براہ راست نشریات

24 کروڑ سال سے چٹان میں قید قدیم شکاری کو آزاد کرانے کی مہم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
24 کروڑ سال پرانا میسٹوڈون سارس

پولینڈ میں دو ہزار سے زیادہ عام شہری 24 کروڑ سال پرانے میسٹوڈون سارس کے نایاب ڈھانچے کی بحالی میں سائنس دانوں کی مدد کررہے ہیں۔
مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے رضاکار خصوصی تربیت کے بعد چٹان کو ملی میٹر بہ ملی میٹر ہٹاتے ہیں۔
یہ جانور ڈائنوسار نہیں بلکہ ایک دیوقامت آبی جل تھلیا اور خطرناک شکاری تھا۔

وارسا کی ایک شیشے سے بنی تجربہ گاہ میں نایاب ڈھانچے کی بحالی ایک عوامی سائنسی تجربے میں بدل گئی ہے

منیجر، صفائی کارکن اور ٹیٹو آرٹسٹ باریک اوزاروں کی مدد سے اس مخلوق کے راز کھول رہے ہیں جو ڈائنوساروں کی حکمرانی سے پہلے زمین پر موجود تھی۔

پولینڈ کے دار الحکومت وارسا میں قائم کوپرنیکس سائنس سینٹر کی زیریں منزل پر شیشے کی دیواروں میں گھری ایک تجربہ گاہ ہے۔ 

اس کے اندر حفاظتی چشمے پہنے رضاکاروں کے ہاتھوں میں باریک چھینیاں اور چھوٹے برش ہیں۔ 

ان کی ہر حرکت نہایت آہستہ اور محتاط ہے، کیونکہ چند ملی میٹر کی غلطی بھی اس ہڈی کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو تقریباً 24 کروڑ سال سے چٹان میں محفوظ ہے۔

شیشے کی دوسری جانب کھڑے لوگ یہ منظر یوں دیکھ رہے ہیں جیسے کسی گمشدہ دنیا سے آنے والی مخلوق کا پیچیدہ آپریشن جاری ہو۔ 

بچے چٹانوں کے درمیان ابھرتی ہڈیوں کی طرف انگلیاں اٹھاتے ہیں، جبکہ ان کے والدین یہ تصور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کبھی یہ دیوقامت جسم قدیم یورپ کے پانیوں میں کس طرح حرکت کرتا ہوگا۔

چھ اہم نکات +
  • 1میسٹوڈون سارس کا نایاب ڈھانچہ 2023 میں جنوبی پولینڈ کے علاقے میداری سے دریافت ہوا۔
  • 2اس کی بحالی میں اب تک دو ہزار سے زیادہ عام شہری حصہ لے چکے ہیں۔
  • 3رضاکاروں میں منیجر، صفائی کارکن، فن کار اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
  • 4ہڈیوں کو چٹان سے ملی میٹر بہ ملی میٹر الگ کرنے کے لیے باریک چھینی اور بالائے بنفشی روشنی استعمال ہورہی ہے۔
  • 5یہ مخلوق ڈائنوسار یا مگرمچھ نہیں بلکہ تقریباً 24 کروڑ سال پرانا دیوقامت جل تھلیا تھا۔
  • 6دریافت شدہ ڈھانچہ تقریباً اڑھائی میٹر طویل ہے، جبکہ اس نوع کے بڑے جانور چھ میٹر تک لمبے ہوسکتے تھے۔

یہ مخلوق میسٹوڈون سارس ہے—زمین پر پائے جانے والے سب سے بڑے جل تھلیوں میں سے ایک۔ 

یہ ایک خطرناک آبی شکاری تھا جو درمیانی ٹرائیاسک دور میں اس وقت زندہ تھا جب ابتدائی ڈائنوسار نمودار ہونا شروع ہوئے تھے، مگر ابھی زمین پر ان کی مکمل حکمرانی قائم نہیں ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں

دو گھنٹے کے لیے سائنس دان

اس منصوبے میں شریک بیشتر افراد کے پاس علمِ حجریات یا ارضیات کی کوئی ڈگری نہیں۔ 

ان میں منیجر، صفائی کارکن، ٹیٹو بنانے والے فن کار اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عام شہری شامل ہیں۔ 

تاہم خصوصی تربیت کے بعد انہیں چٹان میں پھنسی ہڈیوں کو الگ

 کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ کام ملی میٹر بہ ملی میٹر آگے بڑھتا ہے۔ 

ہوا کے دباؤ سے چلنے والی باریک چھینی چٹان کی تہہ کو آہستگی سے توڑتی ہے، جبکہ بالائے بنفشی روشنی سے رضاکاروں کو یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ چٹان کہاں ختم اور اصل ہڈی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔

ہر رضاکار ماہرین کی نگرانی میں تقریباً دو گھنٹے کام کرتا ہے۔

رضاکاروں کی رابطہ کار تاتیانا کوزیک کے مطابق یہ خیال ہی ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہڈیاں 24 کروڑ سال تک زمین کے نیچے پڑی رہیں اور ممکن ہے کہ وہ انہیں چھونے والی پہلی انسان ہوں۔

یہ مخلوق
ڈائنوسار
یا مگرمچھ نہیں
بلکہ تقریباً
24 کروڑ سال
پرانا دیوقامت
جل تھلیا تھا

اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔
یہ تجربہ شہری سائنس کے تصور پر مبنی ہے، جس کے تحت عام لوگوں کو صرف تماشائی بنانے کے بجائے حقیقی سائنسی تحقیق میں شریک کیا جاتا ہے۔
اس ڈھانچے کی کہانی 2023 میں جنوبی پولینڈ کے علاقے میداری سے شروع ہوئی۔
کھدائی کا آخری دن تھا اور ٹیم جگہ کو محفوظ کرکے گھروں کو واپس جانے کی تیاری کررہی تھی کہ اچانک زمین کا ایک کمزور حصہ ٹوٹا اور اس کے نیچے موجود سخت چٹان میں ہڈیاں دکھائی دینے لگیں۔
سائنس دانوں نے ابتدا میں سمجھا کہ شاید چند الگ الگ ہڈیاں ملی ہیں، جنہیں چھوٹے حصوں میں نکال کر تجربہ گاہ میں دوبارہ جوڑا جاسکتا ہے۔
لیکن کھدائی آگے بڑھی تو ٹکڑوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے تقریباً 50 تک پہنچ گئی۔
محقق ووجچیخ پاولاک نے غور سے دیکھا تو یہ ٹکڑے پسلیوں کی باقاعدہ ترتیب اختیار کرتے دکھائی دیے۔
تب ٹیم کو احساس ہوا کہ سامنے کوئی تنہا ہڈی نہیں بلکہ ایک بڑے جانور کا تقریباً مکمل ڈھانچہ موجود ہے۔

فیکٹ باکس +
مخلوق کا ناممیسٹوڈون سارس
تخمینی عمرتقریباً 24 کروڑ سال
زمانہدرمیانی ٹرائیاسک دور
نوعیتدیوقامت آبی جل تھلیا اور گھات لگانے والا شکاری
دریافت2023
دریافت کا مقاممیداری، جنوبی پولینڈ
بحالی کا مقامکوپرنیکس سائنس سینٹر، وارسا
دریافت شدہ ڈھانچہتقریباً 2.5 میٹر طویل
نوع کی ممکنہ جسامتتقریباً 6 میٹر تک
شریک رضاکاردو ہزار سے زیادہ

سائنس دانوں نے اسے چٹان سمیت نکالنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہڈیوں کی اصل ترتیب محفوظ رہے۔ 

اگر اسے مزید ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاتا تو بعد میں پورا ڈھانچہ درست انداز میں جوڑنا تقریباً ناممکن ہوسکتا تھا۔

اس نایاب فوسل کو نکالنے اور محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے سیکڑوں کلوگرام پلاسٹر استعمال کیا گیا۔ اتنی بڑی چٹانی سل کو کسی روایتی تجربہ گاہ میں لے جانا آسان نہیں تھا، جبکہ اس کی صفائی کے لیے ہزاروں گھنٹے اور بڑی تعداد میں تربیت یافتہ ہاتھ درکار تھے۔ 

یہیں سے عام شہریوں کو منصوبے میں شامل کرنے کا خیال پیدا ہوا۔

نہ ڈائنوسار، نہ مگرمچھ

اپنی خوفناک ظاہری ساخت کے باوجود میسٹوڈون سارس ڈائنوسار نہیں تھا۔ 

یہ ایک دیوقامت جل تھلیا تھا جس کا سر چوڑا اور چپٹا، جبڑے لمبے اور دانت نوکیلے تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ پانی میں چھپ کر مچھلیوں اور نسبتاً چھوٹے جل تھلیوں پر اچانک حملہ کرتا تھا۔ 

اس کا شکار کرنے کا انداز جدید مگرمچھ سے مشابہ ہوسکتا ہے، لیکن حیاتیاتی اعتبار سے اس کا تعلق فقاری جانوروں کی ایک بالکل مختلف شاخ سے تھا۔

رضاکاروں میں
منیجر، صفائی
کارکن، فن کار
اور مختلف پیشوں
سے تعلق رکھنے
والے افراد
شامل ہیں

اس نسل کے سب سے بڑے جانور تقریباً 6 میٹر تک لمبے ہوسکتے تھے۔
تاہم درست اعداد کے مطابق پولینڈ سے نکالے گئے موجودہ ڈھانچے کی لمبائی تقریباً اڑھائی میٹر ہے، جبکہ6 میٹر اس نوع کے سب سے بڑے جانور کی ممکنہ مکمل لمبائی تھی۔
یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں اسی دریافت شدہ ڈھانچے کو 6 میٹر طویل قرار دیا گیا، جبکہ کوپرنیکس سائنس سینٹر کے سرکاری اعداد دونوں پیمائشوں میں واضح فرق کرتے ہیں۔
پولینڈ سے ملنے والا ڈھانچہ اپنی نوع کے بہترین محفوظ اور تقریباً مکمل فوسلز میں شمار ہوتا ہے۔
پولش اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوبائیولوجی سے وابستہ پروفیسر توماش سولے کے مطابق اس جانور کے جسم کی ساخت اب تک دستیاب معلومات سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اس دریافت کے بعد سائنس دانوں کو میسٹوڈون سارس کی ظاہری شکل سے متعلق بعض پرانی تصاویر، خاکوں اور ماڈلز پر نظرثانی کرنا پڑسکتی ہے۔

ایک فوسل جو لوگوں کو سائنس کے قریب لے آیا

یہ منصوبہ محض ایک قدیم ڈھانچے کی صفائی تک محدود نہیں۔ 

محققین یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ حقیقی سائنسی تحقیق میں براہِ راست شرکت سے عام لوگوں کا سائنس اور سائنس دانوں پر اعتماد بڑھتا ہے یا نہیں۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ +
نتیجہ: دریافت شدہ ڈھانچہ چھ میٹر نہیں بلکہ تقریباً اڑھائی میٹر طویل ہے۔

بعض بین الاقوامی رپورٹس میں پولینڈ سے ملنے والے ڈھانچے کو تقریباً چھ میٹر طویل بتایا گیا، لیکن کوپرنیکس سائنس سینٹر کے سرکاری اعداد اس دعوے کی درست وضاحت کرتے ہیں۔

اڑھائی میٹر پولینڈ سے نکالے گئے موجودہ ڈھانچے کی لمبائی۔
چھ میٹر اس نوع کے سب سے بڑے جانوروں کی ممکنہ مکمل جسامت۔

اس لیے چھ میٹر کا عدد موجودہ فوسل کی پیمائش نہیں بلکہ میسٹوڈون سارس کی نوع کی ممکنہ زیادہ سے زیادہ لمبائی ظاہر کرتا ہے۔

یہاں آنے والا رضاکار کسی نمائش میں محض بٹن نہیں دباتا، بلکہ ایک ایسے ثبوت کو دنیا کے سامنے لانے میں عملی کردار ادا کرتا ہے جو کروڑوں سال پہلے کی زندگی کے متعلق موجود سائنسی معلومات بدل سکتا ہے۔

توقع ہے کہ بحالی مکمل ہونے کے بعد اس ڈھانچے کو 2026 کے آخری مہینوں میں عوامی نمائش کے لیے پیش کردیا جائے گا۔ 

جب لوگ اسے دیکھنے آئیں گے تو اس کے ساتھ لگی تختی صرف چند ماہرین کی محنت کی داستان نہیں سنائے گی، ہر نمایاں ہڈی کے پیچھے ان عام شہریوں کے کام کے گھنٹے بھی موجود ہوں گے جنہوں نے اسے چٹان سے آزاد کیا۔

چوبیس کروڑ سال تک پتھروں میں قید رہنے والی مخلوق کو کسی ایک سائنس دان نے روشنی میں نہیں نکالا، بلکہ دو ہزار سے زیادہ ایسے انسانوں نے آزاد کیا جو صرف دو گھنٹے کے لیے سائنس دان بن گئے۔

🦴

اصل اور بنیادی ذرائع

24 کروڑ سال قدیم میسٹوڈون سارس، اس کے ڈھانچے کی بحالی اور عوامی سائنسی منصوبے سے متعلق بنیادی ذرائع

4 بنیادی ذرائع
بنیادی صحافتی رپورٹ
ایسوسی ایٹڈ پریس — دو ہزار رضاکاروں کی سائنسی مہم
دو ہزار سے زیادہ رضاکار چٹان میں محفوظ قدیم ڈھانچے کی بحالی میں شریک ہیں۔ ہڈیوں کو ملی میٹر بہ ملی میٹر الگ کیا جارہا ہے، جبکہ بحالی مکمل ہونے کے بعد ڈھانچے کو عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔
بنیادی صحافتی ماخذ
اصل رپورٹ ↗
منصوبے کا سرکاری سائنسی ریکارڈ
کوپرنیکس سائنس سینٹر — منصوبہ، پیمائش اور دریافت
پولینڈ سے دریافت ہونے والے زیرِ بحالی ڈھانچے کی لمبائی تقریباً 2.5 میٹر ہے، جبکہ اس نوع کے سب سے بڑے جانور مکمل جسامت میں 6 میٹر تک پہنچ سکتے تھے۔ فوسل کی عمر تقریباً 24 کروڑ سال بتائی گئی ہے۔
اصل سرکاری سائنسی ماخذ
سرکاری تفصیلات ↗
بحالی کے عمل کا بصری ثبوت
اے پی نیوز روم — بحالی کے عمل کی اصل ویڈیو
ویڈیو میں وارسا کی تجربہ گاہ، چٹان کے اندر محفوظ ڈھانچہ اور رضاکاروں کو باریک اوزاروں کی مدد سے فوسل صاف کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ رپورٹ میں بیان کردہ بحالی کے عمل کا براہِ راست بصری ریکارڈ ہے۔
اصل ویڈیو ریکارڈ
ویڈیو دیکھیں ↗
جسامت اور طرزِ زندگی کی سائنسی بنیاد
Fossil Record — میسٹوڈون سارس پر سائنسی تحقیق
تحقیقی مقالہ میسٹوڈون سارس کی جسمانی نشوونما، جسامت اور آبی طرزِ زندگی کی سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ درمیانی ٹرائیاسک دور کے بڑے جل تھلیوں اور نمایاں آبی شکاریوں میں شامل تھا۔
اصل تحقیقی مقالہ
تحقیق پڑھیں ↗
رپورٹ کے بنیادی ستون رضاکاروں، بحالی کے عمل اور منصوبے کی انسانی کہانی کے لیے ایسوسی ایٹڈ پریس بنیادی صحافتی ماخذ ہے۔ فوسل کی عمر، دریافت، زیرِ بحالی ڈھانچے کی پیمائش اور منصوبے کی سرکاری تفصیلات کے لیے کوپرنیکس سائنس سینٹر بنیادی ذریعہ ہے، جبکہ جانور کی جسامت اور طرزِ زندگی کی سائنسی بنیاد Fossil Record کے تحقیقی مقالے سے لی گئی ہے۔
SOURCES • overseaspost.net