غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں آج مزید 3 فلسطینی شہید ہو گئے۔
مزید پڑھیں
مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے خان یونس کے علاقے بطن السمین میں ایک گھر کو نشانہ بنایا، جس سے 2 افراد شہید ہوئے۔
اس سے قبل غزہ شہر کے مغرب میں محلہ رمال میں ایک گاڑی پر فضائی حملے کے دوران ایک اور فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں 10 اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 8 افراد کی شہادت کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 73 ہزار 118 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ ملبے تلے دبے کئی افراد تک امدادی ٹیموں کی رسائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
غزہ میں انسانی بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں اب قبرستانوں میں مزید میتوں کی تدفین کے لیے جگہ ختم ہو چکی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کفن کی شدید قلت نے انتظامیہ کے لیے ایک غیر معمولی ہنگامی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
قرطان چیریٹی ایسوسی ایشن کے تحت کام کرنے والے ابراہیم اصلیح نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ ذخائر ایک ہفتے سے زیادہ نہیں چلیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ الشفا، الاقصٰی اور ناصر اسپتالوں میں کفن کی کمی کے باعث اب ایک میت کے لیے کپڑے کی مقدار کم کر دی گئی ہے۔
غزہ بحران: شہدا کی تعداد 73 ہزار سے متجاوز
اسرائیلی جارحیت برقرار، قبرستانوں میں جگہ ختم اور کفن کی شدید قلت
علاقے میں جاری اسرائیلی جارحیت اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث طبی اور تدفینی سامان کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اسرائیلی پابندیاں اور ہٹ دھرمی ایسے ہی جاری رہی تو ہزاروں فلسطینی خاندان اپنے پیاروں کو روایتی اور باعزت طریقے سے سپرد خاک کرنے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔