اہم خبریں
11 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

طبی انقلاب: دنیا کی پہلی اے آئی سے تیار ویکسین کا انسانوں پر تجربہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویکسین اور طبی سائنس میں انسانی تجربے کا منظر
یہ ویکسین کورونا کی تمام اقسام سمیت وبائی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک منفرد سنگ میل عبور کرتے ہوئے ماہرین نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ویکسین کا انسانی تجربہ شروع کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ ویکسین کورونا وائرس کی تمام اقسام سمیت مستقبل میں جنم لینے والی وبائی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین کا کارنامہ

کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے تیار کردہ اس ویکسین کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا مرکزی جزو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ 

جریدے ’سائنس الرٹ‘ کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جہاں اے آئی سے تیار ویکسین انسانوں میں آزمائی جا رہی ہے۔

کورونا اور دیگر وائرسز سے تحفظ

یہ ویکسین خاص طور پر کورونا وائرس کی تمام اقسام (ویرینٹس) کے خلاف مزاحمت کے لیے بنائی گئی ہے۔

تاہم، اس کا دائرہ کار کووڈ ہی تک محدود نہیں، بلکہ یہ چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے ان وائرسز کو بھی روک سکتی ہے جو مستقبل میں نئی عالمی وبا کا سبب بن سکتے ہیں۔

vaccine vial dose and syringe against pale blue ba 2026 01 06 09 36 58 utc

ویکسین کام کیسے کرتی ہے؟

ویکسینز جسم کے مدافعتی نظام میں انفیکشن کو پہچاننے کی تربیت دیتی ہیں، تاہم وائرسز کے مسلسل بدلتے اسٹرکچر کی وجہ سے پرانی ویکسینز جلد غیر مؤثر ہو جاتی ہیں۔

نئی تحقیق میں ہزاروں وائرسز کا جینیاتی ڈیٹا اینالائز کرکے اُن حصوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے جو تبدیل نہیں ہوتے، جس سے دیرپا تحفظ ملتا ہے۔

اے آئی کا بنیادی کردار

تحقیقی ٹیم نے ’ساربی کو وائرس‘ فیملی کے ڈیٹا کو اے آئی کی مدد سے کھنگالا۔ اس فیملی میں سارس، کووڈ-19 اور جانوروں میں پائے جانے والے کورونا وائرس شامل ہیں۔

اے آئی نے ان وائرسز میں موجود مشترکہ خصوصیات تلاش کیں جو ارتقائی عمل کے دوران بھی تبدیل نہیں ہوئیں اور پھر انہیں ویکسین کی بنیاد بنایا گیا۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور عالمی ادارہ صحت کی امدادی سرگرمیاں
71 نئے کیسز میں سے 65 کا تعلق ایتوری ریجن اور 6 کا شمالی کیوو ریجن سے ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مستقبل کی حکمت عملی

کیمبرج کے پروفیسر جوناتھن ہینی کا کہنا ہے کہ انسانیت اکثر وبائی امراض سے ہار جاتی ہے، مگر اس ٹیکنالوجی کا مقصد وائرس سے ایک قدم آگے رہنا ہے۔

اس ویکسین کا ابتدائی تجربہ 39 افراد پر کیا گیا ہے، جبکہ 200 افراد پر مشتمل اگلا تجربہ اس ویکسین کی افادیت کو مزید واضح کرے گا۔

دیگر جان لیوا بیماریوں پر تحقیق

ماہرین اب اس ٹیکنالوجی کو دیگر بیماریوں کے خلاف بھی استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً اس وقت جانوروں پر فلو اور ایبولا جیسی بیماریوں کے خلاف ویکسینز پر کام جاری ہے۔

اسی طرح برڈ فلو (H5N1) اور کانگو میں پھیلنے والے مہلک ایبولا وائرس کے خلاف بھی ویکسین کی تیاری کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہیلتھ ایمرجنسی کا خاکہ
پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی اب تک ایک ہلاکت اور ایک مشتبہ کیس کی تصدیق کی جا چکی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویکسین کی تیاری طبی سائنس میں ایک انقلابی تبدیلی ہے۔

اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو دنیا کو ہر سال نئی ویکسین اپ ڈیٹ کرنے کے بجائے مستقل تحفظ حاصل ہو جائے گا، جو نہ صرف انسانی زندگیوں کو محفوظ بنائے گا بلکہ عالمی معیشت کو وبائی نقصانات سے بھی بچائے گا۔