پولینڈ میں دو ہزار سے زیادہ عام شہری 24 کروڑ سال پرانے میسٹوڈون سارس کے نایاب ڈھانچے کی بحالی میں سائنس دانوں کی مدد کررہے ہیں۔
مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے رضاکار خصوصی تربیت کے بعد چٹان کو ملی میٹر بہ ملی میٹر ہٹاتے ہیں۔
یہ جانور ڈائنوسار نہیں بلکہ ایک دیوقامت آبی جل تھلیا اور خطرناک شکاری تھا۔
اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔
یہ تجربہ شہری سائنس کے تصور پر مبنی ہے، جس کے تحت عام لوگوں کو صرف تماشائی بنانے کے بجائے حقیقی سائنسی تحقیق میں شریک کیا جاتا ہے۔
اس ڈھانچے کی کہانی 2023 میں جنوبی پولینڈ کے علاقے میداری سے شروع ہوئی۔
کھدائی کا آخری دن تھا اور ٹیم جگہ کو محفوظ کرکے گھروں کو واپس جانے کی تیاری کررہی تھی کہ اچانک زمین کا ایک کمزور حصہ ٹوٹا اور اس کے نیچے موجود سخت چٹان میں ہڈیاں دکھائی دینے لگیں۔
سائنس دانوں نے ابتدا میں سمجھا کہ شاید چند الگ الگ ہڈیاں ملی ہیں، جنہیں چھوٹے حصوں میں نکال کر تجربہ گاہ میں دوبارہ جوڑا جاسکتا ہے۔
لیکن کھدائی آگے بڑھی تو ٹکڑوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباً 50 تک پہنچ گئی۔
محقق ووجچیخ پاولاک نے غور سے دیکھا تو یہ ٹکڑے پسلیوں کی باقاعدہ ترتیب اختیار کرتے دکھائی دیے۔
تب ٹیم کو احساس ہوا کہ سامنے کوئی تنہا ہڈی نہیں بلکہ ایک بڑے جانور کا تقریباً مکمل ڈھانچہ موجود ہے۔
اس نسل کے سب سے بڑے جانور تقریباً 6 میٹر تک لمبے ہوسکتے تھے۔
تاہم درست اعداد کے مطابق پولینڈ سے نکالے گئے موجودہ ڈھانچے کی لمبائی تقریباً اڑھائی میٹر ہے، جبکہ6 میٹر اس نوع کے سب سے بڑے جانور کی ممکنہ مکمل لمبائی تھی۔
یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں اسی دریافت شدہ ڈھانچے کو 6 میٹر طویل قرار دیا گیا، جبکہ کوپرنیکس سائنس سینٹر کے سرکاری اعداد دونوں پیمائشوں میں واضح فرق کرتے ہیں۔
پولینڈ سے ملنے والا ڈھانچہ اپنی نوع کے بہترین محفوظ اور تقریباً مکمل فوسلز میں شمار ہوتا ہے۔
پولش اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوبائیولوجی سے وابستہ پروفیسر توماش سولے کے مطابق اس جانور کے جسم کی ساخت اب تک دستیاب معلومات سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اس دریافت کے بعد سائنس دانوں کو میسٹوڈون سارس کی ظاہری شکل سے متعلق بعض پرانی تصاویر، خاکوں اور ماڈلز پر نظرثانی کرنا پڑسکتی ہے۔