براہ راست نشریات

موسمِ گرما: مملکت کا بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے ہنگامی الرٹ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی ہیلتھ اتھارٹی وقایہ کی جانب سے مسافروں کے لیے سفری الرٹ اور طبی ہدایات
اس طرح کی پیش بندی سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری رہتی ہے (فوٹو: اے آئی)

سعودی ہیلتھ اتھارٹی نے موسم گرما میں بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کے لیے انتباہی سطح بڑھا دی ہے۔

مزید پڑھیں

اتھارٹی کی جانب سے مسافروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران صحت اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں غفلت نہ برتیں کیونکہ اس موسم میں نقل و حرکت بڑھ جاتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ صحت کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر عالمی وبائی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ 

اس میں ہانٹا وائرس، ایبولا، پیلا بخار اور موسمی انفلوئنزا جیسی 

بیماریوں کے پھیلاؤ پر خاص طور پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔

ہم سے جڑے رہیں

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں ہانٹا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے، تاہم مسلسل رسک اسیسمنٹ سے صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے اور مسافروں میں شعور اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس طرح کی پیش بندی سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری رہتی ہے۔

سفر پر روانہ ہونے سے قبل مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی منزل مقصود کی صحت کی صورتحال اور وہاں کے لازمی طبی تقاضوں کو چیک کریں۔

خاص طور پر اُن ممالک کے لیے جہاں پیلا بخار عام ہے، ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا اور دیگر طبی شرائط پوری کرنا انتہائی ضروری ہے۔

وقایہ نے بیماریوں کے پھیلاؤ کے مختلف طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ہانٹا وائرس چوہوں کے ذریعے، ایبولا متاثرہ افراد یا جانوروں کے جسمانی سیال سے، پیلا بخار مچھروں کے کاٹنے سے، جبکہ انفلوئنزا سانس کے ذریعے پھیلتا ہے۔ 

حکام نے تاکید کی کہ ان تمام بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں۔

سعودی ہیلتھ اتھارٹی (وقایہ) کا ہنگامی الرٹ

موسمِ گرما میں بیرونِ ملک سفر کرنے والے شہریوں کے لیے اہم احتیاطی تدابیر

سعودی عرب میں ہانٹا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، عالمی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔

بیماریاں اور ان کے پھیلاؤ کے ذرائع
ہانٹا وائرس: چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔
ایبولا وائرس: متاثرہ افراد یا جانوروں کے جسمانی سیال سے۔
پیلا بخار: مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔
موسمی انفلوئنزا: سانس کے ذریعے ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔
مسافروں کے لیے لازمی ہدایات
  • روانگی سے قبل منزل مقصود کے لازمی طبی تقاضے اور ویکسینیشن (جیسے پیلا بخار سرٹیفکیٹ) چیک کریں۔
  • بیمار افراد، جنگلی جانوروں اور وبائی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔
  • ذاتی صفائی، بار بار ہاتھ دھونا اور محفوظ خوراک و پانی کا استعمال یقینی بنائیں۔
  • مچھروں سے بچاؤ کی ادویات استعمال کریں اور مناسب لباس پہنیں۔
  • علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر کو اپنی سفری تاریخ (Travel History) لازمی بتائیں۔
  • صحت سے متعلق معلومات صرف 'وقایہ' کے سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔

مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بیمار افراد اور جنگلی جانوروں سے دُور رہیں۔ جن علاقوں میں وبائیں پھیلی ہوئی ہوں، وہاں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ 

اسی طرح اپنی منزل پر پہنچ کر مقامی ہیلتھ اتھارٹیز کی جانب سے جاری ہدایات پر مکمل عمل یقینی بنائیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی صفائی کا خیال رکھنا، ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونا اور خوراک و پانی کے معیار کو یقینی بنانا صحت کے لیے ضروری ہے۔ 

اسی طرح مچھروں سے بچاؤ کے لیے کیڑے مار ادویات کا استعمال اور مناسب لباس پہننا بھی انتباہی تدابیر کا حصہ ہے تاکہ کسی بھی انفیکشن سے محفوظ رہا جا سکے۔

سفر کے دوران یا واپسی پر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔ 

سعودی ہیلتھ اتھارٹی وقایہ کی جانب سے مسافروں کے لیے سفری الرٹ اور طبی ہدایات
ہیلتھ اتھارٹی نے موسم گرما میں بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے انتباہی سطح بڑھا دی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ڈاکٹر کو اپنے سفر کی تاریخ اور ممکنہ خطرات کے بارے میں ضرور بتائیں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے اور بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صحت سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں ۔

اس سلسلے میں وقایہ کی ویب سائٹ پر موجود سفری ہدایات سے استفادہ کریں تاکہ خود کو اور معاشرے کو متعدی بیماریوں کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔