سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر میں 18 مئی کو ہونے والا حملہ اور سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کا قتل اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ امریکہ میں اسلاموفوبیا اور نسل پرستی اب بھی مسلمانوں کے لیے ایک جان لیوا خطرہ بنی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر جان ایسپوزیٹو کے مطابق یہ حملہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ملک بھر میں پھیلی اس نفرت کا نتیجہ ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ، سرکاری حکام، کانگریس اراکین اور انتہا پسند گروہوں کے بیانات اور پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔
امریکہ میں اسلاموفوبیا اب یہودیوں کے خلاف پائی جانے والی دشمنی کی طرح جڑ پکڑ چکا ہے، جہاں مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی عقائد کو
نشانہ بنا کر انہیں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ اور معاشرے میں ضم ہونے کے ناقابل قرار دیا جاتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس اور انسٹاگرام اس نفرت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس طرح سے خطرناک نظریات اور غلط معلومات کو روکنے کے بجائے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات کو مزید فروغ دیا جاتا ہے۔
امریکی کانگریس کے اراکین کی جانب سے کھلے عام اسلام مخالف بیانات دیے جا رہے ہیں، جس کی ایک مثال ٹیکساس کے برانڈن گل ہیں جنہوں نے کہا کہ ٹیکساس کے شہریوں کو شاپنگ مالز میں خود کو پاکستان میں ہونے کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔
اسی طرح رکن کانگریس اینڈی اوگلز نے مسلمانوں کے امریکہ میں ضم ہونے کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔
فلوریڈا کے رینڈی فائن نے اسلام کو ایک خطرناک فرقہ قرار دے کر شدید عوامی غم و غصہ پیدا کیا۔
ٹیکساس کے کینتھ سیلف، الاباما کے سینیٹر ٹومی ٹوبر وِل نے بھی شریعت کو کینسر اور ملک کے لیے خطرہ کہا۔
یہاں تک کہ نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی حلف برداری پر ٹوبر وِل نے مسلمانوں کو ’اندرونی دشمن‘ کے طور پر پیش کیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا اب ایک عالمی رجحان بن چکا ہے جہاں یورپ، چین، بھارت اور آسٹریلیا کے رہنما مسلمانوں کو متشدد ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ اسلام کو ایک مذہب کے بجائے سیاسی نظریے کے طور پر پیش کر کے امتیازی سلوک کو جواز مل سکے۔
غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کے لیے امریکی حکومت کی غیر مشروط حمایت کے پیچھے بھی اسلاموفوبیا کے محرکات ہی کارفرما ہیں۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ انسانیت کی تذلیل کر کے انہیں فطری طور پر متشدد اور دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کی نشاندہی کے باوجود امریکہ کی جانب سے اربوں ڈالر کی فوجی امداد کا تسلسل اس سوچ کا عکاس ہے جو مسلمانوں اور عربوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کا خاتمہ جلد ممکن نہیں کیونکہ اسے معاشرے میں ایک معقول رویے کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے، لہٰذا حکومتوں، میڈیا اور تعلیمی اداروں کو نفرت انگیز نظریات کے خلاف اب مل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔