سعودی عرب نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، جہاں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس کے دوران خواتین کو سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں بااختیار بنانے سے متعلق سعودی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر اور مستقل مندوب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے قومی اقدامات کو بین الاقوامی پالیسیوں میں ڈھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
عبدالمحسن بن خثیلہ نے کہا کہ یہ کامیابی وژن 2030 کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
اعتماد کی عکاسی کرتی ہے جو سعودی عرب کے کردار پر کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی اور انسانی ترقی کے شعبوں میں مملکت کی عالمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ قرارداد ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے شروع کردہ قومی اقدام کا حصہ ہے۔
بمبادرة سعودية وقرار أممي.. مجلس حقوق الإنسان في جنيف يعتمد قرار تمكين المرأة في الأمن السيبراني pic.twitter.com/S2wbAihvXi
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) July 7, 2026
اس کا مقصد عالمی سطح پر خواتین کی سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں شمولیت بڑھانا، ان کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھارنا اور ڈیجیٹل معیشت میں موجود صنفی خلا کو پُر کرنا ہے۔
سعودی کابینہ نے بھی اس قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ مملکت کی ان منفرد کاوشوں کا ثمر ہے جو ولی عہد کے وژن کے تحت شروع کی گئی تھیں۔
قیادت کی سطح پر ان فیصلوں کا مقصد عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کو ڈیجیٹل دنیا میں بااختیار بنانا ہے۔
سفیر عبدالمحسن بن خثیلہ نے مزید کہا کہ یہ اقدام اب محض ایک قومی پروگرام تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی تعاون اور صلاحیت سازی کے لیے ایک عالمی حوالہ بن چکا ہے۔
— Saudi Arabia Mission to the UN in Geneva (@KSAPermanentGVA) July 7, 2026
انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت اور سیکیورٹی کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
مبصرین کے مطابق عالمی سطح پر اس قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری سعودی سفارت کاری کی بڑی کامیابی ہے۔
یہ پیشرفت ثابت کرتی ہے کہ سعودی عرب نہ صرف اپنے قومی اہداف حاصل کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایسے عملی اقدامات متعارف کروا رہا ہے جنہیں وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔