امریکا نے جنوبی ایران میں فضائی حملوں کا نیا مرحلہ شروع کرتے ہوئے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے امریکی فوجی مفادات پر جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی محدود فوجی کارروائیاں کسی بھی وقت وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ہر نئی فوجی کارروائی مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے۔
واشنگٹن نے جنوبی ایران میں نئے فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جسے مبصرین امریکی فوجی حکمتِ عملی کے دوسرے مرحلے کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ کشیدگی وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
جنوبی ایران میں نیا محاذ
جمعرات کو امریکی افواج نے جنوبی ایران میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جو گزشتہ دو روز کے دوران حملوں کا نیا رخ تصور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق عسکری ماہر کرنل نضال ابو زید کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکی فوج اب ایک نئے آپریشنل محاذ پر منتقل ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق حملوں سے قبل امریکی فضائی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جن میں قبرص اور جزیرہ کریٹ کے درمیان ایندھن بردار طیاروں کی پروازیں، مواصلاتی سرگرمیوں میں تیزی اور امریکی
طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی آپریشنل پیش قدمی شامل تھی، جو ممکنہ طور پر آئندہ کارروائیوں کی تیاری کا حصہ تھیں۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی شہروں کنارک، بوشہر، جغادک اور بندر عباس میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے۔
مرحلہ وار فوجی حکمتِ عملی
کرنل نضال ابو زید کا کہنا ہے کہ نئی کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا نے میدانِ جنگ کو مختلف سیکٹروں میں تقسیم کر رکھا ہے اور ہر مرحلے میں الگ علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ مہم کئی دن بلکہ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، جس کا بنیادی مقصد پاسدارانِ انقلاب کی عسکری صلاحیت کو بتدریج کمزور کرنا اور اس پر دباؤ بڑھانا ہے۔
اس کے باوجود وہ فی الحال مکمل جنگ کے امکان کو کم قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق دونوں فریق اب بھی محدود اور حساب شدہ حملوں کے ذریعے براہِ راست وسیع جنگ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران بھی خاموش رہنے کو تیار نہیں
ایرانی صحافیوں کی انجمن کے سربراہ ما شاء اللہ شمس الواعظین کا کہنا ہے کہ تہران مذاکرات کے دوران امریکی فوجی دباؤ کو معمول کا حصہ بننے نہیں دے گا۔
ان کے مطابق اگر واشنگٹن نے حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا تو ایران بھی اپنے ردعمل میں مزید شدت لا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ اسرائیل بھی اس محاذ پر زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا مفاہمتی یادداشت کی اپنی تشریح مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ اس معاہدے میں اختلافات کے حل کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔
حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ
اسی دوران ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بوشہر کے جوہری مرکز کے قریب ایک امریکی گولہ گرنے کی اطلاع دی، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے مغربی ایشیا میں ایک کمانڈ سینٹر اور اردن میں واقع امریکی الازرق ایئربیس پر 10 میزائل داغے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے بحرین کے ساحل کے قریب موجود امریکی جنگی جہازوں، جن میں ایک امریکی ڈسٹرائر بھی شامل ہے، پر کروز میزائل داغے، تاہم ان حملوں کے نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے اندر نئی فضائی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل ذخائر، ڈرون مراکز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ حملوں میں کم از کم 17 افراد جاں بحق اور 93 زخمی ہوئے۔
ایران نے امریکا پر شہری انفراسٹرکچر، پلوں، تہران-مشہد ریلوے لائن اور بوشہر جوہری تنصیب کے اطراف کو نشانہ بنانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
’غلطی سے جنگ‘ کا خطرہ
کویت یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ الشایجی کے مطابق موجودہ صورتحال ایک ایسی ’زیرو سم‘ کیفیت کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ہر فریق اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے، جس سے کسی غلط اندازے یا محدود واقعے کے نتیجے میں بڑی جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کی ہلاکت یا کسی حساس تنصیب کو بڑا نقصان پہنچا تو واشنگٹن زیادہ سخت ردعمل دے سکتا ہے، جبکہ ایران بھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے، جس سے پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسرائیل اور جوہری پروگرام دوبارہ مرکزِ توجہ
اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ پیش رفت وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مؤقف کو تقویت دیتی ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت دیرپا حل نہیں ہے۔
اسی کے ساتھ ایران کا جوہری پروگرام دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ وقتی طور پر پس منظر میں چلا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے خلاف فوجی اور سفارتی دباؤ کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
کشیدگی برقرار، امکانات کھلے
اگرچہ امریکا اور ایران دونوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں محدود نوعیت کی ہیں، تاہم حملوں کے پھیلتے دائرے اور مسلسل جوابی اقدامات نے خطے میں تشویش بڑھا دی ہے۔
سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن آئندہ چند دن یہ طے کریں گے کہ صورتحال مذاکرات کی طرف بڑھتی ہے یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور زیادہ خطرناک تصادم میں داخل ہوتا ہے۔