سعودی ہیلتھ اتھارٹی نے موسم گرما میں بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کے لیے انتباہی سطح بڑھا دی ہے۔
مزید پڑھیں
اتھارٹی کی جانب سے مسافروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران صحت اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں غفلت نہ برتیں کیونکہ اس موسم میں نقل و حرکت بڑھ جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ صحت کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر عالمی وبائی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
بیماریوں کے پھیلاؤ پر خاص طور پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں ہانٹا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے، تاہم مسلسل رسک اسیسمنٹ سے صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے اور مسافروں میں شعور اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس طرح کی پیش بندی سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری رہتی ہے۔
قبل السفر، احرص على الاطلاع على الاشتراطات الصحية، والالتزام بالإرشادات الوقائية، ومعرفة أبرز الأمراض التي قد ترتبط بالسفر وأعراضها وطرق الوقاية منها؛ لتجعل رحلتك أكثر أمانًا.#هيئة_الصحة_العامة #وقاية pic.twitter.com/7wTIRGtgVJ
— هيئة الصحة العامة (@Saudi_PHA) July 8, 2026
سفر پر روانہ ہونے سے قبل مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی منزل مقصود کی صحت کی صورتحال اور وہاں کے لازمی طبی تقاضوں کو چیک کریں۔
خاص طور پر اُن ممالک کے لیے جہاں پیلا بخار عام ہے، ویکسینیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا اور دیگر طبی شرائط پوری کرنا انتہائی ضروری ہے۔
وقایہ نے بیماریوں کے پھیلاؤ کے مختلف طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ہانٹا وائرس چوہوں کے ذریعے، ایبولا متاثرہ افراد یا جانوروں کے جسمانی سیال سے، پیلا بخار مچھروں کے کاٹنے سے، جبکہ انفلوئنزا سانس کے ذریعے پھیلتا ہے۔
حکام نے تاکید کی کہ ان تمام بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں۔
سعودی ہیلتھ اتھارٹی (وقایہ) کا ہنگامی الرٹ
موسمِ گرما میں بیرونِ ملک سفر کرنے والے شہریوں کے لیے اہم احتیاطی تدابیر
سعودی عرب میں ہانٹا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، عالمی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
- روانگی سے قبل منزل مقصود کے لازمی طبی تقاضے اور ویکسینیشن (جیسے پیلا بخار سرٹیفکیٹ) چیک کریں۔
- بیمار افراد، جنگلی جانوروں اور وبائی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔
- ذاتی صفائی، بار بار ہاتھ دھونا اور محفوظ خوراک و پانی کا استعمال یقینی بنائیں۔
- مچھروں سے بچاؤ کی ادویات استعمال کریں اور مناسب لباس پہنیں۔
- علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر کو اپنی سفری تاریخ (Travel History) لازمی بتائیں۔
- صحت سے متعلق معلومات صرف 'وقایہ' کے سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔
مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بیمار افراد اور جنگلی جانوروں سے دُور رہیں۔ جن علاقوں میں وبائیں پھیلی ہوئی ہوں، وہاں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
اسی طرح اپنی منزل پر پہنچ کر مقامی ہیلتھ اتھارٹیز کی جانب سے جاری ہدایات پر مکمل عمل یقینی بنائیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذاتی صفائی کا خیال رکھنا، ہاتھوں کو باقاعدگی سے دھونا اور خوراک و پانی کے معیار کو یقینی بنانا صحت کے لیے ضروری ہے۔
اسی طرح مچھروں سے بچاؤ کے لیے کیڑے مار ادویات کا استعمال اور مناسب لباس پہننا بھی انتباہی تدابیر کا حصہ ہے تاکہ کسی بھی انفیکشن سے محفوظ رہا جا سکے۔
سفر کے دوران یا واپسی پر علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔
ڈاکٹر کو اپنے سفر کی تاریخ اور ممکنہ خطرات کے بارے میں ضرور بتائیں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے اور بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صحت سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں ۔
اس سلسلے میں وقایہ کی ویب سائٹ پر موجود سفری ہدایات سے استفادہ کریں تاکہ خود کو اور معاشرے کو متعدی بیماریوں کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔