سعودی عرب 2027 تک 11 بنیادی ویکسین مقامی سطح پر تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جن سے ملک کی تقریباً 70 فیصد قومی ضرورت پوری ہوگی۔
اس اقدام کا مقصد ادویاتی تحفظ مضبوط کرنا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور حیاتیاتی صنعت میں سعودی افرادی قوت کا حصہ بڑھانا ہے۔
سعودی عرب نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور دواسازی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ برس سے موسمی فلو سمیت 11 بنیادی ویکسینوں کی مقامی پیداوار شروع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
اس منصوبے کا مقصد 2027 کی چوتھی سہ ماہی تک ملک کی تقریباً 70 فیصد ویکسین کی ضروریات مقامی سطح پر پوری کرنا اور قومی ادویاتی سلامتی Drug Security کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ منصوبہ سعودی عرب کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت مملکت حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ادویات اور ویکسین سازی کی صنعت کو مقامی بنانے پر تیزی سے کام کر رہی ہے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور سعودی عرب خطے میں دواسازی کا ایک اہم مرکز بن سکے۔
ڈاکٹر خالد الموسیٰ، جو اعلیٰ کمیٹی برائے تحقیق، ترقی اور اختراع کے رکن
اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی صنعت کو مقامی بنانے والے سابق گروپ کے بانی و سابق چیئرمین ہیں، نے بتایا کہ سعودی عرب کا ہدف 2027 کے اختتام تک 11 بنیادی ویکسینوں کی مقامی تیاری ہے، جو ملک کی تقریباً 70 فیصد قومی ضرورت کو پورا کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں عالمی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی منتقل کی جائے گی، جبکہ بعد کے مراحل میں تحقیق، تیاری اور پیکجنگ سمیت پوری مینوفیکچرنگ چین کو سعودی عرب میں مکمل طور پر مقامی بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قومی تربیتی پروگرام کے تحت حیاتیاتی صنعت میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کا تناسب 80 فیصد تک بڑھانے کا بھی ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے مقامی افرادی قوت کو جدید تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔
اسی دوران سعودی وزارتِ صنعت و معدنی وسائل کی ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت کی دواسازی اور طبی آلات کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
اس وقت سعودی عرب میں 206 فعال ادویات اور طبی آلات کے کارخانے موجود ہیں، جن میں 56 لائسنس یافتہ دوا ساز فیکٹریاں شامل ہیں، جبکہ ان پر مجموعی سرمایہ کاری 7 ارب سعودی ریال سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران سعودی دواسازی کی مارکیٹ میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ کا حجم 8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں ادویات کی درآمد پر انحصار بھی 80 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد رہ گیا، جو مقامی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی واضح علامت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارے Fortune Business Insights کے مطابق سعودی عرب کی فارماسیوٹیکل مارکیٹ کی مالیت 2024 میں 10.5 ارب ڈالر رہی، جو 2025 میں 10.86 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2032 تک 16.52 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اس عرصے میں مارکیٹ کی اوسط سالانہ شرح نمو 6.18 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت صرف سعودی عرب کی صنعتی حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے بھی اہم خبر ہے، کیونکہ مضبوط مقامی دواسازی کی صنعت مستقبل میں ادویات کی دستیابی، سپلائی چین کے استحکام اور صحت کے شعبے میں نئی ملازمتوں اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔