براہ راست نشریات

’اسرائیل نہ ہوتا تو امریکہ کا وجود نہ ہوتا‘: امریکہ میں نیا تنازع کھڑا ہوگیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی سفیر مائیک ہکابی کا متنازع بیان اور امریکہ اسرائیل تعلقات پر نیا سیاسی تنازع
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ایک حالیہ متنازع بیان نے امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اسرائیل نہ ہوتا تو امریکہ کا بھی کوئی وجود نہ ہوتا۔

مائیک ہکابی نے یہ ریمارکس مقبوضہ مغربی کنارے میں منعقدہ ’بین الاقوامی اسرائیلی ورثہ کانفرنس‘ کے افتتاح کے موقع پر دیے۔ 

انہوں نے اسرائیلی وزیرِ عمحیائی الیاہو سے مخاطب ہوتے ہوئے اس ورثے کو اسرائیل اور امریکہ دونوں ممالک کا مشترکہ اثاثہ اور بنیاد قرار دیا۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا کام صرف اسرائیل میں امریکہ کی نمائندگی کرنا نہیں بلکہ امریکیوں کے لیے اسرائیل کی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہودی بنیادوں اور اسرائیل کے بغیر امریکہ کبھی بھی وجود میں نہیں آ سکتا تھا۔

یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے بغیر اسرائیل کا وجود ممکن نہیں تھا۔ 

مبصرین ہکابی کے الفاظ کو صدر ٹرمپ کے مؤقف کا ایک ضمنی جواب قرار دے رہے ہیں۔

ریپبلکن رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے مائیک ہکابی کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے انتہائی نازیبا قرار دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکہ کا وجود صرف خدا کا مرہونِ منت ہے، کسی دوسرے ملک کا نہیں۔

معروف سیاسی تجزیہ کار آنا کسپاریان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکہ اسرائیل کی وجہ سے قائم نہیں ہوا۔ 

انہوں نے چیلنج کیا کہ امریکہ کی جانب سے مالی اور فوجی امداد بند کر کے دیکھا جائے کہ اسرائیل کتنا عرصہ اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔

ریٹائرڈ امریکی افسر اور فوجی تجزیہ کار ڈینیئل ڈیوس نے سفیر سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہکابی امریکی مفادات کو ترجیح نہیں دے رہے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ سفیر کا کام دوسرے ملک کی تشہیر کرنا ہرگز نہیں ہوتا۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی سیاسی کارکن ٹریشا ہوپ نے صدر سے مطالبہ کیا کہ مائیک ہکابی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سفیر کی اہلیت اور ملک سے وفاداری پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔

تحقیقاتی صحافی میکس بلومینتھل نے ہکابی کو ’عارضی طور پر مقرر کردہ اسرائیلی سفیر‘ قرار دیا۔

جیکسن ہنکل نے انہیں ’اسرائیلی ایجنٹ‘ کہا۔ کلے ٹن مورس نے طنز کیا کہ شاید امریکہ کے بانی آباؤ اجداد اسرائیل کے مقروض تھے۔

سابق فوجی افسر ڈیوڈ پین اور مصنفہ عسال راد نے تاریخی حقیقت واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ، جدید اسرائیل کے قیام سے 172 سال پہلے وجود میں آ چکا تھا۔ 

انہوں نے ہکابی کے بیان کو تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا۔

تجزیہ کار رچ بارس اور اورون میکانٹائر نے بھی اسرائیلی سفیر کے بیان کی تصدیق ہونے کی صورت میں اسے برطرفی کی ٹھوس بنیاد قرار دیا۔

انہوں نے مائیک ہکابی کے سابقہ انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی عہدے پر مزید موجودگی کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا۔