اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--

ڈالرکو جھٹکا: بھارتی ریفائنریز کی ایرانی تیل کے لیے چینی یوان میں ادائیگی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایرانی تیل یوان ادائیگی اور ڈالر اجارہ داری چیلنج تجزیہ
بھارتی پرچم لہراتا ہوا تیل بردار جہاز ممبئی کی بندرگاہ پر پہنچ رہا ہے (فوٹو: یورپی میڈیا)

بھارتی آئل ریفائنریز نے ایران سے خریدے گئے خام تیل کی ادائیگیاں چینی کرنسی یوان میں کرنی شروع کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق  یہ ادائیگیاں ممبئی کے آئی سی آئی سی آئی بینک کے ذریعے کی جا رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی مالیاتی پابندیوں سے بچا جا سکے۔

بھارت نے یہ خریداری امریکی پابندیوں میں ملنے والی عارضی رعایت کے تحت کی ہے۔

تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ تہران پر طویل مدتی پابندیوں کے باعث 

ادائیگیوں کے طریقہ کار میں مشکلات نے کئی خریداروں کی حوصلہ شکنی کی ہے جس سے تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ واشنگٹن نے گزشتہ ماہ روسی اور ایرانی تیل پر 30 روزہ استثنیٰ کا اعلان کیا تھا۔ 

اس اقدام کا مقصد امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنا تھا تاکہ عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام لایا جا سکے اور سپلائی برقرار رہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ حکومت اس استثنیٰ میں مزید توسیع نہیں کرے گی۔ 

russia iran us oil
(فوٹو: انٹرنیٹ)

موجودہ حالات میں ایرانی تیل کی خریداری کے لیے دی گئی یہ رعایت رواں اتوار کو ختم ہو جائے گی جس کے بعد بھارت سمیت دیگر ممالک کے لیے تجارت مزید مشکل ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ عالمی سطح پر تیل کی تجارت زیادہ تر ڈالر میں ہوتی ہے لیکن پابندیوں کے شکار روس اور ایران اب روبل یا یوان استعمال کر رہے ہیں۔ 

ماہرین اسے عالمی تجارتی منڈی میں ڈالر کی اجارہ داری کے لیے ایک بڑا اور براہ راست چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے حال ہی میں ایران سے 20 لاکھ بیرل خام تیل خریدا ہے۔ 

7 برس میں ہونے والے اس پہلے بڑے سودے کی مالیت تقریباً 20 کروڑ ڈالر ہے جو کہ ایک بڑے بحری جہاز ’جایا‘ کے ذریعے بھارتی بندرگاہ تک پہنچا ہے۔

بھارتی حکومت نے نجی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے لیے بھی ایرانی تیل بردار 4 بحری جہازوں کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دی ہے۔ ان میں سے ’ایم ٹی فیلیسٹی‘نامی جہاز پہلے ہی اپنا سامان بھارتی بندرگاہ پر اتار چکا ہے جبکہ دیگر جہازوں کی آمد متوقع ہے۔

دونوں بھارتی کمپنیاں آئی سی آئی سی آئی بینک کی شنگھائی شاخ کے ذریعے ادائیگیاں کر رہی ہیں۔ 

یہ بینک رقم کو چینی یوان میں تبدیل کر کے براہ راست ایرانی فروخت کنندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل کرتا ہے تاکہ ڈالر کے متبادل نظام کے تحت تجارت ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن نے جہاز کے بھارتی سمندری حدود میں داخل ہوتے ہی 95 فیصد رقم ادا کر دی تھی۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی انتظام ہے کیونکہ سرکاری کمپنیاں عام طور پر سامان کی مکمل وصولی اور ان لوڈنگ کے بعد ہی ادائیگیاں کرتی ہیں۔

dollar vs yuan

یاد رہے کہ بھارت نے امریکی پابندیوں کے باعث 2019 سے ایران سے تیل کی خریداری بند کر رکھی تھی۔ 

اس دوران چین کی نجی ریفائنریز ایرانی خام تیل کی سب سے بڑی خریدار بن کر سامنے آئی تھیں جو اب بھی مسلسل ایرانی تیل درآمد کر رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے لیے چینی یوان میں لین دین کی شرط پر غور کر رہا ہے۔ 

تہران اس اقدام کو واشنگٹن پر معاشی دباؤ بڑھانے اور اپنی کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔

ڈوئچے بینک کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں تیل کی ادائیگیوں کے لیے یوان کا استعمال مزید بڑھ سکتا ہے۔ 

اس کے علاوہ ایران آبنائے ہرمز کی ٹرانزٹ فیس کرپٹو کرنسی میں وصول کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے تاکہ مالیاتی پابندیاں  ختم ہوں۔