امریکی عدالتی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ مائیکروسافٹ کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز میں ایک ایسا خفیہ ٹریکنگ میکانزم موجود ہے جس نے ایف بی آئی کو ایک ہیکر تک پہنچنے میں مدد دی۔
مزید پڑھیں
اہم بات یہ ہے کہ یہ ٹریکنگ اس وقت بھی کارگر ثابت ہوئی جب ملزم نے اپنی شناخت کو چھپانے کے لیے وی پی این کا استعمال کیا۔
جی ڈی آئی ڈی کیا ہے؟
یہ ایک منفرد نمبر ہے جسے گلوبل ڈیوائس آئیڈینٹیفائر کہا جاتا ہے۔ جب بھی ونڈوز سسٹم انسٹال کیا جاتا ہے، یہ خود بخود ڈیوائس کو تفویض ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ یہ نمبر سسٹم اپ ڈیٹس کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوتا اور ڈیوائس کی شناخت برقرار رکھتا ہے۔
مبینہ ہیکر کی گرفتاری کا پس منظر
یہ کیس پیٹر اسٹوکس نامی 19 سالہ نوجوان سے متعلق ہے جو امریکی اور اسٹونین شہریت رکھتا ہے۔
اس پر مشہور ہیکر گروپ ’اسکیٹڈ اسپائیڈر‘ کا حصہ ہونے کا الزام ہے۔ اسے اپریل 2026 میں ہیلسنکی، فنلینڈ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ جاپان جانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایف بی آئی کا بڑا انکشاف
مائیکروسافٹ ونڈوز میں خفیہ ٹریکنگ فیچر کے ذریعے ہیکر کی گرفتاری
امریکی عدالتی دستاویزات کے مطابق، یہ ٹریکنگ سسٹم صارف کی شناخت اور مقام چھپانے کے لیے استعمال کیے جانے والے VPN کو بھی بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ونڈوز انسٹالیشن کے وقت خودکار طریقے سے تفویض ہونے والا ایک منفرد نمبر جو سسٹم اپ ڈیٹس کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوتا۔
- کوئی ڈائریکٹ آپشن نہیں: مائیکروسافٹ صارفین کو براہ راست جی ڈی آئی ڈی غیر فعال کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیتی۔
- بچاؤ کا طریقہ: ونڈوز کو مکمل طور پر دوبارہ انسٹال (Fresh Install) کرنے سے نیا GDID تفویض ہوتا ہے جس سے پرانا ریکارڈ ٹوٹ جاتا ہے۔
- نیا چیلنج: یہ فیچر براؤزر ہسٹری یا کوکیز کے بغیر بھی ڈیوائس کو مخصوص آن لائن سرگرمیوں سے منسلک کر سکتا ہے۔
۱. ملزم کی شناخت
19 سالہ پیٹر اسٹوکس (امریکی و اسٹونین شہری) پر بدنام زمانہ ہیکر گروپ 'اسکیٹڈ اسپائیڈر' کا حصہ ہونے کا الزام۔
۲. ہیلسنکی میں گرفتاری
اپریل 2026 میں فنلینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ جاپان فرار ہونے کی کوشش میں تھا۔
۳. ڈیجیٹل شواہد
مائیکروسافٹ ریکارڈز کے مطابق ملزم کے GDID کو ngrok سروس کے مخصوص صفحات تک رسائی کے لیے استعمال کیا گیا، جس نے جرم ثابت کیا۔
تفتیشی کارروائی اور شواہد
مائیکروسافٹ کے ریکارڈز سے معلوم ہوا کہ ملزم کے جی ڈی آئی ڈی کو ’اینگروک‘ (ngrok) سروس پر مخصوص صفحات تک رسائی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
اسی ڈیٹا نے تفتیش کاروں کو ملزم کی سرگرمیوں کو دوبارہ ترتیب دینے اور اسے ہیکنگ کے واقعے سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وی پی این کے باوجود سراغ
دستاویزات کے مطابق یہ ٹریکنگ سسٹم ونڈوز کو بیرونی ویب سائٹس اور سروسز کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی صارف وی پی این استعمال کر رہا ہو، تب بھی مائیکروسافٹ براؤزر ہسٹری یا کوکیز کے بغیر اس کی ڈیوائس کو مخصوص ویب سرگرمیوں سے منسلک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کیا اس ٹریکنگ سے بچنا ممکن ہے؟
مائیکروسافٹ براہ راست جی ڈی آئی ڈی کو غیر فعال کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیتی۔
تاہم عدالتی دستاویزات بتاتی ہیں کہ اگر ونڈوز کو مکمل طور پر دوبارہ انسٹال کیا جائے تو ڈیوائس کو ایک نیا اور مختلف جی ڈی آئی ڈی مل جاتا ہے جس سے پرانا ٹریکنگ ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔
پرائیویسی پر نئے سوالات
اگرچہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کیا گیا، لیکن اس انکشاف نے صارفین کی ڈیجیٹل پرائیویسی پر نئے سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
یہ صورتحال ان افراد کے لیے تشویش ناک ہے جو اپنی آن لائن سیکیورٹی اور شناخت چھپانے کے لیے وی پی این جیسی ٹیکنالوجیز پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔
اس کیس نے ثابت کیا ہے کہ جدید آپریٹنگ سسٹمز میں ڈیوائس کی شناخت کے لیے انتہائی پیچیدہ اور پوشیدہ طریقے موجود ہیں۔
تکنیکی ماہرین کے مطابق صارفین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سافٹ ویئر کی سطح پر موجود یہ ٹریکنگ ٹولز ان کی نجی ڈیجیٹل سرگرمیوں کی حدوں کو مزید محدود کر رہے ہیں۔