براہ راست نشریات

جنگ پھر سر پر! اسرائیل، ایران پر نئے حملے کی تیاری میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اسرائیل ایران جنگ

اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کے لیے عسکری تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ختم قرار دیتے ہوئے مذاکرات کو بے معنی قرار دیا ہے۔
ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے نے پورے خطے کو ایک بار پھر بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ واللا نے آج بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکان کے پیش نظر بھرپور عسکری تیاریوں میں مصروف ہے۔ 

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے رواں ہفتے امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ کے ساتھ ایک اہم رابطہ اور منصوبہ بندی کا اجلاس منعقد کیا، جس میں ایران کے ساتھ ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ 

مزید پڑھیں

نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے، ایران کے ساتھ مزید بات چیت صرف وقت کا ضیاع ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرنے سے بھی دریغ نہ کرتا۔ 

انہوں نے الزام لگایا کہ تہران نے 17 جون کو واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شرائط کو بار بار توڑ مروڑ کر پیش کیا اور معاہدے کی روح کے خلاف رویہ اختیار کیا۔ 

ChatGPT Image 8 يوليو 2026، 11 38 44 ص 1

ان کا کہنا تھا کہ ہم معاہدہ کرتے ہیں، پھر وہ میڈیا کے سامنے جا کر کہتے ہیں کہ ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں، ان کے رویے میں کوئی معمول کی بات نہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بات کریں گے، جو ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شامل تھے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اب فیصلہ ایران کو کرنا ہوگا کہ آیا وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا چاہتا ہے یا نہیں۔

ادھر امریکہ نے منگل کو ایران کے اندر 80 سے زائد فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی، جس میں فضائی دفاعی نظام، فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز، ساحلی ریڈار، اینٹی شپ میزائل سائٹس اور پاسدارانِ انقلاب کی بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ہم سے جڑے رہیں

اس کے جواب میں ایران نے اعلان کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے ہیں، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر 17 جون کی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ 

امریکی انتظامیہ نے حملوں کے بعد ایرانی تیل پر دی گئی عارضی پابندیوں میں نرمی بھی واپس لے لی، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک مرتبہ پھر انتہائی نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ 

ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت

اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ عسکری تیاریوں نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو محدود فوجی جھڑپیں ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ 

دوسری جانب ایران بھی مسلسل یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ کسی بھی نئی کارروائی کا بھرپور اور سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

اسی دوران خلیجی ممالک نے اپنی دفاعی نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں، جبکہ عالمی توانائی منڈی، بحری تجارت اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ 

اگرچہ عالمی برادری دونوں فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کر رہی ہے، تاہم تازہ بیانات، عسکری نقل و حرکت اور بڑھتی ہوئی کشیدگی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ خطہ ایک بار پھر ایک بڑے اور خطرناک تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag