کلامِ نبویﷺ میں تشبیہات و تمثیلات — پہلی قسط
مولانا محمد قمرالزماں ندوی
پرتاپ گڑھ - انڈیا
1/3
کلامِ الٰہی کے بعد سب سے زیادہ اہم کلام، کلامِ رسولﷺ ہے
جس میں مشکل حقائق کو سمجھانے
اور انسان کی عملی تربیت کے لیے
نہایت مؤثر تشبیہات و تمثیلات بیان کی گئی ہیں
تشبیہ و تمثیل ہر زبان میں اظہار، تفہیم اور تعلیم و تربیت کا ایک مؤثر اور خوب صورت ذریعہ رہی ہے۔
کسی پیچیدہ حقیقت کو مانوس مثال کے ذریعے اس انداز میں سمجھایا جاسکتا ہے کہ وہ نہ صرف ذہن نشین ہوجائے بلکہ مدتوں یاد بھی رہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی قابلِ ذکر انسانی یا آسمانی ادب تشبیہات و تمثیلات سے خالی نہیں۔
کلامِ الٰہی کے بعد سب سے زیادہ اہمیت کلامِ رسولﷺ کو حاصل ہے۔
نبی اکرمﷺ نے حقائق سمجھانے، اخلاق سنوارنے اور انسانوں کی عملی تربیت کے لیے کثرت سے تشبیہات و تمثیلات اختیار فرمائیں۔
آپﷺ کی بیان کردہ مثالیں مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر معانی، حکمت اور اصلاح کا ایک جہان رکھتی ہیں۔
فیکٹ باکس +
- مضمون نگار: مولانا محمد قمرالزماں ندوی
- مقام: پرتاپ گڑھ، ہند
- خصوصی سلسلہ: کلامِ نبوی ﷺ میں تشبیہات و تمثیلات
- قسط: پہلی
- اہم تمثیلات: آئینہ، مسافر، چراغ اور بھوکے بھیڑیے
- مرکزی موضوع: اخلاقی و روحانی تربیت
احادیثِ نبویﷺ میں بیان ہونے والی چند ایسی ہی خوب صورت اور معنی خیز تمثیلات اس 3 اقساط پر مشتمل خصوصی سلسلے میں پیش کی جارہی ہیں۔
مزید پڑھیں
مومن، مومن کا آئینہ ہے
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’مومن، مومن کا آئینہ ہے۔‘(سنن ابی داؤد)
اس مختصر حدیث میں ایک مومن کو دوسرے مومن کے لیے آئینہ قرار دیا گیا ہے۔
انسان آئینے کو اپنی ضرورت سمجھتا ہے۔
آئینہ اسے اس کا عیب دکھاتا ہے، لیکن اس عیب کو دوسروں کے سامنے بیان نہیں کرتا۔
وہ حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، نہ کسی قسم کی تحقیر اور ملامت کرتا ہے بلکہ خاموشی سے وہی کچھ دکھا دیتا ہے جو اس کے سامنے موجود ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک مسلمان کو اپنے مسلمان بھائی میں کوئی خامی دکھائی دے تو اسے غیبت، تحقیر یا رسوائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
تقاضائے محبت اور دینی خیر خواہی یہ ہے کہ وہ نرمی اور اخلاص کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔
جس طرح انسان آئینے میں اپنا عیب دیکھ کر آئینے سے ناراض نہیں ہوتا، بلکہ اپنی اصلاح کرتا ہے، اسی طرح مومن کو بھی خیر خواہی سے کی جانے والی نصیحت قبول کرنی چاہیے۔
اس ایک تشبیہ میں باہمی محبت، خیر خواہی، پردہ پوشی اور اصلاح کا پورا نظام سمٹ آیا ہے۔
دنیا میں مسافر کی طرح رہو
رسول اللہﷺ نے دنیا سے بے رغبتی اور حرص و طمع سے اجتناب کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
’دنیا میں اس طرح رہو، گویا تم اجنبی ہو یا راہ چلتا مسافر۔‘(صحیح بخاری)
مسافر راستے کو اپنی مستقل منزل نہیں سمجھتا۔
وہ ضرورت کے مطابق سامان اپنے ساتھ رکھتا اور اصل منزل تک پہنچنے کی فکر میں رہتا ہے۔ راستے کی کوئی خوب صورت جگہ اسے اپنی منزل سے غافل نہیں کرتی۔
یہ کیوں اہم ہے؟ +
رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ تمثیلات محض ادبی مثالیں نہیں بلکہ انسان کی عملی اور روحانی تربیت کا ذریعہ ہیں۔ آئینہ خیر خواہی اور اصلاح، مسافر دنیا کی عارضی حیثیت، چراغ علم کے ساتھ عمل اور بھوکے بھیڑیے مال و منصب کی تباہ کن حرص کو واضح کرتے ہیں۔ یہ مختصر مثالیں آج بھی انسان کو اپنے رویّے، ترجیحات اور کردار کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہیں۔
اسی طرح مومن دنیا کو ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ آخرت کی جانب جانے والا ایک عارضی پڑاؤ سمجھتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا کو مکمل طور پر ترک کردے، اپنے فرائض سے منہ موڑ لے یا جائز نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھائے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ دنیا اور اس کی آسائشیں انسان کی زندگی کا آخری نصب العین نہ بن جائیں۔
مومن رزق حاصل کرتا، اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا اور معاشرے میں اپنا کردار نبھاتا ہے، مگر اس کا دل مال، منصب اور آسائشوں کا غلام نہیں بنتا۔
دنیا کی بے ثباتی اور اس کے ساتھ تعلق کی صحیح نوعیت سمجھانے کے لیے مسافر سے زیادہ مؤثر مثال شاید ہی کوئی دوسری ہو۔
بے عمل واعظ
دوسروں کو
روشن کرنے والے
مگر خود جلتے
چراغ جیسا ہے
بے عمل واعظ اور جلتا ہوا چراغ
رسول اللہﷺ نے اس شخص کے بارے میں، جو دوسروں کو نیکی کی تعلیم دے مگر خود اپنی تعلیم پر عمل نہ کرے، نہایت بلیغ مثال بیان فرمائی:
’جو شخص لوگوں کو نیکی کی تعلیم دے اور خود اپنے آپ کو بھول جائے، اس کی مثال اس چراغ کی سی ہے جو دوسروں کو روشنی دیتا ہے، مگر خود جلتا رہتا ہے۔‘
چراغ اپنے گرد موجود لوگوں کو روشنی فراہم کرتا ہے، لیکن خود اسی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ اسی طرح بے عمل واعظ کی باتوں سے دوسروں کو فائدہ تو پہنچ سکتا ہے، مگر اگر وہ خود اپنی نصیحت پر عمل نہ کرے تو اس کے علم اور دعوت کا حقیقی فائدہ اسے حاصل نہیں ہوتا۔
یہ تمثیل علما، واعظین، اساتذہ، والدین اور ہر اس شخص کے لیے ایک بڑی تنبیہ ہے جو دوسروں کو نیکی کی دعوت دیتا ہے۔
حقیقی دعوت وہی ہے جس کی تصدیق انسان کا اپنا کردار بھی کرے۔
الفاظ میں تاثیر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بولنے والے کی زندگی ان الفاظ کی عملی تصویر بن جائے۔
بھوکے بھیڑیوں سے زیادہ خطرناک
عزت، دولت اور اقتدار کی خواہش انسانی طبیعت میں موجود ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ خواہش انسان کی روح میں پیوست ہوکر اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جائے۔
مال اور منصب کی ہوس کسی ایک مقام پر جاکر نہیں رکتی۔
انسان جتنا حاصل کرتا ہے، اس سے زیادہ کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔
ایک منٹ میں مضمون +
رسول اللہ ﷺ نے مومن کو آئینہ قرار دے کر باہمی خیر خواہی اور پردہ پوشی کا درس دیا۔ دنیا میں مسافر کی طرح رہنے کی تعلیم انسان کو عارضی آسائشوں کا غلام بننے سے روکتی ہے۔ جلتے چراغ کی تمثیل علم کے باوجود بے عملی سے خبردار کرتی ہے، جبکہ بھوکے بھیڑیوں کی مثال واضح کرتی ہے کہ مال، شہرت اور اقتدار کی بے قابو خواہش انسان کے دین، اخلاق اور کردار کو شدید نقصان پہنچاسکتی ہے۔
جب مال اور اقتدار کی محبت انسان پر غالب آجائے تو وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے مذہب، سیاست اور سماج کے مختلف روپ اختیار کرنے لگتا ہے۔
ہوسِ زر اور ہوسِ اقتدار دونوں انسانیت، اخلاق اور دین کے لیے زہر بن سکتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اسے اتنا نقصان نہیں پہنچاتے، جتنا مال اور منصب کی حرص انسان کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘(جامع ترمذی)
دو بھوکے بھیڑیے کسی ریوڑ میں داخل ہوجائیں تو وہ محض اپنی ضرورت کے مطابق شکار نہیں کرتے، بلکہ پورے ریوڑ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اسی طرح مال، شہرت اور اقتدار کی بے قابو خواہش انسان کے ایمان، اخلاق اور کردار کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔
انسان بظاہر کامیاب اور بااثر دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اگر اس کامیابی کے پیچھے غرور، خود نمائی، ظلم اور دوسروں کے حقوق کی پامالی ہو تو یہ کامیابی نہیں، بلکہ روحانی تباہی ہے۔
کلامِ نبویﷺ کی ان تمثیلات میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے گہری رہنمائی موجود ہے۔
آئینہ ہمیں خیر خواہی اور اصلاح سکھاتا ہے، مسافر دنیا کی عارضی حیثیت یاد دلاتا ہے، جلتا ہوا چراغ علم کے ساتھ عمل کی ضرورت واضح کرتا ہے اور بھوکے بھیڑیے مال و منصب کی بے قابو حرص سے خبردار کرتے ہیں۔
اگلی قسط میں:
بہتی ہوئی نہر، تلاوتِ قرآن کی خوشبو، نیک و بد صحبت کے اثرات اور مخلص مومن کو سونے کی ڈلی اور شہد کی مکھی سے دی جانے والی بے مثال تشبیہات۔