براہ راست نشریات

ایران: بوشہر میں دھماکے، امریکی نشانہ جوہری پلانٹ تھا یا کچھ اور؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی شہر بوشہر میں دھماکے اور عسکری تنصیبات کی سیکیورٹی صورتحال
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق دھماکوں کا ہدف بوشہر کے نواح میں فوجی اور آئل تنصیبات ہو سکتی ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

ایرانی شہر ’بوشہر‘ میں گزشتہ شب ہونے والے دھماکوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہے، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مرکزی جوہری پلانٹ حملے سے محفوظ رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق دھماکوں کا ہدف بوشہر کے نواح میں فوجی اور آئل تنصیبات ہو سکتی ہیں۔

گورنر بوشہر نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم جوہری ری ایکٹر اور جزیرہ خارگ مکمل محفوظ ہیں۔

واضح رہے کہ اس ری ایکٹر کا ایران کو بجلی فراہمی میں اہم کردار ہے اور حکام کے مطابق اس کا آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔

عسکری ماہر کرنل نضال ابوزید نے ان دھماکوں کو کویت پر ایرانی پاسداران انقلاب کے حالیہ حملوں سے جوڑا ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

انہوں نے کہا کہ کویت بوشہر سے صرف 60 کلومیٹر دُور ہے، جہاں سے ممکنہ طور پر جوابی کارروائی کے طور پر میزائل داغے گئے ہوں گے۔

واضح رہے کہ بوشہر کا علاقہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے، جہاں 3 اہم عسکری مراکز قائم ہیں۔ 

ایران: بوشہر میں دھماکے

حساس عسکری زون میں دھماکوں کے بعد کی صورتحال اور اہم ترین حقائق

03
حساس عسکری مراکز موجود
60 KM
کویت سے بوشہر کا فاصلہ
جوہری پلانٹ:
مرکزی جوہری ری ایکٹر اور آئل تنصیبات مکمل محفوظ ہیں۔
ممکنہ ہدف:
بوشہر ایئرپورٹ اور پاسداران انقلاب کی نیول بیس عسکری ہدف۔
امریکی ردعمل:
سینٹکام کی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد انتقامی کارروائی کا تسلسل۔

اِن  مراکز میں بوشہر ایئرپورٹ، ایرانی ریگولر آرمی کی دوسری نیول ریجن اور پاسداران انقلاب کی نیول بیس شامل ہیں۔ ماضی میں یہاں روسی ماہرین بھی تعینات تھے جنہیں جنگ کے دوران نکال دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا تہران کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

ہم سے جڑے رہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق بوشہر میں ہونے والی یہ کارروائی ممکنہ طور پر اسی امریکی انتقامی پالیسی کا تسلسل ہو سکتی ہے۔

اگرچہ کچھ ذرائع ان دھماکوں کو پرانی جنگی باقیات کے پھٹنے کا نتیجہ قرار دے رہے تھے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس امکان کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ 

اس وقت تمام تر نگاہیں سرکاری بیانات پر مرکوز ہیں، جس سے ان دھماکوں کی اصل نوعیت واضح ہوگی۔