براہ راست نشریات

ہرمز میں جاری کشیدگی: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تیل کی قیمتیں

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور ایران امریکہ بڑھتی فوجی محاذ آرائی نے عالمی توانائی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

اس صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کے لیے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

تیل کی بڑھتی قیمتیں 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام کے ساتھ ہفتہ وار بنیادوں پر منافع ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ 

برینٹ خام تیل کی قیمت 76.2 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 72.1 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ برینٹ 6 فیصد اور امریکی خام تیل 5 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی نقل و حمل تقریباً معطل ہونے کے باعث منڈیوں میں ایک غیر یقینی صورت حال ہمہ وقت موجود ہے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بڑی جنگ کے امکان کو مسترد کیا ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں نے سپلائی کے تسلسل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

تیل کے ٹینکرز اور ایرانی تیل کی پیداوار میں کمی کو ظاہر کرتا گرافک یا تصویر
گنجائش ختم ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ’اسکریپ اسٹوریج‘ کا استعمال ہو رہا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران امریکہ کشیدگی اور سپلائی چین پر اثرات

ایران امریکہ حالیہ فوجی کارروائیوں میں تہران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جو ایران کے ساحلی اور جنوبی علاقوں پر امریکی فضائی بمباری کا ردعمل تھے۔ اس کشیدگی نے جہاز رانی کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قطری ایل این جی ٹینکر پر حملے کے بعد بحری جہازوں کے مالکان محتاط ہو گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے، وہاں نقل و حمل کے تعطل نے عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جس سے انشورنس کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

بھارت کی ہنگامی حکمت عملی

تیل کی سپلائی میں تعطل کے خدشات کے پیش نظر بھارت نے اپنے قومی اسٹریٹجک تیل ذخائر کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈین آئل اینڈ گیس کارپوریشن مانگالور میں 1.75 ملین ٹن خام تیل ذخیرہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اقدام 28 فروری سے جاری ہرمز بحران کے اثرات سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

عالمی معیشت میں حکومتی بانڈز کی فروخت، افراطِ زر کا گراف اور خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کا خاکہ
آبنائے ہرمز کے عملی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

بھارت کے پاس مانگالور، پادور اور ویزاگ میں 5.33 ملین ٹن کی گنجائش موجود ہے۔

ادنوک (ADNOC) کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کے تحت بھارت اس ذخیرہ اندوزی کو 30 ملین بیرل تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کی توانائی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

سونے کی منڈی اور عالمی معاشی اثرات

سونے کی قیمت 4122 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم ہے، تاہم اسے 1.4 فیصد کی ہفتہ وار تنزلی کا سامنا ہے۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں افراطِ زر میں اضافہ کریں گی، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو اپنی مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کر سکتا ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

دریں اثنا ایچ ایس بی سی بینک نے 2026 اور 2027 کے لیے سونے کی قیمتوں کے تخمینے کم کر دیے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ سخت امریکی مانیٹری پالیسی اور ڈالر کی مضبوطی سونے کی طلب پر اثر انداز ہوگی۔

آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کے خریدار بھی اب محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں  آبنائے ہرمز کا بحران نہ صرف توانائی کی قیمتوں بلکہ عالمی مالیاتی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ 

اگرچہ امریکہ کی جانب سے توانائی کے انفرا اسٹرکچر کو ہدف نہ بنانے کا بیان منڈیوں کو کچھ اطمینان فراہم کررہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کے معاشی مضمرات عالمی افراطِ زر اور شرحِ سود کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔