براہ راست نشریات

جان ایسپوزیٹو کی وفات: امریکا نے اسلام کا معتبر ترجمان کھو دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جان ایسپوزیٹو کی وفات اور ان کی علمی خدمات
جان ایسپوزیٹو کی اصل میراث شاید ان کی کتابوں سے بھی بڑی ہے (فوٹو: اے آئی)
OVERSEAS POST  |  PREMIUM STORY

امریکا میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق بحث کئی دہائیوں سے صرف مذہب تک محدود نہیں رہی۔

مزید پڑھیں

ایرانی انقلاب ہو، نائن الیون، دہشت گردی کے خلاف جنگ یا اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا سیاسی استعمال، ہر بڑے بحران میں اسلام امریکی سیاست اور میڈیا کے مرکز میں آتا رہا۔

ایسے ماحول میں جان ایسپوزیٹو ان چند امریکی دانشوروں میں شامل تھے جو بار بار یہ یاد دلاتے رہے کہ ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو ایک ہی سیاسی یا نظریاتی خانے میں رکھ کر نہیں سمجھا جاسکتا۔

15 جولائی 2026 کو ایسپوزیٹو کی وفات صرف ایک معروف ماہرِ اسلام کا انتقال نہیں بلکہ ایک ایسی علمی آواز کا خاموش ہوجانا ہے جو تقریباً نصف صدی تک امریکا کو اسلام کے بارے میں اپنے خوف، تصورات اور پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتی رہی۔

🕌 امریکہ میں اسلام کی آواز
📚 اسلام کو علمی انداز میں متعارف کرایا: جان ایسپوزیٹو نے کئی دہائیوں تک امریکی جامعات اور علمی حلقوں میں اسلام کو محض سکیورٹی یا سیاسی خطرے کے بجائے ایک متنوع مذہبی، سماجی اور تہذیبی روایت کے طور پر سمجھانے کی کوشش کی۔
🇺🇸 امریکی معاشرے کی غلط فہمیوں کو چیلنج کیا: ایرانی انقلاب، خلیجی جنگوں اور خصوصاً نائن الیون کے بعد انہوں نے اس سوچ کی مخالفت کی کہ پوری مسلم دنیا کو انتہا پسندی یا دہشت گردی کے ایک ہی خانے میں رکھا جائے۔
🧠 سیاسی اسلام کی پیچیدگی واضح کی: ان کا مؤقف تھا کہ مسلم سیاسی تحریکوں کو صرف مذہبی عقائد سے نہیں بلکہ تاریخ، حکمرانی، شناخت، سماجی مسائل اور عالمی سیاست کے تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔
🎙️ میڈیا اور پالیسی مباحث میں متبادل آواز بنے: ایسپوزیٹو امریکی اور عالمی میڈیا میں مسلسل سامنے آئے، حکومتوں اور اداروں کو مشورے دیے اور ایسے وقت میں تحقیق پر مبنی مؤقف پیش کیا جب اسلام کے بارے میں خوف اور عمومی الزامات عام تھے۔
🤝 مسلم مسیحی مکالمے کو فروغ دیا: جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مسلم مسیحی تفہیم کے مرکز کے ذریعے انہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان علمی مکالمے، باہمی احترام اور بہتر فہم کے لیے نمایاں کام کیا۔
🛡️ امریکی مسلمانوں کے وقار کا دفاع کیا: نائن الیون کے بعد جب امریکی مسلمان شک، نگرانی اور وفاداری کے سوالات کا سامنا کر رہے تھے، ایسپوزیٹو نے انہیں محض ایک سکیورٹی مسئلہ سمجھنے کے بجائے امریکی معاشرے کے برابر کے شہریوں کے طور پر پیش کیا۔

اسلام ان کا ابتدائی موضوع نہیں تھا

جان ایسپوزیٹو نے اپنے علمی سفر کا آغاز اسلامیات سے نہیں کیا تھا۔ وہ مذاہب کی تاریخ کے طالب علم تھے اور ان کی ابتدائی دلچسپی مختلف مذہبی روایات کے تقابلی مطالعے میں تھی۔

1970 کی دہائی میں مسلم دانشوروں، خصوصاً اسماعیل الفاروقی کے ساتھ رابطوں نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ 

اسی عرصے میں انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام عالمی سیاست میں تیزی سے اہم ہوتا جارہا ہے، لیکن مغربی معاشروں میں اسے سمجھنے کی کوشش نہایت محدود ہے۔

اس زمانے میں کئی مغربی جامعات میں اسلام اب بھی زیادہ تر مشرقی علوم یا ماضی کی تہذیب کے ایک موضوع کے طور پر پڑھایا جاتا تھا اور  ایسپوزیٹو نے اس زاویے کو بدلنے کی کوشش کی۔

ان کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کو صرف تاریخ، نوآبادیاتی دور یا سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ جدید دنیا کے سیاسی، سماجی اور فکری عمل کے ایک فعال حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

Overseas Post

جان ایسپوزیٹو کی وفات: اسلام کی معتبر علمی آواز خاموش 🕊️

مغرب میں اسلام پر مبنی روایتی تعصبات اور غلط فہمیوں کو چیلنج کرنے والے ممتاز امریکی دانشور کا انتقال

جان ایسپوزیٹو نے نصف صدی تک مغربی دنیا کو اسلاموفوبیا کے مقابلے میں معروضی اور تحقیق پر مبنی نقطہ نظر اپنانے پر مجبور کیا۔

📚 سفر کا آغاز اور مقصد
1970

1970 کی دہائی میں اسلامیات کا گہرا مطالعہ شروع کیا اور اسلام کو ماضی کے بجائے جدید دنیا کے فعال سیاسی و سماجی نظام کے طور پر پیش کیا۔

📖 یکطرفہ بیانیے پر چیلنج
1992

1992 میں اپنی کتاب ’اسلامی خطرہ: افسانہ یا حقیقت؟‘ کے ذریعے مغرب کا یہ مفروضہ مسترد کیا کہ اسلام بذاتِ خود کوئی عالمی خطرہ ہے۔

🌐 'تہذیبوں کا تصادم' کا ردِعمل ⚔️

سیموئل ہنٹنگٹن کے نظریے کے برعکس، ایسپوزیٹو نے ثابت کیا کہ تنازعات کی وجہ عقیدہ نہیں بلکہ سیاسی ناانصافی اور بیرونی مداخلت ہے۔

🛡️ نائن الیون کے بعد کا کردار
2001

2001 کے بعد عوامی سطح پر مسلمانوں کا دفاع کیا اور ثابت کیا کہ دہشت گردی کی بنیادیں سیاسی اور معاشی ناانصافیوں میں پنہاں ہیں۔

🕊️ علمی میراث کا اختتام
2026

15 جولائی 2026 کو ان کی وفات سے امریکی میڈیا اور پالیسی سازوں میں معتدل اور حقائق پر مبنی مکالمے کا ایک بڑا باب بند ہو گیا۔

اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم

ایرانی انقلاب نے امریکی سوچ بدل دی

1979 کا ایرانی انقلاب امریکا میں اسلام کے تصور کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

آیت اللہ خمینی، تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور یرغمالی بحران نے امریکی عوام کے ایک بڑے حصے میں اسلام کو انقلاب، انتہا پسندی اور مغرب مخالف سیاست کے ساتھ جوڑ دیا۔

ایسپوزیٹو نے اسی دور میں درحقیقت اس عمومی سوچ کو چیلنج کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مذہبی یا سیاسی تحریکوں کو صرف عقیدے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان کے پیچھے تاریخ، ریاستی نظام، سماجی محرومیاں، شناخت اور اقتدار کی کشمکش بھی کارفرما ہوتی ہے۔

یہی نکتہ بعد میں ان کے پورے علمی کام کی بنیاد بن گیا۔

جان ایسپوزیٹو کی وفات اور ان کی علمی خدمات
جان ایسپوزیٹو کی اصل میراث شاید ان کی کتابوں سے بھی بڑی ہے (فوٹو: اے آئی)

جب اسلام کو نیا عالمی خطرہ کہا گیا

سرد جنگ کے اختتام کے بعد امریکا کو ایک نئے عالمی دشمن کی تلاش کا سوال درپیش تھا۔ اسی ماحول میں 1992 میں ایسپوزیٹو کی کتاب ’اسلامی خطرہ: افسانہ یا حقیقت؟‘ سامنے آئی۔

ان کا بنیادی سوال بہت سادہ تھا۔ یعنی کیا واقعی اسلام خود ایک عالمی خطرہ ہے؟ یا مغرب ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو ایک ہی سیاسی قوت سمجھنے کی غلطی کررہا ہے؟

ایک سال بعد سیموئل ہنٹنگٹن کا مشہور نظریہ ’تہذیبوں کا تصادم‘ سامنے آیا، جس میں مستقبل کے عالمی تنازعات کو بڑی تہذیبوں، خصوصاً اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کے طور پر دیکھا گیا۔

یہاں ایسپوزیٹو اور ہنٹنگٹن دو مختلف راستوں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

ہنٹنگٹن بڑی تہذیبی شناختوں میں مستقبل کی کشمکش دیکھ رہے تھے، جبکہ ایسپوزیٹو مسلم دنیا کے اندر موجود سیاسی، ثقافتی اور مذہبی تنوع کی طرف توجہ دلا رہے تھے۔

📌 فیکٹ باکس: جان ایسپوزیٹو کون تھے؟
👤 نام جان ایل ایسپوزیٹو
🕯️ وفات 15 جولائی 2026
🎓 تعلیمی شعبہ تاریخِ مذاہب اور اسلامیات
🏛️ نمایاں ادارہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی
اسلام پر علمی کام 5 دہائیوں سے زیادہ
📘 اہم کتاب اسلامی خطرہ: افسانہ یا حقیقت؟
🤝 اہم علمی مشن مسلم مسیحی تفہیم اور مکالمہ
🌍 بنیادی مؤقف مسلمان ایک یکساں سیاسی اکائی نہیں

نائن الیون کے بعد ان کا کردار بدل گیا

11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد اسلام پر علمی بحث اچانک امریکی قومی سلامتی کا موضوع بن گئی۔

مسلمانوں کے بارے میں شک، نگرانی اور وفاداری کے سوالات عام ہوگئے۔ میڈیا میں اسلام کو بار بار دہشت گردی کے تناظر میں زیر بحث لایا جانے لگا۔

اسی وقت ایسپوزیٹو نے یونیورسٹی کی حدود سے نکل کر زیادہ فعال عوامی کردار اپنایا۔

وہ ٹی وی مباحث میں شریک ہوئے، حکومتوں اور عالمی اداروں کو مشورے دیے اور عام قارئین کے لیے ایسی کتابیں لکھیں جن میں اسلام کو پیچیدہ مذہبی اور سیاسی حقیقت کے طور پر سمجھانے کی کوشش کی گئی۔

اُن کا اصرار تھا کہ دہشت گردی کی تشریح صرف مذہبی عقائد سے نہیں ہوسکتی۔ سیاسی ناانصافی، خراب حکمرانی، بیرونی مداخلت، سماجی تنہائی اور نظریاتی استحصال بھی انتہا پسندی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

مسلمانوں میں احترام کیوں ملا؟

ایسپوزیٹو کو مسلم دنیا میں اس لیے احترام ملا کہ وہ ہر اسلامی حکومت یا تحریک کے حامی تھے۔

انہوں نے آمریت، مذہبی انتہا پسندی اور مسلم معاشروں کے داخلی مسائل پر کھل کر تنقید کی، لیکن ان کا فرق یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو محض سکیورٹی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے۔

امریکی مسلمانوں کے لیے یہ رویہ خاص طور پر اہم تھا۔

نائن الیون کے بعد کے ماحول میں، جب بہت سے مسلمانوں کو بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑتی تھی، ایسپوزیٹو کی تحریروں نے انہیں ایک ایسی علمی جگہ دی جہاں وہ مشتبہ گروہ نہیں بلکہ امریکی معاشرے کے برابر کے شہری دکھائی دیتے تھے۔

🔎 اہم نکات
🕯️ اسلام اور مسلم دنیا کے ممتاز امریکی اسکالر جان ایسپوزیٹو 15 جولائی 2026 کو انتقال کر گئے۔
📚 ایسپوزیٹو نے پانچ دہائیوں سے زیادہ اسلام، سیاسی اسلام اور مسلم مسیحی تعلقات کے مطالعے میں گزارے۔
🇺🇸 انہوں نے امریکی معاشرے میں اس تصور کو مسلسل چیلنج کیا کہ اسلام یا پوری مسلم دنیا کو ایک ہی سیاسی یا نظریاتی اکائی سمجھا جاسکتا ہے۔
🌍 ایرانی انقلاب سے نائن الیون اور دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، ایسپوزیٹو کا اصرار رہا کہ اسلام سے متعلق واقعات کو تاریخی، سیاسی اور سماجی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
📖 ان کی اہم کتاب ’’اسلامی خطرہ: افسانہ یا حقیقت؟‘‘ نے سرد جنگ کے بعد اسلام کو نئے عالمی خطرے کے طور پر پیش کرنے والے بیانیے کو چیلنج کیا۔
🎙️ نائن الیون کے بعد وہ میڈیا، علمی حلقوں اور پالیسی مباحث میں ایک نمایاں آواز بنے اور دہشت گردی کو پورے اسلام سے جوڑنے کی مخالفت کرتے رہے۔
🤝 انہوں نے مسلم مسیحی مکالمے کو فروغ دیا اور امریکی مسلمانوں کو محض سکیورٹی مسئلہ سمجھنے کے بجائے امریکی معاشرے کے برابر کے شہریوں کے طور پر دیکھنے پر زور دیا۔
💡 ان کی فکری میراث کا بنیادی پیغام تھا کہ خوف کے مقابلے میں علم، نعروں کے مقابلے میں تحقیق اور تقسیم کے مقابلے میں مکالمہ زیادہ مؤثر راستہ ہے۔

امریکا نے آخر کیا کھویا؟

جان ایسپوزیٹو کی اصل میراث شاید ان کی کتابوں سے بھی بڑی ہے۔

جب امریکا ایران سے خوف زدہ تھا، وہ ایرانی سیاست کا پس منظر سمجھا رہے تھے۔ جب سیاسی اسلام کو ایک ہی رنگ میں پیش کیا جارہا تھا تو وہ اس کے اندرونی فرق واضح کررہے تھے۔ 

اسی طرح جب نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو اجتماعی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، وہ شواہد اور تحقیق کی بنیاد پر عمومی الزامات کو چیلنج کررہے تھے۔

ان کی وفات امریکا کے لیے اس لیے اہم نقصان ہے کہ اس نے ایک ایسی علمی آواز کھو دی جو مشکل وقت میں بھی خوف کے سامنے علم، نعروں کے مقابلے میں تحقیق اور تقسیم کے مقابلے میں مکالمے پر اصرار کرتی رہی۔

ایک ایسے دور میں جب اسلام اور مغرب کے تعلقات اب بھی سیاست، جنگوں اور شناخت کی بحث سے متاثر ہیں، ایسپوزیٹو کی سب سے بڑی یاد دہانی شاید یہی ہے کہ کسی معاشرے یا مذہب کو سمجھنے سے پہلے اس کے بارے میں فیصلہ صادر کردینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے، مگر اکثر خطرناک بھی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️