براہ راست نشریات

امریکہ میں کِس بات نے اسرائیلی لابی کو پہلی بار اتنا پریشان کردیا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عبدالسید کی مشی گن پرائمری انتخابات میں کامیابی
تجزیہ کار اس کامیابی کو امریکی سیاست میں نئی نسل کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت قرار دے رہے ہیں (فوٹو: اے آئی)
OVERSEAS POST  |  PREMIUM ANALYSIS

امریکی سیاست میں اسرائیل کے اثر و رسوخ پر برسوں سے بحث ہوتی رہی ہے، لیکن کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک انتخابی نتیجہ کئی پرانے سیاسی اندازوں کو چیلنج کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیں

ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات کے بعد یہی منظر دیکھنے کو ملا، جہاں مسلمان رہنما عبدالسید نے نہ صرف پارٹی کی مضبوط روایتی قیادت کو حیران کیا بلکہ اسرائیل کی حمایت کرنے والی طاقتور لابی کے لیے بھی ایک نیا سوال کھڑا کر دیا۔

یہ صرف ایک امیدوار کی کامیابی نہیں، بلکہ امریکی سیاست میں بدلتے ہوئے ووٹر، نئی نسل کی سوچ اور خارجہ پالیسی پر بڑھتی ہوئی بحث 

کی علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب کو امریکہ کے اندر معمول کا سیاسی واقعہ نہیں سمجھا جا رہا۔

خصوصی تجزیہ

اسرائیل لابی کو دھچکا کیوں لگا؟

2

ووٹروں پر روایتی بیانیے کا اثر ختم

مشی گن کے پرائمری انتخابات نے ثابت کیا کہ ووٹر اب خود ساختہ بیانیوں کو بلا چون و چرا قبول کرنے کے بجائے معاشی انصاف اور خودمختار خارجہ پالیسی کے حق میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

3

امریکی مفاد بمقابلہ لابی مفاد

عبدالسید نے اپنی مہم میں یہ نقطہ اٹھایا کہ واشنگٹن کی ترجیح پہلے امریکی عوام کے مسائل ہونے چاہییں۔ خارجہ پالیسی کے اس آزادانہ نقطہ نظر نے لابی کے اس اجارہ دارانہ تسلط کو چیلنج کر دیا ہے۔

4

ترقی پسند اتحاد کا ابھار

یہ محض ایک فرد کی جیت نہیں بلکہ نوجوان اور ترقی پسند ووٹروں کی کامیابی ہے جن کی پشت پناہی سے اسرائیل لابی کے قائم کردہ روایتی سیاسی ڈھانچے میں واضح شگاف پڑ چکا ہے۔

ایک کامیابی ، کئی پیغامات

عبدالسید نے ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری ایسے وقت میں جیتی جب ان کے مقابلے پر پارٹی کی روایتی قیادت کی حمایت یافتہ امیدوار موجود تھیں۔

انتخابی مہم کے دوران اسرائیل نواز حلقوں نے عبدالسید کے خلاف بھرپور تشہیر کی، جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس مہم پر خطیر سرمایہ بھی خرچ کیا گیا۔

ان تمام مخالف کوششوں کے باوجود ووٹروں نے توقع کے بالکل برعکس فیصلہ دیا۔ 

مبصرین کے مطابق اس نتیجے نے کم از کم ایک بات واضح کردی کہ اشتہارات اور سرمایہ ہر الیکشن میں کامیابی کا ضامن نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر ووٹر کسی نئے سیاسی بیانیے کو قبول کر لے تو مالی طاقت بھی ناکام رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیہ کار اس کامیابی کو امریکی سیاست میں نئی نسل کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

امریکی سیاست میں تاریخی تبدیلی

مشی گن انتخاب اور طاقتور اسرائیل لابی کا سیاسی چیلنج

عبدالسید کی پرائمری کامیابی نے ظاہر کیا ہے کہ امریکی ووٹر اب روایتی فنڈنگ کے بجائے معاشی مسائل اور خارجہ پالیسی میں آزادانہ رائے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

🗳️ مشی گن میں غیر متوقع فتح

عبدالسید نے پارٹی کی روایتی قیادت اور اسرائیل نواز لابی کی بھاری فنڈنگ کے باوجود ڈیموکریٹک پرائمری جیتی۔

💼 عوام دوست سیاسی منشور

ان کی مہم صحت کی سہولیات، مہنگائی میں کمی، اور امریکی قومی مفادات کو ترجیح دینے جیسے بنیادی مسائل پر مبنی ہے۔

🏢 فنڈنگ کی ناکامی

اس نتیجے نے ثابت کیا کہ سرمایہ اور کارپوریٹ اشتہارات ہر الیکشن میں فتح کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

🏛️ نومبر کا حتمی امتحان

عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ امریکی سینیٹ کے رکن بننے والے پہلے مسلمان رہنما ہوں گے۔

عبدالسید کی سیاست مختلف کیوں ہے؟

عبدالسید کا سیاسی پیغام صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں۔ اُن کی پوری مہم امریکی شہریوں کے روزمرہ مسائل کے گرد گھومتی ہے۔

وہ ہر شہری کے لیے بہتر صحت کی سہولت، مہنگائی میں کمی، متوسط اور مزدور طبقے پر معاشی دباؤ کم کرنے، دولت مند طبقے پر زیادہ ٹیکس لگانے اور مزدوروں کے حقوق کو مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکی انتخابات میں بڑے سرمایہ کاروں اور کارپوریٹ اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار کو محدود کرنے کے  بھی حامی ہیں۔ 

خارجہ پالیسی کے معاملے میں بھی اُن کا مؤقف روایتی امریکی سیاست سے مختلف ہے۔ 

عبدالسید کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ہر فیصلے میں سب سے پہلے اپنے قومی مفادات کو ترجیحاً دیکھنا چاہیے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے مفادات کو۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہی مؤقف انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کا نمایاں چہرہ بناتا ہے۔

کلیدی نکات

عبدالسید کی کامیابی کے 5 بڑے اشارے

#2

نوجوان نسل کا واضح سیاسی جھکاؤ

نئی نسل صحت، معاشی دباؤ میں کمی اور سماجی مساوات پر پرانے روایتی حل کے بجائے نچلی سطح کی نمائندگی کو ترجیح دے رہی ہے۔

#3

ترقی پسند دھڑے کی مضبوطی

ڈیمکریٹک پارٹی کے اندر سینیٹر برنی سینڈرز کی فکری سوچ اب محض خیالات نہیں بلکہ انتخابی نتائج کا رخ موڑنے کی طاقت بن چکی ہے۔

#4

مشی گن کی سٹریٹجک اہمیت

مسلم اور عرب ووٹروں کے اس گڑھ نے ثابت کیا کہ اب خارجہ پالیسی کے مطالبات امریکی مقامی سیاست کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔

#5

غیر جانبداری کا ابھار

امریکی خارجہ پالیسی پر بیرون ملک مفادات کی برتری کے خلاف آواز اٹھانے والے امیدواروں کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں

عبدالسید کی کامیابی کو صرف ایک مسلمان امیدوار کی کامیابی سمجھنا تصویر کا صرف ایک رُخ دیکھنے کے مترادف ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل تبدیلی اُس سیاسی دھارے میں نظر آ رہی ہے جس کی نمائندگی سینیٹر برنی سینڈرز جیسے رہنما برسوں سے کرتے آئے ہیں۔ 

کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں یہی ترقی پسند سوچ امریکی شہروں، مقامی حکومتوں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔

امریکہ میں نوجوان ووٹر اب صرف روایتی نعروں سے مطمئن نہیں، بلکہ وہ صحت، تعلیم، روزگار، مہنگائی اور سماجی انصاف جیسے مسائل پر واضح پالیسیاں چاہتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند امیدواروں کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تاریخی منظرنامہ

امریکی سیاست میں مسلمانوں کی نئی طاقت

مرحلہ 1: تاریخی شروعات اور خاموش موجودگی

ابتدائی سفر اور معاشرتی استحکام

مغربی افریقہ کے مسلمان غلاموں سے لے کر 1965ء کے امیگریشن قوانین کے بعد آنے والے پیشہ ور افراد تک، مسلمان طویل عرصے تک صرف تعلیمی، معاشی اور مذہبی مساجد کی حد تک محدود رہے اور براہِ راست سیاسی شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی۔

مرحلہ 2: 9/11 اور فیصلہ کن موڑ

نگرانی کے دور سے سیاسی بیداری تک

2001ء کے واقعات کے بعد مسلمانوں کو جن سخت حالات اور شک و شبہ کی فضائوں کا سامنا کرنا پڑا، اس نے برادری کو یہ احساس دلایا کہ اپنے حقوق کا تحفظ اور شہری آزادیوں کا دفاع کرنے کے لیے ووٹر کے بجائے فیصلہ ساز بننا لازمی ہے۔

مرحلہ 3: عوامی عہدوں اور سینیٹ تک پیش رفت

علامتی نمائندگی سے پالیسی ساز طاقت تک

کیتھ ایلیسن اور الہان عمر کی ایوانِ نمائندگان میں کامیابیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر اب مشی گن پرائمری کے بعد سینیٹ کی سطح تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکی مسلمان اب ایوانوں کے اندر پالیسی اثر انداز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی مسلمانوں کا طویل مگر خاموش سفر

آج اگر امریکی سیاست میں مسلمان امیدوار نمایاں ہورہے ہیں تو اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی جدوجہد ہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ میں مسلمانوں کی تاریخ خود امریکی ریاست سے بھی پرانی ہے۔ 

مغربی افریقہ سے غلام بنا کر لائے جانے والے ہزاروں افراد مسلمان تھے، جنہوں نے سخت ترین حالات کے باوجود اپنی مذہبی شناخت کو کسی نہ کسی حد تک محفوظ رکھا۔

بعد میں 1965ء کے امیگریشن قوانین میں تبدیلی کے بعد مختلف مسلم ممالک سے تعلیم یافتہ افراد امریکہ آئے۔

انہوں نے مساجد، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور کاروبار قائم کیے، لیکن عملی سیاست میں ان کی موجودگی طویل عرصے تک انتہائی محدود رہی۔

🌍
خارجہ پالیسی تجزیہ

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

سفارتی مراعات پر شکوک و شبہات

اگر امریکہ کے اندر ایسے رہنما اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو غیر مشروط فوجی و مالی امداد کی اندھی حمایت کے خلاف کانگریسی احتساب بڑھ سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ واشنگٹن کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب دہ بنانے پر زور دیا جائے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی مؤقف میں تبدیلی

اس پیش رفت کے باعث یہ امکان موجود ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا مرکزی دھارہ عرب اسرائیل تنازع پر متوازن رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں یکطرفہ خارجہ فیصلے کرنا ماضی کی طرح آسان نہیں رہے گا۔

نائن الیون نے سب کچھ بدل دیا

2001ء کے دہشت گرد حملوں نے امریکی مسلمانوں کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا۔

اگرچہ ان حملوں میں کسی امریکی مسلمان کا کردار ثابت نہیں ہوا، پھر بھی پوری مسلم برادری کو شک، نگرانی اور امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔

افغانستان اور عراق کی جنگوں نے اس ماحول کو مزید سنگین بنا دیا۔ لاکھوں افراد متاثر ہوئے جبکہ امریکہ کے اندر بھی مسلمانوں نے شہری آزادیوں پر دباؤ محسوس کیا۔

اسی دور میں امریکی مسلمانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر وہ اپنی آواز مؤثر بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف سماجی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے بجائے سیاسی میدان میں بھی قدم رکھنا ہوگا۔

یہی سوچ آگے چل کر کیتھ ایلیسن، الہان عمر اور دیگر مسلمان نمائندوں کی کامیابی کی بنیاد بنی۔

مشی گن کیوں اتنی اہم ہے؟

ریاست مشی گن کو امریکی سیاست میں خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہاں عرب اور مسلمان آبادی قابل ذکر تعداد میں موجود ہے۔

غزہ جنگ کے بعد اس ریاست میں اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی پر شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ 

اس دوران ڈیموکریٹک ووٹرز کے ایک بڑے حصے نے کھل کر یہ مطالبہ کیا کہ واشنگٹن اپنی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر نظرثانی کرے۔

ایسے ماحول میں عبدالسید کی کامیابی صرف مقامی انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ اس وسیع سیاسی بے چینی کی عکاسی بھی کرتی ہے جو امریکی معاشرے کے ایک حصے میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ممکنہ اثرات

عبدالسید سینیٹر بن گئے تو کیا بدلے گا؟

+

پالیسی سازی میں براہِ راست ووٹ

امریکی سینیٹ خارجہ معاہدوں کی توثیق اور اعلیٰ سفارتی تقرریوں کا اختیار رکھتی ہے۔ یہاں عبدالسید کی موجودگی امریکی خارجہ امور کی منظوری پر مستقیم اثر ڈال سکتی ہے۔

معاشی اور سماجی اصلاحات

وہ صحت کے نظام، مزدوروں کے تحفظ اور بڑے کارپوریٹ اداروں پر ٹیکس لاگو کرنے کے حامی ہیں، جس سے سینیٹ کے اندر معاشی قانون سازی کا رخ بدل سکتا ہے۔

تاریخی مذہبی پیش رفت

اگر وہ نومبر کا انتخاب جیتتے ہیں تو وہ ایوانِ بالا (سینیٹ) میں پہنچنے والے پہلے مسلم سینیٹر ہوں گے، جو اقلیتوں کے لیے امریکی آئینی عمل میں شرکت کی ایک بڑی مثال قائم کرے گا۔

اسرائیل نواز لابی کے لیے یہ لمحہ کیوں اہم ہے؟

امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے طاقتور سیاسی اور مالی حلقے کئی دہائیوں سے انتخابات میں بہت اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

اسی لیے عبدالسید کی کامیابی کو بعض مبصرین اس تاثر کے لیے ایک چیلنج قرار دے رہے ہیں کہ مالی وسائل ہر صورت انتخابی نتائج کا رُخ موڑ سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل نواز لابی اپنی طاقت کھو چکی ہے، بلکہ یہ ضرور ظاہر ہوا ہے کہ امریکی ووٹر کا ایک حصہ اب خارجہ پالیسی سمیت کئی معاملات پر آزادانہ رائے قائم کر رہا ہے اور روایتی سیاسی دباؤ ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔

پاکستان پاکستانی تناظر

پاکستان کے لیے اس تبدیلی کے کیا معنی ہیں؟

دیپلومیسی کے نئے مواصلاتی مواقع

امریکی ایوانوں اور سیاسی میدانوں میں اقلیتی اور مسلم اراکین کی موجودگی سے اسلام آباد کے لیے واشنگٹن میں انسانی حقوق، تجارتی اور معاشی معاملات پر اپنے مؤقف کی سنوائی کا نیا راستہ کھل سکتا ہے۔

خارجہ پالیسی میں توازن کی توقع

امریکی کانگریس اور سینیٹ میں ترقی پسند بلاک کی مضبوطی کے ساتھ یہ امکان موجود ہے کہ پاکستان کو بلاوجہ دباؤ میں لانے والی یکطرفہ مہم جوئی کی پالیسیوں کے بجائے متوازن تعلقات پر گفتگو کی راہ ہموار ہو۔

نومبر کا امتحان ابھی باقی ہے

عبدالسید نے اگرچہ پہلی بڑی رکاوٹ عبور کر لی ہے، لیکن اصل مقابلہ نومبر کے عام انتخابات میں ہوگا اور اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی مسلمان سینیٹر منتخب ہوگا۔

امریکی سینیٹ صرف قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، بین الاقوامی معاہدوں اور اعلیٰ سرکاری تقرریوں جیسے اہم معاملات میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ 

اسی لیے وہاں پہنچنے والا ہر رکن قومی سیاست پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے اور یہ کامیابی امریکی مسلمانوں کے لیے علامتی فتح سے کہیں زیادہ ہوگی۔

تاریخی دائرہ کار

امریکی مسلمانوں کا 200 سالہ سفر، اب کہاں پہنچا؟

ابتدائی مرحلہ — غلامی کا دور

خاموش حفظِ شناخت

مغربی افریقہ سے امریکہ لائے گئے ہزاروں مسلمان غلاموں نے شدید ترین جبر کے باوجود اپنی دینی اور ثقافتی شناخت کو پسِ پردہ برقرار رکھا، جو امریکی سرزمین پر اسلام کی سب سے پہلی اور تاریخی بنیاد بنی۔

1965ء کے بعد — ہجرت کا نیا موڑ

ادارہ جاتی تعمیر و استحکام

امیگریشن قوانین میں لبرلائزیشن کے بعد مسلم ممالک سے آنے والے ڈاکٹرز، انجینئرز اور ماہرین نے مساجد، تعلیمی مراکزی اور کاروباری ادارے قائم کیے، لیکن سیاسی عمل سے ان کا تعلق انتہائی محدود رہا۔

2001ء کے بعد — نائن الیون کا دھچکا

سیاسی بیداری اور شمولیت

شدید تفتیشی و امتیازی ماحول اور شہری آزادیوں پر دباؤ کے بعد مسلمان برادری نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صرف دفاعی پوزیشن کے بجائے پارلیمانی اور عوامی میدان میں اترنا ہی حقوق کا واحد ضامن ہے۔

ایوانِ نمائندگان — کیتھ ایلیسن اور الہان عمر

مقامی و وفاقی فتح

کانگریس میں پہلی مسلم نمائندگی کیتھ ایلیسن کی صورت میں ممکن ہوئی، جس کے بعد الہان عمر اور راشدہ طلیب جیسے چہروں نے ایوانِ نمائندگان میں مسلم برادری کو ایک طاقتور اور بے باک آواز فراہم کی۔

بدلتی ہوئی امریکی سیاست کی نئی تصویر

عبدالسید کی پرائمری کامیابی نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی سیاست اب پہلے جیسی نہیں رہی۔

امریکہ میں نوجوان ووٹر معاشی مسائل کے حل کو ترجیح دے رہے ہیں، ترقی پسند سوچ کو زیادہ توجہ مل رہی ہے اور مسلم برادری بھی صرف ووٹر نہیں بلکہ فیصلہ ساز قوت بننے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ان حالات میں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ نومبر میں کیا نتیجہ نکلے گا، لیکن ایک بات طے ہے کہ مشی گن کے اس انتخاب نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔ 

اگر یہ رجحان آگے بڑھتا ہے تو آنے والے برسوں میں نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں پر بھی اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ عبدالسید کی یہ کامیابی صرف ایک انتخابی خبر نہیں بلکہ بدلتی ہوئی امریکی سیاست کی ایک اہم علامت بن چکی ہے۔

امریکا کا پرچم اصل ذرائع 📚 ORIGINAL SOURCES عبدول سید کی کامیابی، اسرائیل نواز انتخابی اخراجات اور بدلتی امریکی سیاست کے بنیادی حوالہ جات 4 معتبر ذرائع
امریکی پرچم اصل مضمون، انتخابی نتیجہ اور اسرائیل نواز لابی
الجزیرہ عربی — اسرائیل نواز لابی کو انتخابی دھچکا جمال قاسم کا وہ اصل عربی مضمون جس میں عبدول سید کی کامیابی، امریکی مسلمانوں کے سیاسی سفر، اسرائیل نواز حلقوں کی مخالفت اور سینیٹ تک ممکنہ رسائی کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمے کا اصل مضمون اصل مضمون کھولیں ↗ روئٹرز — مشی گن پرائمری میں عبدول سید کی کامیابی انتخابی نتیجے، ہیلی اسٹیونز کی شکست، برنی سینڈرز کی حمایت، نوجوان اور عرب امریکی ووٹرز کے کردار اور نومبر کے عام انتخابات کے چیلنج پر بنیادی رپورٹ۔ بنیادی بین الاقوامی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗ ایسوسی ایٹڈ پریس — ایپیک کے ریکارڈ انتخابی اخراجات اسرائیل نواز لابی ایپیک اور اس سے منسلک گروپوں کی جانب سے عبدول سید کو روکنے اور ہیلی اسٹیونز کی حمایت میں کیے گئے غیر معمولی انتخابی اخراجات کی تفصیلی تحقیق۔ انتخابی فنڈنگ کی تحقیق تحقیقی رپورٹ کھولیں ↗ الجزیرہ انگلش — بھاری اخراجات کے باوجود ایپیک ناکام عبدول سید کی کامیابی، ترقی پسند سیاسی ایجنڈے، اسرائیل کے لیے غیر مشروط امریکی فوجی امداد کی مخالفت اور بیرونی گروپوں کے بھاری اخراجات کے باوجود انتخابی فتح کی رپورٹ۔ نتیجہ اور سیاسی پس منظر اصل رپورٹ کھولیں ↗
ادارتی نوٹ: اس فیچر رپورٹ کی تیاری میں الجزیرہ عربی کے اصل مضمون، روئٹرز کی انتخابی رپورٹ، ایسوسی ایٹڈ پریس کی انتخابی فنڈنگ سے متعلق تحقیق اور الجزیرہ انگلش کی نتیجے کے بعد شائع ہونے والی رپورٹ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net