سعودی عرب نے آزمائشی بنیادوں پر "ٹورازم پیکیج ویزا" متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت سیاح ایک ہی ڈیجیٹل پیکیج میں ویزا، فلائٹ، ہوٹل، انشورنس اور تفریحی سرگرمیوں کی بکنگ کر سکیں گے۔
اس اقدام کا مقصد سیاحوں کے لیے سفر کو آسان بنانا، سیاحتی آمدنی بڑھانا اور وژن 2030 کے اہداف کو مزید تقویت دینا ہے۔
سعودی وزارتِ سیاحت نے ’سیاحتی پیکیج ویزا‘ Tourism Package Visa کی آزمائشی مرحلے میں لانچنگ کر دیا ہے۔
اس نئی سروس کا مقصد بین الاقوامی سیاحوں کے لیے سفر کے تمام مراحل کو ایک ہی مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے، جہاں ویزا، فضائی ٹکٹ، ہوٹل بکنگ، انشورنس، اور ضرورت کے مطابق تفریحی سرگرمیوں اور سیاحتی تجربات کو ایک ہی پیکیج میں شامل کیا جا سکے۔
وزارتِ سیاحت کے ترجمان نصر الانصاری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ اقدام مملکت کی اس حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جس کے تحت پہلے ہی الیکٹرانک ویزا، ٹرانزٹ ویزا اور آن ارائیول ویزا جیسی سہولتیں متعارف کرائی جا چکی ہیں تاکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے سعودی عرب تک رسائی مزید آسان بنائی جا سکے۔
مزید پڑھیں
ایک ہی پیکیج میں مکمل سفری سہولت
نصر الانصاری کے مطابق یہ نئی سروس روایتی سیاحتی ویزا سے مختلف ہے، کیونکہ اس کے ذریعے منظور شدہ ٹریول اینڈ ٹورازم کمپنیوں کے ذریعے سیاح کو ایک مکمل پیکیج فراہم کیا جائے گا، جس میں ویزا، فضائی سفر، رہائش، انشورنس اور دیگر ضروری خدمات شامل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ اب سیاح کو مختلف مراحل الگ الگ مکمل کرنے کی
ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ وہ سفر کی منصوبہ بندی سے لے کر سعودی عرب پہنچنے تک تمام انتظامات ایک ہی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دے سکے گا، جس سے سفر مزید آسان، منظم اور آرام دہ ہو جائے گا۔
نئے عالمی سیاحتی بازاروں تک رسائی
وزارت کے مطابق ’سیاحتی پیکیج ویزا‘ سعودی عرب کو دنیا کے مزید نئے سیاحتی بازاروں اور مختلف اقسام کے مسافروں تک پہنچنے میں مدد دے گا۔
اس سے قبل الیکٹرانک ویزا کے ذریعے مملکت نے 66 ممالک کے شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے۔
اس نئی سہولت کے ذریعے نہ صرف سعودی سیاحتی مقامات کی کشش میں اضافہ ہوگا بلکہ مختلف ممالک کی ضروریات کے مطابق خصوصی سیاحتی پیکیجز بھی تیار کیے جا سکیں گے۔
تفریحی سرگرمیاں بھی پیکیج کا حصہ
اس ویزا سروس کے تحت سیاح اپنے پیکیج میں تقریبات، ثقافتی پروگرام، سیاحتی سرگرمیوں اور تفریحی تجربات کے ٹکٹ بھی شامل کر سکیں گے، جس سے انہیں مملکت کے مختلف علاقوں کی متنوع سیاحتی سہولتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف سیاحوں کے لیے سہولت بڑھے گی بلکہ ان کے قیام کا دورانیہ، سیاحتی اخراجات اور مقامی سرگرمیوں پر خرچ بھی بڑھنے کی توقع ہے۔
وژن 2030 کے اہداف کو تقویت
نصر الانصاری نے کہا کہ یہ منصوبہ سعودی وژن 2030 کے اہم اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں اضافہ، سیاحتی آمدنی میں نمو، ہوٹلوں کی شرحِ رہائش میں بہتری اور لائسنس یافتہ سیاحتی کاروباروں کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت نے اس منصوبے کے معاشی فوائد کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم پیکیج قیمت اور قیام کی مدت سمیت بعض ضوابط بھی مقرر کیے ہیں تاکہ قومی معیشت پر اس کے مثبت اثرات زیادہ سے زیادہ ہوں۔
نجی شعبے کے لیے نئے مواقع
یہ نئی سروس منظور شدہ ٹریول اینڈ ٹورازم کمپنیوں کو بھی وسیع کاروباری مواقع فراہم کرے گی، تاکہ وہ ویزا، ٹرانسپورٹ، رہائش اور ثقافتی و تفریحی سرگرمیوں پر مشتمل جدید سیاحتی پیکیجز تیار کر سکیں۔
خدمات کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے وزارت نے 24 گھنٹے فعال کال سینٹر، تکنیکی معاونت اور مرکزی ڈیجیٹل نظام سے براہِ راست رابطے جیسی شرائط بھی مقرر کی ہیں۔
آزمائشی مرحلے کا جائزہ
وزارتِ سیاحت کے مطابق آزمائشی مرحلے کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد، وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، سعودی ٹورازم اتھارٹی اور انشورنس اتھارٹی کے تعاون سے اس منصوبے کو مزید وسعت دینے پر غور کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں متعارف کرایا گیا ہے جب سعودی عرب وژن 2030 کے مقررہ وقت سے پہلے ہی 100 ملین سے زائد زائرین کی میزبانی کا ہدف حاصل کر چکا ہے، جو مملکت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے سیاحتی شعبے کی عکاسی کرتا ہے۔
سیاحت میں مصنوعی ذہانت کا فروغ
اس اقدام کے ساتھ ساتھ وزارتِ سیاحت مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید سیاحتی نظام بھی تیار کر رہی ہے۔
نصر الانصاری کے مطابق وزارت نے ’ٹورازم ایکس‘ Tourism X پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس میں اس وقت مصنوعی ذہانت سے چلنے والی 6 جدید ڈیجیٹل سروسز دستیاب ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’اسمارٹ انسپکٹر‘ اور ’اسمارٹ اکاموڈیشن‘ سمیت متعدد جدید منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ آئندہ 3 برسوں کے دوران 20 سے زائد نئے ڈیجیٹل مصنوعات متعارف کرائی جائیں گی، تاکہ سعودی سیاحتی شعبہ دنیا کے جدید ترین، پائیدار اور مسابقتی نظاموں میں شامل ہو سکے۔