امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق حملوں کا مقصد بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ایران کو ’بھاری قیمت‘ چکانے پر مجبور کرنا ہے۔
دوسری جانب جنوبی ایران میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں خطرے کی سطح بھی بڑھا دی گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے منگل کی شب ایران کے اندر متعدد فوجی اہداف پر حملوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حملے ان 3 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے ردِعمل میں کیے جا رہے ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے اور جن پر شہری عملہ سوار تھا۔
امریکی فوج نے ایرانی کارروائیوں کو بلا اشتعال اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
مزید پڑھیں
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو نشانہ بنانے پر ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گا اور خطے میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
ادھر امریکی حملوں کے اعلان کے ساتھ ہی ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران کے شہر بندر عباس، جزیرہ قشم اور ساحلی شہر
سیریک میں زور دار دھماکوں کی اطلاع دی۔
تاہم فوری طور پر ان دھماکوں کی نوعیت یا جانی و مالی نقصان سے متعلق کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہاز حملوں کا نشانہ بنے، جن میں قطر کی مائع قدرتی گیس LNG بردار ایک ٹینکر بھی شامل تھا۔
دوحہ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا، حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔
اسی دوران امریکی بحریہ کی قیادت میں قائم جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے لیے خطرے کی سطح زیادہ سے بڑھا کر انتہائی شدید کر دی۔
15 جون کے بعد پہلی بار خطرے کی سطح اس درجے تک بڑھائی گئی ہے۔ مرکز نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں تجارتی جہازوں کو دانستہ حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے تمام بحری جہاز زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں۔
سیاسی محاذ پر یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
گزشتہ ہفتے مذاکرات کا ایک اور دور کسی مستقل معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ امریکہ اپنی پالیسیوں کے باعث مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جا رہا ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں اپنے مفادات کے لیے ایک متبادل بحری راستہ قائم کرنا چاہتا ہے۔
ادھر ایک امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات ہرگز قابل قبول نہیں اور تہران کو اس کی سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ نے وہ عمومی لائسنس منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت حاصل تھی، تاکہ تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔
اس کے باوجود امریکی عہدیدار نے کہا کہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے اور امریکی مذاکرات کار نیک نیتی کے ساتھ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم خلیجی خطہ اس وقت حالیہ برسوں کی شدید ترین کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔