یورپی یونین نے پیر کے روز سوڈان پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کا بنیادی ہدف ملک میں جاری عسکری تنازع کو ایندھن فراہم کرنے والی سونے کی تجارت ہے۔
مزید پڑھیں
یورپی کونسل کے مطابق یہ فیصلہ جنگی سرگرمیوں کے مالی وسائل بند کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور نئے فیصلے کے تحت سوڈانی سونے کی خریداری، درآمد اور نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سوڈان کو مرکری اور سائینائیڈ کی فروخت، سپلائی، منتقلی اور برآمد پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے تاکہ کان کنی کے عمل کو محدود کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اپریل 2023ء کے وسط سے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جنگ نے ملک کو بڑے انسانی بحران سے دوچار کررکھا ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق فریقین اپنی جنگی سرگرمیوں کے لیے سونے کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔
سوڈان براعظم افریقہ میں سونے کا تیسرا بڑا پیداواری ملک ہے اور یہ شعبہ ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ جولائی 2011ء میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے بعد تیل کی 3 چوتھائی آمدنی سے محروم ہونے کے بعد سوڈان کا انحصار سونے پر بڑھ گیا ہے۔
سوڈانی سونے پر یورپی یونین کی پابندیاں
عسکری تنازع کے مالی وسائل بند کرنے کے لیے بڑا فیصلہ
بنیادی ہدف
سونے کی خریداری، درآمد اور نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد۔
کان کنی پر ضرب
سونے کی تیاری میں استعمال ہونے والے مرکری اور سائینائیڈ کی سپلائی معطل۔
افریقہ میں پیداواری پوزیشن
3وابستہ روزگار (افراد)
2000000سالانہ پیداوار بمقابلہ سرکاری برآمدات (ٹن)
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ملک میں کان کنی کا شعبہ 20 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے جو مجموعی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد حصہ نکالتے ہیں۔
یہ قیمتی دھات سوڈان کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ ہے، جس کے تحفظ کے لیے حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
گزشتہ اپریل میں سوڈان کے وزیر معدنیات نور الدائم طہ نے انکشاف کیا تھا کہ سونے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے الیکٹرانک نگرانی اور سیکیورٹی اداروں پر مشتمل مشترکہ فورس تشکیل دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ برآمد کنندگان کے لیے مراعاتی پالیسیاں بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ وزیر معدنیات کے مطابق سوڈان سونے کی پیداوار میں عرب دنیا میں پہلے اور افریقہ میں تیسرے نمبر پر ہے۔
وزارت معدنیات کے ذیلی ادارے منرل ریسورسز کمپنی کے مطابق گزشتہ برس سوڈان میں 70 ٹن سونا پیدا ہوا، تاہم مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 14.5 ٹن سونا سرکاری ذرائع سے برآمد کیا گیا۔