ارجنٹائن کی فٹبال ٹیم نے ورلڈکپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں مصر کے خلاف دو صفر کے خسارے سے نکل کر تین دو سے کامیابی حاصل کی۔
مزید پڑھیں
یہ مثالی جیت ارجنٹائن کی ورلڈکپ تاریخ میں پانچواں یادگار کم بیک ہے، جس نے ثابت کیا کہ یہ ٹیم آخری لمحات تک ہمت نہیں ہارتی۔
1958 کا سویڈن ورلڈ کپ
ارجنٹائن کی ورلڈکپ میں واپسی کی کہانی 1958ء کے سویڈن ورلڈکپ سے شروع ہوئی۔
شمالی آئرلینڈ کے خلاف میچ میں ارجنٹائن کو ابتدائی خسارے کا سامنا
تھا، لیکن ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے تین ایک سے کامیابی سمیٹی۔
اس میچ میں اورسٹیس عمر کورباٹا، نوربرٹو مینینڈیز اور لودوویکو ایویو نے گول کیے تھے۔
1978: اپنی سرزمین پر پہلا عالمی اعزاز
20 سال بعد 1978ء کے ورلڈکپ میں ارجنٹائن نے ہنگری کے خلاف وہی کہانی ایک بار پھر دہرائی۔
میچ کے آغاز میں ہنگری کے گول نے میزبان ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا تھا، مگر لیوپولڈو لوکی اور ڈینیل برٹونی کے گولز نے ارجنٹائن کو دو ایک سے فتح دلوا کر پہلا ورلڈ کپ جیتنے کی راہ ہموار کی۔
1994 کا امریکا ورلڈکپ
امریکا میں منعقدہ ورلڈکپ 1994 کے گروپ مرحلے میں نائیجیریا نے پہلے گول کر کے برتری حاصل کی تھی۔
تاہم ارجنٹائن نے لیجنڈ فٹبالر ڈیاگو میراڈونا کی قیادت میں شاندار ردعمل دیا۔ کلاؤڈیو کینیجیا نے دو گول اسکور کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا، جس میں میراڈونا کی ایک تیز رفتار فری کک بھی شامل تھی۔
2006 کا جرمنی ورلڈکپ
جرمنی ورلڈکپ کے راؤنڈ آف سکسٹین میں میکسیکو کے خلاف میچ فٹبال شائقین کو ہمیشہ یاد رہے گا۔
ہرنان کریسپو نے اسکور برابر کیا، جبکہ میچ کے اضافی وقت میں میکسی روڈریگز نے ایک شاندار ’وولی‘ کے ذریعے گول کر کے ارجنٹائن کو دو ایک سے جیت دلائی، جو ورلڈکپ کی تاریخ کا حسین ترین منظر تھا۔
ورلڈکپ 2026:
مصر کو یاسر ابراہیم (15 ویں منٹ) اور مصطفیٰ زیکو (67 ویں منٹ) کے گولز سے دو صفر کی برتری حاصل تھی۔
ایسا لگ رہا تھا کہ دفاعی چیمپئن باہر ہو جائے گی، مگر ارجنٹائن نے ہمت نہ ہاری اور کرسچین رومیرو کے گول سے امید کی کرن روشن کی۔
ڈرامائی اختتام اور تاریخی جیت
لیونل میسی نے 83 ویں منٹ میں اسکور برابر کر دیا، جس سے فٹبال شائقین میں نیا جوش پیدا ہوگیا۔
میچ کے 92 ویں منٹ میں اینزو فرنینڈس نے فیصلہ کن گول کر کے ارجنٹائن کو تین دو سے ناقابل یقین فتح دلوائی۔ یہ جیت ارجنٹائن کی ورلڈکپ تاریخ میں ایک نیا اور سنہری باب رقم کر گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ارجنٹائن کی یہ کامیابیاں محض حادثاتی نہیں، بلکہ اس کی سخت مزاجی اور بحران میں سکون برقرار رکھنے کی صلاحیت کا نتیجہ ہیں۔
کھیل کے میدان سے نکلتے نکلتے واپسی کا عزم ثابت کرتا ہے کہ عالمی سطح کے مقابلوں میں مہارت کے ساتھ ساتھ اعصابی مضبوطی ہی کسی بھی ٹیم کو فاتحانہ ریکارڈ قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔