یورپی یونین نے اپنی مالی خودمختاری کو مستحکم کرنے اور امریکی ادائیگیوں کے نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل یورو کے قیام کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
مزید پڑھیں
یورپی پارلیمنٹ نے اس پروجیکٹ کے لیے مذاکرات کا حتمی مرحلہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
قانون سازی
یورپی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے اپنی مذاکراتی پوزیشن واضح کی ہے، جس سے اب یورپی یونین کونسل کے ساتھ حتمی قانون سازی پر بات چیت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ 2026 کے اختتام تک اس منصوبے کی حتمی شکل طے کر لی جائے۔
منصوبے کے مطابق 2027 میں اس کا ابتدائی تجرباتی پروگرام شروع کیا جائے گا اور اگر تمام قانونی تقاضے بروقت پورے ہو گئے تو توقع ہے کہ 2029 تک ڈیجیٹل یورو عام صارفین کے لیے دستیاب ہو جائے گا، جو مالی نظام میں ایک نئی تبدیلی لائے گا۔
امریکی ادائیگیوں کے نظام کا متبادل
یورپی یونین کے نزدیک ڈیجیٹل یورو کا اجرا ایک اسٹریٹجک اقدام ہے۔
فی الحال مارکیٹ پر امریکی کمپنیوں جیسے ویزا اور ماسٹر کارڈ کے علاوہ ایپل پے اور گوگل پے جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا غلبہ ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل یورو اس اجارہ داری کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ ڈیجیٹل یورو دراصل یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے جاری کردہ نقد رقم کا الیکٹرانک ورژن ہوگا۔
اس کا مقصد روایتی کرنسی اور بینکنگ خدمات کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں، بلکہ انہیں مزید جدید سہولیات کے ساتھ تقویت پہنچانا ہے۔
سہولیات اور صارفین کی رازداری
مجوزہ منصوبے کے تحت صارفین ڈیجیٹل والٹس میں ایک مخصوص حد تک ڈیجیٹل یورو رکھ سکیں گے۔
اس میں انٹرنیٹ کے بغیر بھی ادائیگی کرنے کی سہولت موجود ہوگی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صارفین کی رازداری کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔
یورپی سینٹرل بینک براہِ راست ادائیگیوں کے ڈیٹا کے ذریعے کسی صارف کی شناخت ظاہر نہیں کر سکے گا۔
اس نظام کا بنیادی ڈھانچہ سینٹرل بینک چلائے گا، جبکہ کمرشل بینک اور پیمنٹ سروس پرووائیڈرز صارفین کو براہِ راست خدمات فراہم کریں گے، جس سے نظام میں شفافیت برقرار رہے گی۔
یورپی یونین کا تاریخی مالیاتی منصوبہ
امریکی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے ڈیجیٹل یورو کا روڈ میپ
منصوبے کی حتمی قانونی شکل کا ہدف
ابتدائی تجرباتی پروگرام کا آغاز
عام صارفین کے لیے دستیابی کی توقع
ویزہ، ماسٹر کارڈ اور گوگل پے پر انحصار کم کرنا بنیادی ہدف ہے۔
نظام میں انٹرنیٹ کے بغیر ادائیگی اور مکمل رازداری کی سہولت ہوگی۔
یہ نقد رقم کا لازمی متبادل نہیں بلکہ ایک اضافی انتخاب ہوگا۔
مذاکرات میں درپیش اہم رکاوٹیں
سیاسی اتفاقِ رائے کے باوجود اس حوالے سے مذاکرات میں کچھ پیچیدہ مسائل تاحال موجود ہیں۔
سب سے بڑا مسئلہ بینکوں اور ادائیگیوں کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے معاوضے کے طریقہ کار کا تعین کرنا ہے۔ اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ مختلف فریقین کے درمیان فیس کا بٹوارہ کیسے ہوگا۔
اسی طرح تاجروں پر عائد ہونے والی فیس بھی ایک اہم موضوع ہے۔
مذاکرات کاروں کی کوشش ہے کہ یہ فیس موجودہ کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز پر لاگو فیس سے کم رکھی جائے۔ ان تمام امور پر حتمی فیصلے کے لیے رواں سال موسمِ خزاں کو انتہائی فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل یورو: ایک اختیاری انتخاب
یورپی پارلیمنٹ کے سینئر مذاکرات کار فرناندو روخاس نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل یورو شہریوں کے لیے ایک اضافی سہولت ہوگا، نہ کہ نقد رقم کا لازمی متبادل۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد صارفین کو ڈیجیٹل دور میں ایک محفوظ اور خود مختار متبادل فراہم کرنا ہے۔
مجموعی طور پر ڈیجیٹل یورو کا یہ منصوبہ یورپی معیشت کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کی ایک وسیع کوشش ہے۔
2029 تک اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو یہ یورپی مالیاتی تاریخ میں ایک نئی ڈیجیٹل حقیقت کے طور پر ابھرے گا۔