امریکہ نے ایران کے 170 سے زائد فوجی اہداف پر نئے حملے کئے ہیں جبکہ ایران نے بحرین، کویت اور اردن کی سمت میزائل اور ڈرون داغے۔
خلیجی ممالک کے فضائی دفاع نے بیشتر حملے ناکام بنا دیئے جبکہ ایران میں متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
تازہ جھڑپوں نے 3 ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کو تقریباً غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں درجنوں نئے فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں بحرین، کویت اور اردن میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
اس تازہ تصادم نے تین ہفتے قبل طے پانے والی جنگ بندی کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران ایران کے 170 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بندر عباس، جاسک، سیریک، چاہ بہار، آق قلا، اصفہان، جزیرہ ابو موسیٰ اور بوشہر کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی سمندری راستوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
مزید پڑھیں
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خوزستان میں امریکی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار مارے گئے، جبکہ بندر سیریک پر حملے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے۔
ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ اور جمعرات کے دوران 5 صوبوں میں ہونے والے امریکی حملوں میں مجموعی طور پر 14 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوئے۔
ادھر ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے اطراف بھی امریکی حملے کیے گئے، تاہم جوہری تنصیبات کو نقصان یا تابکاری کے کسی اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
بوشہر مشرقِ وسطیٰ کا پہلا جوہری بجلی گھر ہے اور خلیج عرب کے ساحل پر واقع ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے امریکی مداخلت جاری رہنے کی صورت میں ’سخت جواب‘ دینے کی دھمکی بھی دی۔
کویت کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 3 بیلسٹک میزائل، ایک کروز میزائل اور دس ڈرون تباہ کر دیے۔
حملوں میں ایک شخص زخمی ہوا جبکہ محدود مادی نقصان بھی رپورٹ ہوا۔
بحرین کی دفاعی فورس نے بھی متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام دفاعی یونٹس مکمل الرٹ پر ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
امریکہ۔ایران کشیدگی شدت اختیار کر گئی
💥 امریکی حملے
سینٹکام کے مطابق گزشتہ دو روز میں ایران کے 170 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بندر عباس، جاسک، سیریک، چاہ بہار، اصفہان اور بوشہر کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
⚰️ ایرانی جانی نقصان
ایرانی میڈیا کے مطابق خوزستان میں پاسدارانِ انقلاب کے تین اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ بندر سیریک حملے میں کم از کم تین افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے۔
☢️ بوشہر کا خطرہ
ایرانی حکام نے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے اطراف حملوں کی تصدیق کی، تاہم جوہری تنصیبات کو نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
🚀 ایران کا جواب
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مزید مداخلت پر سخت جواب کی دھمکی دی گئی۔
🛡️ خلیجی دفاع
کویت، بحرین اور اردن نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ دفاعی یونٹس کو مکمل الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
🌊 ہرمز بحران
یہ کشیدگی آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد شروع ہوئی، جن کا ذمہ دار واشنگٹن نے ایران کو قرار دیا، جبکہ تہران نے الزامات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
- امریکہ نے ایران کے 170 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
- ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
- کویت، بحرین اور اردن نے میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
- بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے اطراف حملوں کی تصدیق ہوئی مگر تابکاری اخراج کی اطلاع نہیں۔
- تین ہفتے قبل طے پانے والی جنگ بندی شدید خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔
- اگر ایران مزید جوابی کارروائی کرتا ہے تو امریکی حملوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
- آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی تیل اور شپنگ مارکیٹ ہل سکتی ہے۔
- خلیجی ممالک دفاعی الرٹ بڑھا سکتے ہیں اور فضائی حدود کی نگرانی سخت ہو سکتی ہے۔
- پاکستان اور قطر کی ثالثی نئی کشیدگی کم کرنے کے لیے دوبارہ متحرک ہو سکتی ہے۔
- مذاکرات بحال نہ ہوئے تو خطہ ایک طویل عسکری بحران کی طرف جا سکتا ہے۔
ادھر اردن کی مسلح افواج نے بھی ایران سے داغے گئے آٹھ میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ملکی فضائی حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ تازہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
واشنگٹن نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا، تاہم تہران نے ان الزامات کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملے تجارتی جہازوں پر حملوں کا 20 کے مقابلے میں ایک تناسب سے جواب تھے۔
ان کے مطابق اگر ایران نے دوبارہ حملے کیے تو امریکی ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے واشنگٹن سے رابطہ کر رہا ہے، لیکن انہیں کسی نئے معاہدے کی کامیابی پر شبہ ہے۔