بڑھتی عمر کے اثرات کو روکنے اور طویل عرصے تک جوان نظر آنے کی خواہش نے دنیا بھر میں اینٹی ایجنگ علاج کی ایک بڑی مارکیٹ کھڑی کردی ہے۔
مزید پڑھیں
امریکا میں ایک افسوسناک واقعے نے ایسے علاج میں حفاظتی معیار اور سروس فراہم کرنے والوں کی اہلیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
نیویارک میں 27 سالہ الزبتھ بارون ایک ایسے ہی اینٹی ایجنگ علاج کے لیے جسمانی نگہداشت کے ایک مرکز پہنچی تھیں، مگر چند لمحوں بعد حالات اس قدر تیزی سے بدلے کہ انہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
🩺 فیکٹ باکس
ڈرپ لگتے ہی بے ہوشی
حکام کے مطابق یہ واقعہ نیویارک کے علاقے برونکس کے کنگز برج میں پیش آیا، جہاں الزبتھ کو نس کے ذریعے ایک محلول دیا جارہا تھا، جس میں NAD+ نامی مرکب شامل تھا۔
حکام کے پاس درج کرائی گئی فوجداری شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ محلول ان کے دائیں ہاتھ میں لگائے جانے کے فوراً بعد وہ بے ہوش ہوگئیں۔
اینٹی ایجنگ ڈرپ سے خوفناک موت
نیویارک میں جوانی کا جعلی علاج جان لیوا بن گیا
⚠️ ڈرپ کا فوری ردعمل 💉
27 سالہ الزبتھ بارون کو دائیں ہاتھ میں NAD+ ڈرپ لگائے جاتے ہی شدید بے ہوشی کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
🚫 جعلی ڈاکٹر اور قانونی کارروائی ⚖️
علاج کرنے والے شخص کے پاس نیویارک میں ڈاکٹری کا کوئی لائسنس نہیں تھا، جس پر بغیر اجازت پریکٹس اور لاپروائی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
🔬 غیر سائنسی اینٹی ایجنگ دعوے 🧪
NAD+ ڈرپ کا استعمال جوانی برقرار رکھنے کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، لیکن اس کے محفوظ اور موثر ہونے کے لیے سائنسی شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔
🔒 طبی مرکز فوراً بند 🏥
واقعے کے بعد متعلقہ کلینک کو فوری سیل کر دیا گیا، جبکہ پولیس پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
علاج کرنے والے 55 سالہ لوئس روخاس کابريرا نے ہنگامی طبی سروس کو فون کیا، جس کے بعد الزبتھ کو نیویارک پریسبیٹیرین ایلن اسپتال پہنچایا گیا، لیکن انہیں بچایا نہ جاسکا۔
مقامی ذرائع کے مطابق موت کی حتمی وجہ فی الحال سامنے نہیں آئی اور تفتیش کار پوسٹ مارٹم رپورٹ کے منتظر ہیں۔
NAD+ علاج کیا ہے؟
NAD+ ایک ایسا مرکب ہے جسے بعض مراکز اینٹی ایجنگ طریقہ علاج میں استعمال کرتے ہیں۔
اسے جوانی برقرار رکھنے جیسے دعووں کے ساتھ بھی پیش کیا جاتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے اس کے محفوظ اور مؤثر ہونے کے حق میں سائنسی شواہد محدود ہیں۔
یہی پہلو اس واقعے کو محض ایک اچانک موت سے بڑھ کر اینٹی ایجنگ علاج کی تیزی سے پھیلتی صنعت سے متعلق ایک اہم سوال بنا دیتا ہے۔
علاج کرنے والے کے پاس لائسنس نہیں تھا
تحقیقات میں ایک اور تشویش ناک بات سامنے آئی ہے۔ کابريرا نے حکام کو بتایا کہ ان کے پاس ریاست نیویارک میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا لائسنس نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ ڈومینیکن ریپبلک میں لائسنس یافتہ ڈاکٹر اور پورٹو ریکو میں میڈیکل اسسٹنٹ کا لائسنس رکھتے ہیں، جبکہ نیویارک میں ان کی درخواست زیر غور ہے۔ ریاست میں ان کے پاس صرف بیوٹی اسپیشلسٹ کا لائسنس تھا۔
حکام نے ان پر بغیر لائسنس طبی پریکٹس اور لاپروائی سے دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ الزام بھی ہے کہ الزبتھ کو مطلوبہ طبی نسخے کے بغیر علاج دیا گیا۔
کابريرا کو عدالت نے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے تک عارضی رہائی دے دی ہے، تاہم پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔ دوسری جانب متعلقہ مرکز بند کردیا گیا ہے۔
الزبتھ کی موت نے ان کے جاننے والوں اور مقامی آبادی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔
یہ افسوس ناک واقعہ ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ جوانی برقرار رکھنے کے پرکشش دعووں کے پیچھے علاج کی سائنسی بنیاد اور اسے فراہم کرنے والے شخص کی طبی اہلیت جانچنا نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔