امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیئے جائیں گے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں 80 سے زائد فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کی، جبکہ ایران نے امریکہ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا۔
خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بحرین اور کویت میں بھی حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے خلاف اپنی سخت پالیسی مزید واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بیان انہوں نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد دیا۔
ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی ہے، اور مزید وقت ضائع کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایرانی حکام پر جھوٹ، دھوکے اور خطے میں بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
مزید پڑھیں
ان کا کہنا تھا کہ سعودی اور قطری بحری جہازوں پر حالیہ ایرانی حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان موجود تمام مفاہمت کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا اور اس مقصد کے لیے واشنگٹن فوجی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ایران سے متعلق معاملے پر نیٹو کے بعض اتحادیوں کا مؤقف جانچنے کی کوشش کی، تاہم ان کے مطابق امریکہ اپنی سلامتی کے لیے نیٹو پر انحصار نہیں کرتا۔
دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے انہیں انتہائی مضبوط ردعمل قرار دیا اور کہا کہ وہ ایران سے نمٹنے کے معاملے میں صدر ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یورپ سے ہزاروں طیاروں نے امریکی فوجی آپریشن کی معاونت کی، جبکہ ٹرمپ کے دفاعی اخراجات بڑھانے کے مطالبے کو بھی سراہا۔
میدانی صورتحال میں امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف نئی کارروائی مکمل کر لی ہے، جس میں 80 سے زائد اہداف کو انتہائی درست ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی بیان کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
سینٹکام کے مطابق حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار، بحری جہاز شکن میزائل صلاحیتیں اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد تیز رفتار کشتیاں تباہ کی گئیں، تاکہ ایران کی بین الاقوامی بحری تجارت کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور بنایا جا سکے۔
امریکی فوج نے الزام لگایا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں 3 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں مارشل آئی لینڈ کے پرچم بردار آئل ٹینکر آل رقیات، سعودی پرچم بردار ٹینکر ودیان اور لائبیریا کے پرچم بردار جہاز قبرص پروسپیریٹی شامل ہیں۔
واشنگٹن نے ان حملوں کو غیرقانونی، بلاجواز اور جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
ادھر ایران نے امریکی حملوں پر فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرے گا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے امریکی بحری اہداف پر میزائلوں اور ڈرون حملوں اور جنوبی ایران میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا۔
بحرین میں امریکی حملوں کے بعد صفارات بجا دی گئیں اور وزارت داخلہ نے شہریوں اور رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں بحرینی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا کر متعدد فضائی اہداف تباہ کر دیے۔
کویت نے بھی ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
کویتی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری سرخ لکیر ہے اور ریاست اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، خلیج میں حملوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، اور واشنگٹن کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے اعلان کے بعد سفارتی حل کی امیدیں مزید معدوم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔