برطانیہ میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ہوٹلوں کو بند کرنے کا حکومتی فیصلہ ہزاروں افراد کے لیے عدم تحفظ کا باعث بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں
شمالی انگلینڈ کے شہر ہیلی فیکس میں واقع ’وول مرچنٹ‘ ہوٹل کو 4 برس بعد دوبارہ عام مہمانوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
ہوٹلوں سے منتقلی اور پناہ گزینوں کی مشکلات
حکومت اس اقدام کو کمیونٹیز کی بحالی قرار دیتی ہے، لیکن دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس سے پناہ گزینوں کے قائم کردہ سماجی روابط ٹوٹ رہے ہیں۔
خاندانوں کو زبردستی غیر موزوں رہائش گاہوں یا دُور دراز فوجی تنصیبات میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی زندگی دوبارہ اجڑ گئی ہے۔
بحران کی جڑ
حکومت پناہ گزینوں کی ہوٹلز میں رہائش ختم کرنے کی کوشش میں ہے، جو سیاسی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں سماجی رہائش کی شدید قلت ہے اور پناہ کی درخواستیں برسوں سے زیر التوا ہیں، جس سے عارضی رہائش کا بحران سنگین ہو چکا ہے۔
اعداد و شمار
رپورٹس کے مطابق مارچ کے اختتام تک پناہ کی درخواستوں کے مسترد ہونے کے خلاف 87 ہزار 500 اپیلیں دائر کی گئی تھیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہیں۔
اس وقت 20 ہزار سے زائد پناہ گزین ہوٹلوں میں اور 72 ہزار سے زیادہ دیگر عارضی رہائش گاہوں میں مقیم ہیں۔
طویل المدتی حل میں ناکامی
برطانیہ میں کورونا وبا کے دوران ہوٹلوں کا استعمال ایک ہنگامی قدم تھا، جو بعد میں معمول بن گیا۔
2020ء میں ہوٹلوں میں رہائش پذیر افراد کی تعداد 1200 تھی جو 2023ء تک 56 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ اب حکومت اسے 170 ہوٹلوں تک محدود کر کے اخراجات کم کرنے کی کوشش میں ہے۔
فوجی مراکز میں منتقلی کا منصوبہ
برطانوی وزارت داخلہ اب پناہ گزینوں کو سابق فوجی تنصیبات میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ ہوٹل میں فی کس روزانہ خرچ 144.98 پاؤنڈ ہے، جبکہ فوجی مراکز میں یہ لاگت 132 پاؤنڈ فی فرد تک محدود رہے گی، جس سے حکومتی خزانے پر بوجھ کم ہوگا۔
مستقل عدم تحفظ
دورہیم یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن ڈارلنگ کے مطابق ہوٹلوں میں مقیم افراد کو اچانک منتقلی کا نوٹس دیا جاتا ہے، جس سے بچے اسکول اور والدین اپنے دوستوں سے کٹ جاتے ہیں۔
ایک شامی پناہ گزین نے بتایا کہ ہر چند ماہ بعد منتقلی انہیں دوبارہ اجنبی ہونے کا احساس دلاتی ہے۔
سیاسی دباؤ ، نجی کمپنیوں کا منافع
برطانیہ میں پناہ گزینوں کی ہوٹل رہائش سیاسی تنازع بن چکی ہے، جس نے مقامی انتخابات کے نتائج پر بھی اثر ڈالا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحران سے نجی کمپنیاں اربوں کما رہی ہیں۔ مئی 2025ء میں 3 ٹھیکیدار کمپنیوں نے 380 ملین پاؤنڈ اور برطانیہ نامی ہوٹل چین نے 150 ملین پاؤنڈ منافع کمایا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانوی حکومت کا پناہ گزینوں کو ہوٹلوں سے نکال کر فوجی مراکز میں منتقل کرنا ایک معاشی فیصلہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایک سنگین سماجی بحران کا پیش خیمہ ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ رہائش کی مستقل کمی اور تیز رفتار منتقلی کا عمل پناہ گزینوں کی نفسیاتی صحت اور ان کے سماجی انضمام کے عمل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔