امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آج رات دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے تہران پر معاہدے کی خلاف ورزی اور جوہری پروگرام نہ روکنے کا الزام عائد کیا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کی تدفین کے دوران ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا، جبکہ واشنگٹن نے خارگ جزیرے، توانائی تنصیبات اور بحری ناکہ بندی جیسے آپشنز بھی کھلے رکھے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے خلاف اپنی سخت ترین دھمکیوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آئندہ چند گھنٹوں میں ایران پر دوبارہ فوجی حملے کر سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کسی صورت تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بیان انہوں نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا معاملہ حکومت کی تبدیلی کا نہیں بلکہ اس کے جوہری پروگرام کو روکنے کا ہے۔
ان کے بقول ایران نے حالیہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے امریکا خود اس کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کارروائی کرے گا۔
مزید پڑھیں
انہوں نے ایرانی قیادت پر معاہدے سے انحراف اور دھوکا دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب مزید انتظار نہیں کرے گا، اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی طاقت استعمال کی جائے گی۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ گزشتہ رات کیے گئے امریکی حملے طاقتور تھے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی امریکا نے اپنی مکمل طاقت استعمال نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزید سخت کارروائی
کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کی توانائی تنصیبات، بجلی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ بھی زیر غور آپشنز میں شامل ہے، جبکہ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
ایک انتہائی متنازع بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے دوران ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔
ان کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی اس منصوبے پر غور کے حق میں تھے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی فائل پر کام جاری رکھیں گے، اگرچہ ان کے بقول سفارتی حل کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو چکے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب امریکا نے ایک روز قبل ایران میں 80 سے زائد اہداف پر فضائی حملے کیے، جنہیں امریکی سینٹرل کمانڈ CENTCOM نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب قرار دیا۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں پاسدارانِ انقلاب کی کشتیاں، فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، کمانڈ سینٹرز اور بحری جہاز شکن میزائلوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ حملوں میں جنوبی علاقوں کی بندرگاہوں اور دیگر مقامات کو نقصان پہنچا اور جانی نقصان بھی ہوا۔
اس کے جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور خبردار کیا کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو خطے میں موجود تمام امریکی اڈے جائز اہداف ہوں گے۔
دوسری جانب ایک امریکی فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں سے نہ کوئی امریکی ہلاک ہوا اور نہ ہی کسی فوجی تنصیب کو بڑا نقصان پہنچا، کیونکہ بیشتر میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے۔
سفارتی محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 17 جون کو ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ معاہدہ امریکا نے اپنی فوجی کارروائیوں اور نئی پابندیوں کے ذریعے توڑا۔
ایران کے علاوہ ٹرمپ نے یوکرین جنگ پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ جلد روسی صدر ولادیمیر پوتن سے رابطہ کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکا یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کا حق دے گا تاکہ اس کی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہو سکے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب خلیج میں فوجی کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، امریکا اور ایران آمنے سامنے ہیں، اور عالمی سطح پر توانائی کی رسد، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
📚 ارپورٹ کے ذرائع 3 مستند ذرائع
الشرق بزنسمعاشی و عالمی منڈیاں اصل رپورٹ پڑھیں ↗ الجزیرہبین الاقوامی خبریں اصل رپورٹ پڑھیں ↗ العربیہایران اور عالمی سیاست اصل رپورٹ پڑھیں ↗BY: overseaspost.net