امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ امریکی حملوں کے بعد دوبارہ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ادھر امریکا نے ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب تہران نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سخت جواب دینے اور اپنے مفادات کے دفاع کا عزم دہرایا۔
تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ بوشہر جوہری تنصیب محفوظ ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حملوں کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ریلوے ٹریفک بھی معطل کر دی گئی۔
ایرانی ریلوے حکام کے مطابق ایک پل اور ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا ہے، جس کی مرمت جاری ہے، جبکہ مسافروں کو متبادل زمینی ٹرانسپورٹ کے ذریعے منزل تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔
ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں فضائیہ اور بحریہ کے آٹھ اہلکار بھی شامل ہیں۔
اسی دوران بحرین نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔