مراکش اور فرانس کی فٹبال ٹیمیں جمعرات کو فیفا ورلڈکپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔
مزید پڑھیں
اِس بار مراکش کی ٹیم 2022 کے ورلڈکپ سیمی فائنل میں فرانس سے ملنے والی شکست کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ فرانس مسلسل تیسری بار سیمی فائنل تک رسائی کی کوشش میں ہے۔
آپٹا کمپنی کے سپر کمپیوٹر نے اس اہم مقابلے کے لیے فرانس کو 60.9 فیصد کامیابی کا امکان دیا ہے۔
جبکہ میچ کے مقررہ وقت میں ڈرا ہونے کی شرح 22.2 فیصد بتائی گئی ہے۔
اسی طرح فرانس فی الحال ٹورنامنٹ میں فیورٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی ٹیم 2018 میں چیمپئن بننے اور 2022 میں رنر اپ رہنے کے بعد اب مسلسل تیسری بار سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے کوشاں ہے۔
اگر فرانس یہ میچ جیت جاتا ہے تو وہ برازیل اور جرمنی کے بعد تاریخ کی تیسری ٹیم بن جائے گی جس نے مسلسل 3 بار آخری 4 میں جگہ بنائی۔
فرانس نے کوارٹر فائنل تک کا سفر پیراگوئے کو ایک مشکل مقابلے کے بعد شکست دے کر طے کیا۔
اس میچ میں کیلیان مبابے نے پنالٹی کک کے ذریعے واحد گول کیا، جس کے بعد ان کے ٹورنامنٹ میں گولز کی تعداد 7 ہو گئی ہے اور وہ گولڈن بُوٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔
فرانسیسی ٹیم کے لیے کیلیان مبابے کے ساتھ ساتھ مائیکل اولیسی بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
فرانسیسی ٹیم اپنی شاندار فارم کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور وہ اپنے گزشتہ 7 میچوں میں مسلسل فتوحات حاصل کر چکی ہے، جو ان کے مضبوط مورال کا ثبوت ہے۔
دوسری جانب مراکش کو انجریز کے مسائل کا سامنا ہے، خاص طور پر اسماعیل صائباری کی شرکت مشکوک ہے۔
صائباری کو کینیڈا کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے میچ کے دوران ران کی انجری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد کوچ محمد وہبی اب ابراہیم دیاز اور اشرف حکیمی پر انحصار کریں گے۔
ابراہیم دیاز 2025 کے افریقہ کپ کے بعد سے مراکش کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، جنہوں نے 6 گول کیے اور 4 میں مدد کی۔
اسی طرح اشرف حکیمی بھی شاندار فارم میں ہیں، جنہوں نے 2026 کے ورلڈ کپ میں 15 مواقع پیدا کیے ہیں جو کسی بھی افریقی ڈیفینڈر کا ریکارڈ ہے۔
علاوہ ازیں مراکش کے لیے شادی ریاض کی گھٹنے کی انجری بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اُدھر فرانسیسی ٹیم کو بھی اپنے اہم کھلاڑیوں اوریلیان چوامینی اور ولیم سلیبا کی فٹنس کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، جو گزشتہ میچ کے دوران زخمی ہو گئے تھے اور ان کی شرکت ابھی غیر یقینی ہے۔
تاریخی اعتبار سے فرانس کا پلڑا بھاری ہے، کیونکہ دونوں ٹیموں کے درمیان گزشتہ 6 مقابلوں میں سے فرانس نے 3 جیتے ہیں اور 3 ڈرا ہوئے ہیں۔
تاہم اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں فرانس کی نصف شکستیں افریقی ٹیموں کے خلاف ہوئی ہیں، جو مراکش کے لیے امید کی کرن ہے۔