آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں پر موجود ہزاروں کی تعداد میں عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، جہاں وہ 4 ماہ سے زائد عرصے سے محصور ہیں۔
مزید پڑھیں
خوراک، پینے کے صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کے باعث یہ جہاز اب سمندر پر تیرتے ہوئے جیل خانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق اب تک 136 جہازوں سے تقریباً 2900 افراد کو نکالا جا چکا ہے، تاہم 8 ہزار افراد تاحال سمندر میں پھنسے ہیں۔
انخلا کا عمل 23 جون کو شروع ہوا تھا، مگر اب سیکیورٹی ضمانتیں نہ
ملنے پر اسے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
یہ صورتحال 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران امریکہ جنگ کے بعد پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں تہران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تھی۔
17 جون کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد عارضی جنگ بندی ہوئی، جس سے بحری نقل و حمل کی بحالی کی امید پیدا ہوئی تھی۔
تاہم خلیج عمان میں ایک جہاز پر حملے کے بعد انخلا کا عمل معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز ان ہدایات پر عمل نہیں کر رہا تھا جو انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کی تھیں۔
اس کے بعد سے اب ایک بار پھر پھنسے ہوئے عملے کی نظریں دوحہ میں جاری مذاکرات پر مرکوز ہیں۔
قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت تو ہوئی ہے، لیکن حتمی معاہدے کی راہ ابھی طویل ہے۔
جہازوں کے عملے کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال جلد نہ سنبھلی تو انہیں مزید طویل عرصہ اپنے اہل خانہ سے دُور رہنا پڑے گا۔
محصور افراد کا کہنا ہے کہ وہ خوراک اور پانی کی راشننگ پر مجبور ہیں کیونکہ سپلائی کی ترسیل انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔
چھوٹی کمپنیوں کے جہازوں پر کام کرنے والے عملے کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی سامنا ہے، جس سے ان کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
بہت سے افراد کے معاہدے بھی اس دوران ختم ہو چکے ہیں اور انہیں نئے عملے سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ عمل ناممکن بنا ہوا ہے۔
اس صورت حال میں عراق اور کویت سمیت خلیجی ممالک نے بھی مختصر مدت کے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے، جس سے عملے کی واپسی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ آرسینیو ڈومنگیز کے مطابق اس تنازع میں اب تک عملے کے 14 افراد ہلاک اور 40 سے زائد تجارتی جہاز حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
فی الحال ان محصور لوگوں کی واحد امید جاری مذاکرات کی کامیابی اور سیکیورٹی ضمانتوں کی بحالی سے وابستہ ہے۔