براہ راست نشریات

امریکا کے 90 اہداف پر حملوں کے بعد ایران دوبارہ مذاکرات پر آمادہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
US Iran Conflict 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے بعد دوبارہ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ادھر امریکا نے ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب تہران نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سخت جواب دینے اور اپنے مفادات کے دفاع کا عزم دہرایا۔

امریکا اور ایران کے درمیان تصادم ایک مرتبہ پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ 

ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تہران نے خود واشنگٹن سے رابطہ کر کے مذاکرات اور نئے معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی جنگی طیارے مسلسل دوسرے روز بھی ایران کے اندر بڑے پیمانے پر حملے کر رہے ہیں۔ 

یوں سفارت کاری اور جنگ ایک ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں، جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ امریکی حملوں کے فوراً بعد ایرانی حکام نے واشنگٹن سے رابطہ کیا اور معاہدہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ایران کی نیت پر کوئی اعتماد نہیں۔ 

مزید پڑھیں

ان کے بقول ایران نے ماضی میں بھی وعدوں کی خلاف ورزیاں کی ہیں، اس لیے کسی بھی نئے معاہدے پر اندھا اعتماد ممکن نہیں۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کے ساتھ طویل جنگ نہیں بلکہ اس کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ ہے۔ 

اگر تہران نے دوبارہ امریکی مفادات یا ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا تو واشنگٹن اس سے بھی زیادہ طاقتور جواب دے گا۔ 

ٹرمپ کے مطابق حالیہ کارروائی ایران کے حملوں کے جواب میں 20 گنا زیادہ شدید تھی۔

امریکی سینٹرل کمان ’سینٹکام‘ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ 

ChatGPT Image 8 يوليو 2026، 11 38 44 ص 1

ان حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون گودام، بحری تنصیبات اور فوجی لاجسٹک مراکز شامل تھے۔ 

امریکی فوج کے مطابق مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں صرف فوجی ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام بھی ہیں۔ 

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران نے تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جبکہ جوہری مذاکرات میں مسلسل تاخیر اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولنے نے بھی امریکی صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔

ہم سے جڑے رہیں

ادھر تہران نے بھی انتہائی سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دھونس اور وعدہ خلافی کی اب بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ 

انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کسی امریکی دباؤ پر نہیں بلکہ صرف ایران کے قومی مفادات کے مطابق ہی کھلے گی۔

ایران نے اقوام متحدہ کو باضابطہ شکایت بھی ارسال کی ہے، جس میں امریکی حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب جنوبی ایران ایک مرتبہ پھر شدید بمباری کی زد میں رہا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، بوشہر، سیریک، چاہ بہار، کنارک اور جزیرہ ابو موسیٰ سمیت کئی علاقوں میں یکے بعد دیگرے زور دار دھماکے ہوئے۔ 

بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہوگئی جبکہ چاہ بہار بندرگاہ کی متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

آبنائے ہرمز

ایرانی ذرائع کے مطابق چاہ بہار میں بحری نگرانی کا ٹاور، بندرگاہ کے دو اہم رصيف اور دیگر تنصیبات متاثر ہوئیں، جبکہ امام علی اسپتال بھی حملوں کے نتیجے میں اڑنے والے ملبے کی زد میں آیا۔ 

ایران کی وزارتِ
صحت کے مطابق
امریکی حملوں
میں 14 افراد
جاں بحق ہوئے

تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ بوشہر جوہری تنصیب محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حملوں کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ریلوے ٹریفک بھی معطل کر دی گئی۔
ایرانی ریلوے حکام کے مطابق ایک پل اور ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا ہے، جس کی مرمت جاری ہے، جبکہ مسافروں کو متبادل زمینی ٹرانسپورٹ کے ذریعے منزل تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔
ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں فضائیہ اور بحریہ کے آٹھ اہلکار بھی شامل ہیں۔
اسی دوران بحرین نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔

بحرینی حکام نے تمام فوجی یونٹس کو ہائی الرٹ رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے کسی بھی مشتبہ شے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

ادھر ایران میں بھی جوابی کارروائی کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا کو ’سخت طمانچے‘ کی دھمکی دی، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو جواب ’فیصلہ کن اور تباہ کن‘ ہوگا۔
مختلف ایرانی ذرائع کے مطابق خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل ہیں۔

آبنائے ہرمز

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ ایک روز قبل ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں۔ 

دونوں ممالک ایک دوسرے پر 17 جون کو طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جبکہ ہر نئی فوجی کارروائی کے ساتھ یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ محدود تصادم کسی بھی لمحے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ 

اس کے براہِ راست اثرات نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

📚 اس خبر کے ذرائع 4 مستند ذرائع الجزیرہ نیٹ ورک🌍 بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک اصل رپورٹ ↗ العربیہ نیٹ ورک🌐 عالمی خبریں اور تجزیات اصل رپورٹ ↗ الشرق بلومبرگ💰 معاشی و مالیاتی رپورٹیں اصل رپورٹ ↗ الشرق الاوسط📰 علاقائی و بین الاقوامی امور اصل رپورٹ ↗
یہ رپورٹ متعدد معتبر بین الاقوامی ذرائع، نیوز نیٹ ورکس اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

BY: overseaspost.net