دفتر میں باس کی تنقید ہو، ٹریفک میں گھنٹوں پھنسنا پڑے، کوئی کام توقع کے مطابق نہ ہو یا مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورت حال ہو تو کچھ لوگ ایسے مواقع پر بھی حیرت انگیز طور پر پُرسکون دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
انہیں دیکھ کر اکثر خیال آتا ہے کہ شاید انہیں کسی بات کی فکر ہی نہیں، لیکن نفسیات کا مضمون اس رویے کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر مشکل پر شدید ردعمل نہ دینا لازماً بے حسی نہیں ہوتی، بلکہ کئی لوگوں نے وقت کے ساتھ اپنے ذہن کو حالات سے بہتر انداز میں نمٹنے کا عادی بنا لیا ہوتا ہے۔
🧠 یہ کیوں اہم ہے؟
ناکامی کو زندگی کا فیصلہ نہ بنائیں
نفسیات میں اسے ذہنی یا نفسیاتی لچک کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو دکھ، غصہ یا مایوسی محسوس نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان جذبات میں زیادہ دیر پھنسا نہیں رہتا۔
مثال کے طور پر دفتر میں دو افراد کو ایک ہی غلطی پر تنقید کا سامنا ہو۔ ایک شخص کئی دن سوچتا رہے کہ باس نے ایسا کیوں کہا، جبکہ دوسرا اپنی غلطی دیکھے، اسے درست کرے اور اگلے کام کی طرف بڑھ جائے۔
بظاہر دوسرا شخص بے فکر لگے گا، لیکن دراصل وہ مسئلے سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹ رہا ہے۔
سوچ کا انداز پریشانی بدل سکتا ہے
مثبت نفسیات کے ماہر مارٹن سیلیگمین کی تحقیق کے مطابق پُرامید لوگ ناکامی کو مستقل فیصلہ نہیں سمجھتے۔
ڈرائیونگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے والا شخص اگر یہ سوچے کہ ’مجھے مزید پریکٹس کی ضرورت ہے‘ تو اس کا ردعمل اس شخص سے مختلف ہوگا جو فوراً یہ نتیجہ نکال لے کہ ’مجھ سے کوئی کام ٹھیک نہیں ہوتا۔‘
بظاہر کوئی واقعہ دونوں کے لیے ایک جیسا ہو سکتا ہے، لیکن فرق اس کی تشریح کا ہے۔
🧠 اہم نکات
جو اختیار میں نہیں، اسے چھوڑنا سیکھیں
پُرسکون لوگوں کی ایک اہم عادت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی توانائی وہاں لگاتے ہیں جنہیں وہ تبدیل کرسکتے ہیں۔
کراچی، لاہور یا راولپنڈی کی ٹریفک ہی کو لے لیجیے۔ ایسے شہروں میں گاڑیوں کی لمبی قطار میں پھنسنے کے بعد مسلسل غصہ ٹریفک کو ختم نہیں کرسکتا۔
کوئی شخص اسی وقت کو موسیقی، پوڈکاسٹ یا کسی مفید گفتگو کے لیے استعمال کرے تو صورت حال وہی رہتی ہے، مگر ذہنی دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
🧘پریشانی میں بھی پُرسکون رہنے کے سائنسی راز ️
شديد دباؤ میں پُرسکون رہنے والے لوگ مسائل سے بھاگتے نہیں بلکہ اپنی سوچ کا زاویہ بدل کر صرف قابلِ کنٹرول حالات پر توجہ دیتے ہیں۔
مشکل اور تنقید کا سامنا ہونے پر جذبات میں پھنسنے کے بجائے فوری طور پر غلطی کی اصلاح پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
ناکامی کو حتمی فیصلہ ماننے کے بجائے اسے بہتری کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اپنے خیالات کی تشریح بدل دیتے ہیں۔
ٹریفک یا غیر یقینی حالات جیسی بے بس کرنے والی صورتحال پر غصہ کرنے کے بجائے اپنی توانائی کا درست استعمال کرتے ہیں۔
ہر سوال کا فوری جواب تلاش کرنے کی ضد نہیں کرتے؛ حال میں رہتے ہوئے دستیاب معلومات پر بہترین فیصلہ کرتے ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ہر سوال کا جواب فوراً ضروری نہیں
زندگی میں نوکری، کاروبار، رشتوں اور مالی معاملات کی بہت سی چیزیں ہمارے مکمل اختیار میں نہیں ہوتیں۔
ماہرین کے مطابق غیر یقینی صورت حال کو برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھنے والے لوگ ہر مسئلے کا فوری جواب تلاش کرنے کی ضد نہیں کرتے۔
ایسے لوگ دستیاب معلومات کے مطابق فیصلہ کرتے اور حالات بدلنے پر خود کو بھی ڈھال لیتے ہیں۔
پُرسکون رہنے کا مطلب جذبات دبانا نہیں
ماہرِ نفسیات جیمز گروس کی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جذبات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کے لیے کسی صورت حال کو دیکھنے کا زاویہ تبدیل کرنا مددگار ہوسکتا ہے۔
📌 فیکٹ باکس
اسی طرح ’مائنڈ فل نیس‘ یعنی موجودہ لمحے پر توجہ دینا انسان کو ماضی کی غلطیوں اور مستقبل کے خدشات میں مسلسل الجھے رہنے سے بچا سکتا ہے۔
اصل فرق شاید یہی ہے کہ پُرسکون لوگ مسائل سے بھاگتے نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہاں قدم اٹھانا ہے، کہاں انتظار کرنا ہے اور کہاں کسی ایسی چیز کی فکر چھوڑ دینی ہے جو ان کے اختیار میں ہی نہیں۔