آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور ایران امریکہ بڑھتی فوجی محاذ آرائی نے عالمی توانائی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کے لیے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
تیل کی بڑھتی قیمتیں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام کے ساتھ ہفتہ وار بنیادوں پر منافع ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 76.2 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 72.1 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ برینٹ 6 فیصد اور امریکی خام تیل 5 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی نقل و حمل تقریباً معطل ہونے کے باعث منڈیوں میں ایک غیر یقینی صورت حال ہمہ وقت موجود ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بڑی جنگ کے امکان کو مسترد کیا ہے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں نے سپلائی کے تسلسل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ایران امریکہ کشیدگی اور سپلائی چین پر اثرات
ایران امریکہ حالیہ فوجی کارروائیوں میں تہران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جو ایران کے ساحلی اور جنوبی علاقوں پر امریکی فضائی بمباری کا ردعمل تھے۔ اس کشیدگی نے جہاز رانی کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قطری ایل این جی ٹینکر پر حملے کے بعد بحری جہازوں کے مالکان محتاط ہو گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے، وہاں نقل و حمل کے تعطل نے عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جس سے انشورنس کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔
بھارت کی ہنگامی حکمت عملی
تیل کی سپلائی میں تعطل کے خدشات کے پیش نظر بھارت نے اپنے قومی اسٹریٹجک تیل ذخائر کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انڈین آئل اینڈ گیس کارپوریشن مانگالور میں 1.75 ملین ٹن خام تیل ذخیرہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اقدام 28 فروری سے جاری ہرمز بحران کے اثرات سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔
بھارت کے پاس مانگالور، پادور اور ویزاگ میں 5.33 ملین ٹن کی گنجائش موجود ہے۔
ادنوک (ADNOC) کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کے تحت بھارت اس ذخیرہ اندوزی کو 30 ملین بیرل تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کی توانائی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
سونے کی منڈی اور عالمی معاشی اثرات
سونے کی قیمت 4122 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم ہے، تاہم اسے 1.4 فیصد کی ہفتہ وار تنزلی کا سامنا ہے۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں افراطِ زر میں اضافہ کریں گی، جس کے نتیجے میں امریکی فیڈرل ریزرو اپنی مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کر سکتا ہے۔
دریں اثنا ایچ ایس بی سی بینک نے 2026 اور 2027 کے لیے سونے کی قیمتوں کے تخمینے کم کر دیے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ سخت امریکی مانیٹری پالیسی اور ڈالر کی مضبوطی سونے کی طلب پر اثر انداز ہوگی۔
آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سونے کے خریدار بھی اب محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کا بحران نہ صرف توانائی کی قیمتوں بلکہ عالمی مالیاتی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
اگرچہ امریکہ کی جانب سے توانائی کے انفرا اسٹرکچر کو ہدف نہ بنانے کا بیان منڈیوں کو کچھ اطمینان فراہم کررہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کے معاشی مضمرات عالمی افراطِ زر اور شرحِ سود کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔