عمان نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام کا فارمولا امریکا کے سامنے پیش کیا ہے، جس پر ایران پُرامید نظر آ رہا ہے۔
امریکا نے منصوبے کے بعض نکات، خصوصاً ممکنہ بحری فیس، پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام صرف ساحلی ممالک کے پاس ہونا چاہیے۔
دوحہ مذاکرات میں بھی ہرمز اور دیگر اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی، مگر کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور سلطنتِ عمان نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایک نیا تصور امریکا کے سامنے پیش کیا ہے، جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کا مشترکہ انتظام ایران اور عمان کے سپرد کیا جائے، جبکہ بحری خدمات کے لیے مالیاتی نظام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم واشنگٹن نے اس تجویز کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
این بی سی نیوز نے متعدد باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ تجویز حال ہی میں امریکی انتظامیہ کو موصول ہوئی، تاہم ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق سلطنتِ عمان نے ابھی تک کوئی باضابطہ تجویز پیش نہیں کی، بلکہ وہ امریکا کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام کے مختلف ممکنہ طریقہ کار پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں
ذرائع کے مطابق امریکی مذاکرات کار اس منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں اور جلد عمانی حکام کے ساتھ اس پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔
واشنگٹن کو امید ہے کہ فنی مذاکرات کے ذریعے اختلافی نکات دور کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکا عمان کے ثالثی کردار کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
جہاز رانی پر فیس کا معاملہ
ذرائع نے بتایا کہ سلطنتِ عمان آزادانہ بحری آمدورفت کے اصول پر قائم ہے اور وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر لازمی فیس عائد کرنے کی حامی نہیں۔
عمانی تجویز میں بھی کسی قسم کی لازمی ٹرانزٹ فیس شامل نہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے حوالے سے این بی سی نیوز نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے کسی بھی ملک کو وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔
البتہ ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق ایران اب بھی کسی نہ کسی شکل میں فیس کے نظام کی حمایت کر رہا ہے اور اسے امید ہے کہ مستقبل میں اس حوالے سے ایک قابل قبول سمجھوتہ طے پا سکتا ہے۔
اس تجویز کے مطابق اگر فیس عائد کی گئی تو وہ عالمی برادری اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مشورے سے ہوگی، جبکہ حاصل ہونے والی آمدنی سمندری حفاظت، ریسکیو آپریشنز، ماحولیاتی تحفظ اور فنی خدمات پر خرچ کی جا سکتی ہے، اور اس میں ایران اور عمان دونوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ سلطنتِ عمان کئی برسوں سے آبنائے ہرمز کی بحالی، سمندری خدمات اور ماحولیاتی نگرانی پر بھاری اخراجات برداشت کرتی رہی ہے، مگر اس نے کبھی جہازوں سے کوئی لازمی فیس وصول نہیں کی۔
ان کے مطابق یہ معاملہ ابھی زیرِ غور ہے اور کسی حتمی معاہدے کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ
اسی دوران فنانشل ٹائمز نے تازہ اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد 4 گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی پر بڑھتا ہوا اعتماد اور خطے میں نسبتاً بہتر سکیورٹی صورتحال ہے۔
تہران کا دوٹوک مؤقف
سیاسی سطح پر ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی امریکی کردار کو قبول نہیں کرے گا۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ تہران امریکا پر اعتماد نہیں کرتا کیونکہ اس کا ماضی وعدوں کی خلاف ورزیوں سے بھرا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور اگر کسی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
🇮🇷 ایران کا منصوبہ
ایران آبنائے ہرمز کے انتظام میں اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے اور عمان کے ساتھ مشترکہ انتظامی نظام پر زور دے رہا ہے۔
🇴🇲 عمان کا کردار
عمان آزادانہ بحری آمدورفت کے اصول پر قائم ہے اور لازمی ٹرانزٹ فیس کی حمایت نہیں کر رہا، تاہم مشاورت جاری ہے۔
🇺🇸 امریکی تحفظات
واشنگٹن آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ سمجھتا ہے اور کسی بھی لازمی فیس یا یکطرفہ انتظامی تبدیلی پر تحفظات رکھتا ہے۔
💰 فیس کا تنازع
ایران کسی مالیاتی نظام کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ امریکا اور عمان لازمی فیس کے بجائے عالمی قوانین کے مطابق حل چاہتے ہیں۔
🚢 بحری سرگرمی
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی پر اعتماد بڑھنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
🕊 دوحہ مذاکرات
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں، مگر ایران نے امریکی وفد سے براہِ راست ملاقات سے گریز کیا ہے۔
- ایران اور عمان کے مشترکہ انتظامی تصور پر امریکا کو تحفظات ہیں۔
- عمان لازمی فیس کے حق میں نہیں، مگر مشاورتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔
- ایران کسی نہ کسی شکل میں بحری خدمات کے مالیاتی نظام پر زور دے رہا ہے۔
- واشنگٹن آبنائے ہرمز میں مکمل آزادانہ جہاز رانی کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
- دوحہ مذاکرات میں قطر اور پاکستان ثالثی کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
- امریکا عمانی حکام کے ساتھ تجویز کے فنی نکات پر مزید بات کرے گا۔
- فیس، بحری خدمات اور انتظامی اختیارات سب سے حساس موضوعات رہیں گے۔
- ایران امریکی کردار کو محدود رکھنے کی کوشش جاری رکھے گا۔
- اگر ہرمز میں کشیدگی نہ بڑھی تو مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
- براہِ راست امریکا ایران مذاکرات کا امکان ابھی بھی اعتماد سازی سے مشروط ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
ان کے مطابق تہران اور مسقط نے امریکا کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں خلیجی ساحلی ممالک سے بھی مشاورت جاری رہے گی۔
قالیباف نے اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کسی نئی جنگ کو روکنے کے لیے کافی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
دوحہ مذاکرات میں پیش رفت
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوحہ میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور مکمل ہوا، جس میں فریقین نے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق قطری اور پاکستانی ثالثوں نے امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور جھیل لوسرن سربراہی اجلاس کے نتائج کی روشنی میں مختلف امور پر پیش رفت ہوئی۔
تاہم ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ ایرانی وفد کی امریکی نمائندوں سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق تمام مذاکرات صرف قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ہوئے، جن میں خاص طور پر لبنان اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ دوحہ اجلاس ایران کی درخواست پر منعقد ہوا، جبکہ تہران نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک جون 2026 میں طے پانے والے معاہدے پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی، وہ امریکی وفد سے براہِ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی برقرار رکھنے، ایران پر عائد امریکی بحری پابندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔