو کرنسی سے غیر معمولی آمدن
ٹرمپ کے مالیاتی گوشوارے میں سب سے نمایاں پہلو کرپٹو کرنسی سے ہونے والی کمائی کا ہے۔
ٹرمپ، جو پہلے ڈیجیٹل اثاثوں کے ناقد تھے، اب خود ان کے بڑے حامی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اُن کی کل آمدن کا 1.4 ارب ڈالر کرپٹو منصوبوں سے حاصل ہوا ہے۔
ڈیجیٹل منصوبوں کی کامیابی
ٹرمپ کے کرپٹو منصوبوں میں 635 ملین ڈالر ’میم‘ کوائنز اور 500 ملین ڈالر سے زائد کی آمدن ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ سے ہوئی ہے۔
یہ ڈیجیٹل کمپنیاں اب ٹرمپ کی دولت کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں، جس نے گولف ریزورٹس اور رئیل اسٹیٹ سے حاصل ہونے والی روایتی آمدن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مفادات کا ٹکراؤ اور حکومتی مؤقف
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا اپنے ہی کاروبار سے جڑے شعبوں کے لیے قانون سازی کرنا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’سرد مہری و غلط بیانی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے صدارتی پالیسیوں کو معاشی بہتری کا باعث بتایا۔
بین الاقوامی کاروباری مفادات
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے کاروباری مفادات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور رومانیہ جیسے ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔
ان ممالک کے ساتھ امریکی خارجہ پالیسی اور فوجی معاہدوں کے معاملات جاری ہیں، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ سفارت کاری کہاں ختم اور کاروبار کہاں شروع ہوتا ہے۔
اخلاقیات کا بدلتا ہوا معیار
ٹرمپ کا یہ ماڈل امریکی صدارتی اخلاقیات کے لیے بھی ایک نیا رُخ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی انہیں ایک ’تاجر صدر‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے جمہوری اداروں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ کرپٹو کرنسی کے لیے نئے ضوابط اور سرکاری عہدیداروں کے لیے سخت ضابطہ اخلاق پر غور کر رہی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا امریکی سیاسی نظام ان ضوابط کے ذریعے صدارتی منصب اور ذاتی دولت کے درمیان شفاف حد بندی کر پائے گا یا نہیں۔
یہ بحث آنے والے برسوں تک امریکی سیاست میں مرکزی حیثیت برقرار رکھے گی، کیونکہ یہ معاملہ قومی مفادات کے تحفظ سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔