براہ راست نشریات

پاکستان متحرک، عاصم منیر کے ایرانی قیادت سے اہم رابطے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Asim Munir Iran US Tensions

امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت سے رابطے کیے، جبکہ اسلام آباد نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور خطے کو نئی جنگ سے بچائیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرتی کشیدگی کے دوران پاکستان نے تنازع کو سفارتی ذرائع سے روکنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت سے اہم رابطے کیے تاکہ تیزی سے بگڑتی صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے اندر 80 سے زائد مقامات پر فضائی حملے کیے، جبکہ تہران نے جوابی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید امریکی حملے ہوئے تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا دوبارہ بھڑک اٹھنا کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان نے تمام متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو حالات کو مزید خراب کریں یا علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچائیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی اور ان کے خیال میں مکمل جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے حملے جاری رکھے تو امریکہ پہلے سے زیادہ سخت فوجی کارروائی کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق امریکی حملے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیے گئے۔ 

انہوں نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران امریکہ نے ایرانی فضائی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اس کے باوجود امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ اگر تہران آمادہ ہو تو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دروازہ اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی نظر میں سابقہ جنگ بندی کا معاہدہ عملاً ختم ہو چکا ہے۔