براہ راست نشریات

دنیا میں مہنگائی، خلیجی ممالک نے قیمتوں کو کیسے قابو میں رکھا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خلیجی ممالک میں مہنگائی

Overseas Post | خصوصی اقتصادی رپورٹ
خلیجی شماریاتی مرکز کے مطابق 2025 میں خلیجی ممالک میں اوسط مہنگائی صرف 1.8 فیصد رہی، جو مسلسل دوسرے سال بھی 2 فیصد سے کم ہے۔
یہ شرح عالمی اوسط اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس سے نہ صرف معاشی استحکام بلکہ خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کی قوتِ خرید اور بچت پر بھی مثبت اثر پڑنے کی توقع ہے۔

ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی بڑے ممالک اب بھی مہنگائی، بلند شرحِ سود اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت سے نبرد آزما ہیں، خلیجی ممالک نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ ان کی معیشتیں قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔

خلیجی شماریاتی مرکز GCC-Stat کی تازہ رپورٹ کے مطابق خلیجی تعاون کونسل GCC کے رکن ممالک میں 2025 کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح صرف 1.8 فیصد رہی، جو 2024 میں 1.6 فیصد تھی۔ 

یوں مسلسل دوسرے سال بھی مہنگائی 2 فیصد سے کم رہی، جو عالمی معیار کے مطابق انتہائی کم اور مستحکم سطح سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ اعداد و شمار اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ اسی عرصے میں عالمی اوسط مہنگائی 4.2 فیصد جبکہ ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں 5.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ امریکہ، جاپان، یورپی یونین اور یورو زون میں بھی مہنگائی کی شرح خلیجی ممالک سے زیادہ رہی۔

رہائش نے سب سے زیادہ اثر ڈالا

رپورٹ کے مطابق رہائش اور متفرق اشیا و خدمات وہ دو شعبے رہے جنہوں نے مجموعی مہنگائی میں تقریباً 73 فیصد حصہ ڈالا۔

ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ صحت، مواصلات اور گھریلو سامان کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بعض شہروں میں کرایوں میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم ایندھن، ٹرانسپورٹ اور متعدد بنیادی خدمات کی قیمتوں میں استحکام نے مجموعی مہنگائی کو قابو میں رکھا۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

2022 کے بعد مسلسل بہتری

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں مہنگائی 2022 میں 3.2 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی، لیکن اس کے بعد مسلسل کمی آئی۔

  • 2022: 3.2%
  • 2023: 2.3%
  • 2024: 1.6%
  • 2025: 1.8%

اگرچہ 2025 میں معمولی اضافہ ہوا، مگر مجموعی طور پر قیمتوں کا استحکام برقرار رہا، جو عالمی معاشی بے یقینی کے ماحول میں ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

مہنگائی کم کیوں رہی؟

رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں خوراک کی قیمتوں میں کمی نے درآمدی مہنگائی کا دباؤ کم کیا۔

ChatGPT Image 13 يوليو 2026، 03 04 32 م

اس کے علاوہ خلیجی حکومتوں کی محتاط مالیاتی و اقتصادی پالیسیاں، مضبوط کرنسیوں، توانائی کے وسائل کی دستیابی اور مستحکم سپلائی چین نے بھی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی اور قدرتی گیس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مستقبل میں مہنگائی پر دوبارہ دباؤ ڈال سکتے ہیں، اس لیے صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی تارکین کے لیے اس کی اہمیت کیا ہے؟

خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہ خبر خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کم مہنگائی کا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ اخراجات نسبتاً قابو میں رہتے ہیں، تنخواہ کی حقیقی قوتِ خرید برقرار رہتی ہے اور بچت و وطن بھیجی جانے والی رقوم پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔

خصوصی رپورٹ
صرف آپ کے لیے، کلک کریں

اگرچہ بعض بڑے شہروں میں رہائش کے اخراجات اب بھی ایک چیلنج ہیں، لیکن مجموعی طور پر خلیجی ممالک میں قیمتوں کا استحکام تارکینِ وطن کے لیے ایک نسبتاً سازگار معاشی ماحول فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان سے مختصر موازنہ

یہ صورتحال پاکستان سے خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ 

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے دو ہندسوں بلکہ بعض ادوار میں 20 سے 30 فیصد سے زائد مہنگائی کا سامنا کیا، جس نے عام شہری کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا۔ 

اگرچہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم اس کی سطح اب بھی خلیجی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

ChatGPT Image 13 يوليو 2026، 03 11 36 م

اسی لیے خلیجی ممالک میں 1.8 فیصد کی مہنگائی نہ صرف معاشی استحکام کی علامت سمجھی جا رہی ہے بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ ایک ایسا ماحول بھی فراہم کرتی ہے جہاں آمدنی، اخراجات اور بچت کے درمیان بہتر توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

آگے کیا؟

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر عالمی توانائی کی منڈی میں شدید جھٹکے نہ آئے اور خطے میں جغرافیائی کشیدگی مزید نہ بڑھی تو خلیجی ممالک آئندہ بھی دنیا کے کم مہنگائی والے خطوں میں شامل رہ سکتے ہیں۔

یہ استحکام نہ صرف سرمایہ کاری، کاروبار اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سازگار ہے بلکہ خلیج میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے مالی مستقبل کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

📊 اس اقتصادی رپورٹ کے ذرائع 8 معتبر ذرائع
جی سی سی شماریاتی مرکز
خلیجی سرکاری شماریاتی ادارہ
رپورٹ ↗
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)
ورلڈ اکنامک آؤٹ لک
رپورٹ ↗
ورلڈ بینک
عالمی معاشی اعداد و شمار
ڈیٹا ↗
کامکو انویسٹ
خلیجی مہنگائی تجزیاتی رپورٹ
رپورٹ ↗
عرب نیوز
اقتصادی رپورٹ
خبر ↗
OECD
عالمی افراطِ زر ڈیٹا
ڈیٹا ↗
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس
پاکستان میں مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار
اعداد و شمار ↗
اسٹیٹ بینک آف پاکستان
مانیٹری پالیسی اور معاشی رپورٹس
رپورٹ ↗
یہ رپورٹ خلیجی سرکاری شماریاتی اداروں، بین الاقوامی مالیاتی تنظیموں، عالمی اقتصادی ڈیٹا بیس اور پاکستان کے سرکاری اقتصادی اداروں سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

BY: overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے