اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

امریکی وسط مدتی انتخابات: ریپبلکنز اقتدار بچانے کی کٹھن آزمائش

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی نشانات اور گہما گہمی
امریکی وسط مدتی انتخابات ریپبلکنز اور ٹرمپ کے لیے چیلنج سے کم نہیں (فوٹو: المجلہ)

امریکی تاریخ میں وسط مدتی انتخابات کو موجودہ صدر کی کارکردگی پر ریفرنڈم سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

روایتی طور پر وائٹ ہاؤس میں موجود جماعت کو ایوانِ نمائندگان میں اوسطاً 28 اور سینیٹ میں 4 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جو حکمراں جماعت کے لیے تشویشناک ہے۔

ہر 10 سال بعد مردم شماری کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل ہوتا ہے، مگر اس بار ریپبلکنز نے صدر ٹرمپ کی خواہش پر وسط مدتی دور میں بھی یہ عمل دہرایا ہے۔

ٹیکساس میں نئی حلقہ بندیوں سے ریپبلکنز نے 5 نشستوں کا فائدہ اٹھایا، جسے ریاستی سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

ڈیموکریٹس کا جوابی وار

اسی طرح ڈیموکریٹس نے بھی کیلیفورنیا میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حلقہ بندیاں تبدیل کیں، جس سے انہیں 5 نشستوں کا اضافہ متوقع ہے۔

وہاں ہسپانوی نژاد امریکی آبادی کا تناسب 40 فیصد ہے، جس میں سے 90 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں، جو انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی نشانات اور گہما گہمی
4 نومبر 2025 کو ایلڈوراڈو ہلز، کیلیفورنیا میں پروپوزیشن 50 پر خصوصی انتخابات میں ووٹرز حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں (فوٹو: المجلہ)

کانگریس میں نشستوں کی صورتحال

ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو 219 کے مقابلے میں 215 نشستوں کے ساتھ معمولی برتری حاصل ہے، جبکہ 3 نشستیں خالی ہیں۔

سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور  ریپبلکنز کو اکثریت برقرار رکھنے کے لیے 2 سے زائد نشستوں کا نقصان برداشت کرنا ناممکن ہوگا۔

ووٹنگ کے عمل پر متنازع اقدامات

ریپبلکن رہنما اسٹیو بینن نے تارکینِ وطن کے ووٹ روکنے کے لیے امیگریشن حکام کو پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم وزارتِ انصاف کے مطابق 5 کروڑ ووٹرز کے ڈیٹا میں صرف 10 ہزار مشکوک کیسز سامنے آئے، جو ووٹنگ کے عمل میں دھاندلی کے الزامات کو رد کرتے ہیں۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی نشانات اور گہما گہمی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 27 فروری 2026 کو کارپس کرسٹی، ٹیکساس، امریکہ میں پورٹ آف کارپس کرسٹی پر تقریر کر رہے ہیں (فوٹو: المجلہ)

ٹرمپ کی پالیسیاں اور سیکیورٹی ایکٹ

صدر ٹرمپ نے ’سیکیورٹی ایکٹ‘ کے تحت ووٹنگ کے لیے پاسپورٹ یا پیدائشی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام لاکھوں امریکیوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے، جبکہ خود ریپبلکن پارٹی میں اس قانون پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

قاتلانہ حملے پر سیاسی ہمدردی

13 جولائی 2024 کو پنسلوانیا میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے نے ان کی مقبولیت میں 4 فیصد اضافہ کیا، جس سے ان کی ریٹنگ 51 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

زخمی حالت میں ان کا مٹھی بلند کرنا، ان کے حامیوں کے لیے ’قیادت کی طاقت‘ اور ایک مضبوط سیاسی علامت بن چکا ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کے اثرات

موجودہ حکومت کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ملکی معاشی صورتحال نے ریپبلکنز کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

پارٹی کے اندر یہ خدشات موجود ہیں کہ اگر ٹرمپ نے جلد اس ’ایران دلدل‘ سے خود کو نہیں نکالا تو وسط مدتی انتخابات میں انہیں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی نشانات اور گہما گہمی
ڈونلڈ ٹرمپ 13 جولائی 2024 کو قاتلانہ حملے میں بچ جانے کے بعد مکا لہرا رہے ہیں (فوٹو: المجلہ)

مستقبل اور ڈیموکریٹس کی حکمتِ عملی

ڈیموکریٹس اب ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف جوابی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

ان کا ایجنڈا ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف تحقیقات، صدارتی جنگی اختیارات کو محدود کرنا اور انسانی حقوق کے پروگراموں کی بحالی کے گرد گھومتا ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات محض نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ ٹرمپ کی پالیسیوں کا احتساب ہیں۔ 

اگر ریپبلکنز اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام رہے تو یہ نہ صرف ان کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان ہوگا بلکہ واشنگٹن میں پالیسیوں کے ایک نئے اور ہنگامہ خیز دور کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔