ایرانی شہر ’بوشہر‘ میں گزشتہ شب ہونے والے دھماکوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہے، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مرکزی جوہری پلانٹ حملے سے محفوظ رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق دھماکوں کا ہدف بوشہر کے نواح میں فوجی اور آئل تنصیبات ہو سکتی ہیں۔
گورنر بوشہر نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم جوہری ری ایکٹر اور جزیرہ خارگ مکمل محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ اس ری ایکٹر کا ایران کو بجلی فراہمی میں اہم کردار ہے اور حکام کے مطابق اس کا آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔
عسکری ماہر کرنل نضال ابوزید نے ان دھماکوں کو کویت پر ایرانی پاسداران انقلاب کے حالیہ حملوں سے جوڑا ہے۔
Two projectiles struck a fishing dock in a city in Bushehr, on Thursday, setting fire to 10 fishing boats, semi-official Mehr news agency reported. The incident comes amid renewed hostilities between Iran and the US. pic.twitter.com/AWTTBtbceY
— Iran International English (@IranIntl_En) July 9, 2026
انہوں نے کہا کہ کویت بوشہر سے صرف 60 کلومیٹر دُور ہے، جہاں سے ممکنہ طور پر جوابی کارروائی کے طور پر میزائل داغے گئے ہوں گے۔
واضح رہے کہ بوشہر کا علاقہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے، جہاں 3 اہم عسکری مراکز قائم ہیں۔
ایران: بوشہر میں دھماکے
حساس عسکری زون میں دھماکوں کے بعد کی صورتحال اور اہم ترین حقائق
اِن مراکز میں بوشہر ایئرپورٹ، ایرانی ریگولر آرمی کی دوسری نیول ریجن اور پاسداران انقلاب کی نیول بیس شامل ہیں۔ ماضی میں یہاں روسی ماہرین بھی تعینات تھے جنہیں جنگ کے دوران نکال دیا گیا تھا۔
📍 US targets multiple locations in Iran, including a point on the Tehran-Mashhad railway line, Ahvaz, Bushehr, Bandar Abbas, Abu Musa Island, Sirik, Konarak and Chabahar
— Anadolu English (@anadoluagency) July 9, 2026
➡️ US strikes over the past two days have killed at least 14 people and injured 78 others… pic.twitter.com/ydUCiOnP6r
یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا تہران کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بوشہر میں ہونے والی یہ کارروائی ممکنہ طور پر اسی امریکی انتقامی پالیسی کا تسلسل ہو سکتی ہے۔
اگرچہ کچھ ذرائع ان دھماکوں کو پرانی جنگی باقیات کے پھٹنے کا نتیجہ قرار دے رہے تھے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اس امکان کو مسترد کیا جا رہا ہے۔
اس وقت تمام تر نگاہیں سرکاری بیانات پر مرکوز ہیں، جس سے ان دھماکوں کی اصل نوعیت واضح ہوگی۔