امریکا میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق بحث کئی دہائیوں سے صرف مذہب تک محدود نہیں رہی۔
مزید پڑھیں
ایرانی انقلاب ہو، نائن الیون، دہشت گردی کے خلاف جنگ یا اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا سیاسی استعمال، ہر بڑے بحران میں اسلام امریکی سیاست اور میڈیا کے مرکز میں آتا رہا۔
ایسے ماحول میں جان ایسپوزیٹو ان چند امریکی دانشوروں میں شامل تھے جو بار بار یہ یاد دلاتے رہے کہ ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو ایک ہی سیاسی یا نظریاتی خانے میں رکھ کر نہیں سمجھا جاسکتا۔
15 جولائی 2026 کو ایسپوزیٹو کی وفات صرف ایک معروف ماہرِ اسلام کا انتقال نہیں بلکہ ایک ایسی علمی آواز کا خاموش ہوجانا ہے جو تقریباً نصف صدی تک امریکا کو اسلام کے بارے میں اپنے خوف، تصورات اور پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتی رہی۔
🕌 امریکہ میں اسلام کی آواز
اسلام ان کا ابتدائی موضوع نہیں تھا
جان ایسپوزیٹو نے اپنے علمی سفر کا آغاز اسلامیات سے نہیں کیا تھا۔ وہ مذاہب کی تاریخ کے طالب علم تھے اور ان کی ابتدائی دلچسپی مختلف مذہبی روایات کے تقابلی مطالعے میں تھی۔
1970 کی دہائی میں مسلم دانشوروں، خصوصاً اسماعیل الفاروقی کے ساتھ رابطوں نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔
اسی عرصے میں انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام عالمی سیاست میں تیزی سے اہم ہوتا جارہا ہے، لیکن مغربی معاشروں میں اسے سمجھنے کی کوشش نہایت محدود ہے۔
اس زمانے میں کئی مغربی جامعات میں اسلام اب بھی زیادہ تر مشرقی علوم یا ماضی کی تہذیب کے ایک موضوع کے طور پر پڑھایا جاتا تھا اور ایسپوزیٹو نے اس زاویے کو بدلنے کی کوشش کی۔
ان کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کو صرف تاریخ، نوآبادیاتی دور یا سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ جدید دنیا کے سیاسی، سماجی اور فکری عمل کے ایک فعال حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
جان ایسپوزیٹو کی وفات: اسلام کی معتبر علمی آواز خاموش 🕊️
جان ایسپوزیٹو نے نصف صدی تک مغربی دنیا کو اسلاموفوبیا کے مقابلے میں معروضی اور تحقیق پر مبنی نقطہ نظر اپنانے پر مجبور کیا۔
1970 کی دہائی میں اسلامیات کا گہرا مطالعہ شروع کیا اور اسلام کو ماضی کے بجائے جدید دنیا کے فعال سیاسی و سماجی نظام کے طور پر پیش کیا۔
1992 میں اپنی کتاب ’اسلامی خطرہ: افسانہ یا حقیقت؟‘ کے ذریعے مغرب کا یہ مفروضہ مسترد کیا کہ اسلام بذاتِ خود کوئی عالمی خطرہ ہے۔
سیموئل ہنٹنگٹن کے نظریے کے برعکس، ایسپوزیٹو نے ثابت کیا کہ تنازعات کی وجہ عقیدہ نہیں بلکہ سیاسی ناانصافی اور بیرونی مداخلت ہے۔
2001 کے بعد عوامی سطح پر مسلمانوں کا دفاع کیا اور ثابت کیا کہ دہشت گردی کی بنیادیں سیاسی اور معاشی ناانصافیوں میں پنہاں ہیں۔
15 جولائی 2026 کو ان کی وفات سے امریکی میڈیا اور پالیسی سازوں میں معتدل اور حقائق پر مبنی مکالمے کا ایک بڑا باب بند ہو گیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ایرانی انقلاب نے امریکی سوچ بدل دی
1979 کا ایرانی انقلاب امریکا میں اسلام کے تصور کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
آیت اللہ خمینی، تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور یرغمالی بحران نے امریکی عوام کے ایک بڑے حصے میں اسلام کو انقلاب، انتہا پسندی اور مغرب مخالف سیاست کے ساتھ جوڑ دیا۔
ایسپوزیٹو نے اسی دور میں درحقیقت اس عمومی سوچ کو چیلنج کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ مذہبی یا سیاسی تحریکوں کو صرف عقیدے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان کے پیچھے تاریخ، ریاستی نظام، سماجی محرومیاں، شناخت اور اقتدار کی کشمکش بھی کارفرما ہوتی ہے۔
یہی نکتہ بعد میں ان کے پورے علمی کام کی بنیاد بن گیا۔
جب اسلام کو نیا عالمی خطرہ کہا گیا
سرد جنگ کے اختتام کے بعد امریکا کو ایک نئے عالمی دشمن کی تلاش کا سوال درپیش تھا۔ اسی ماحول میں 1992 میں ایسپوزیٹو کی کتاب ’اسلامی خطرہ: افسانہ یا حقیقت؟‘ سامنے آئی۔
ان کا بنیادی سوال بہت سادہ تھا۔ یعنی کیا واقعی اسلام خود ایک عالمی خطرہ ہے؟ یا مغرب ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو ایک ہی سیاسی قوت سمجھنے کی غلطی کررہا ہے؟
ایک سال بعد سیموئل ہنٹنگٹن کا مشہور نظریہ ’تہذیبوں کا تصادم‘ سامنے آیا، جس میں مستقبل کے عالمی تنازعات کو بڑی تہذیبوں، خصوصاً اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کے طور پر دیکھا گیا۔
یہاں ایسپوزیٹو اور ہنٹنگٹن دو مختلف راستوں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
ہنٹنگٹن بڑی تہذیبی شناختوں میں مستقبل کی کشمکش دیکھ رہے تھے، جبکہ ایسپوزیٹو مسلم دنیا کے اندر موجود سیاسی، ثقافتی اور مذہبی تنوع کی طرف توجہ دلا رہے تھے۔
📌 فیکٹ باکس: جان ایسپوزیٹو کون تھے؟
نائن الیون کے بعد ان کا کردار بدل گیا
11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اسلام پر علمی بحث اچانک امریکی قومی سلامتی کا موضوع بن گئی۔
مسلمانوں کے بارے میں شک، نگرانی اور وفاداری کے سوالات عام ہوگئے۔ میڈیا میں اسلام کو بار بار دہشت گردی کے تناظر میں زیر بحث لایا جانے لگا۔
اسی وقت ایسپوزیٹو نے یونیورسٹی کی حدود سے نکل کر زیادہ فعال عوامی کردار اپنایا۔
وہ ٹی وی مباحث میں شریک ہوئے، حکومتوں اور عالمی اداروں کو مشورے دیے اور عام قارئین کے لیے ایسی کتابیں لکھیں جن میں اسلام کو پیچیدہ مذہبی اور سیاسی حقیقت کے طور پر سمجھانے کی کوشش کی گئی۔
اُن کا اصرار تھا کہ دہشت گردی کی تشریح صرف مذہبی عقائد سے نہیں ہوسکتی۔ سیاسی ناانصافی، خراب حکمرانی، بیرونی مداخلت، سماجی تنہائی اور نظریاتی استحصال بھی انتہا پسندی کو جنم دے سکتے ہیں۔
مسلمانوں میں احترام کیوں ملا؟
ایسپوزیٹو کو مسلم دنیا میں اس لیے احترام ملا کہ وہ ہر اسلامی حکومت یا تحریک کے حامی تھے۔
انہوں نے آمریت، مذہبی انتہا پسندی اور مسلم معاشروں کے داخلی مسائل پر کھل کر تنقید کی، لیکن ان کا فرق یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو محض سکیورٹی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے۔
امریکی مسلمانوں کے لیے یہ رویہ خاص طور پر اہم تھا۔
نائن الیون کے بعد کے ماحول میں، جب بہت سے مسلمانوں کو بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑتی تھی، ایسپوزیٹو کی تحریروں نے انہیں ایک ایسی علمی جگہ دی جہاں وہ مشتبہ گروہ نہیں بلکہ امریکی معاشرے کے برابر کے شہری دکھائی دیتے تھے۔
🔎 اہم نکات
امریکا نے آخر کیا کھویا؟
جان ایسپوزیٹو کی اصل میراث شاید ان کی کتابوں سے بھی بڑی ہے۔
جب امریکا ایران سے خوف زدہ تھا، وہ ایرانی سیاست کا پس منظر سمجھا رہے تھے۔ جب سیاسی اسلام کو ایک ہی رنگ میں پیش کیا جارہا تھا تو وہ اس کے اندرونی فرق واضح کررہے تھے۔
اسی طرح جب نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو اجتماعی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، وہ شواہد اور تحقیق کی بنیاد پر عمومی الزامات کو چیلنج کررہے تھے۔
ان کی وفات امریکا کے لیے اس لیے اہم نقصان ہے کہ اس نے ایک ایسی علمی آواز کھو دی جو مشکل وقت میں بھی خوف کے سامنے علم، نعروں کے مقابلے میں تحقیق اور تقسیم کے مقابلے میں مکالمے پر اصرار کرتی رہی۔
ایک ایسے دور میں جب اسلام اور مغرب کے تعلقات اب بھی سیاست، جنگوں اور شناخت کی بحث سے متاثر ہیں، ایسپوزیٹو کی سب سے بڑی یاد دہانی شاید یہی ہے کہ کسی معاشرے یا مذہب کو سمجھنے سے پہلے اس کے بارے میں فیصلہ صادر کردینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے، مگر اکثر خطرناک بھی۔