غزہ میں لائٹر مہنگا نہیں ہوا، حالات نے ایک معمولی چنگاری کو بقا کی ضرورت بنا دیا
جنگ سے پہلے غزہ میں ایک شیکل کے 3 لائٹر مل جاتے تھے، مگر آج ایک لائٹر کی قیمت بعض مقامات پر تقریباً 100 شیکل تک پہنچ چکی ہے۔
گیس اور ایندھن کی قلت کے باعث خیموں میں رہنے والے خاندان لکڑی، گتے اور دستیاب مواد سے آگ جلاتے ہیں، جس سے لائٹر روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن گیا ہے۔
کبھی استعمال کے بعد پھینک دیا جانے والا معمولی پلاسٹک لائٹر اب خیموں میں ایک خاندان سے دوسرے خاندان تک پہنچتا ہے، خراب ہو تو مرمت کرایا جاتا ہے، کیونکہ گیس اور ایندھن کی قلت میں اسی کی ایک چنگاری کھانا پکانے اور کبھی روزگار چلانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
کبھی یہ بازار کی سستی ترین چیزوں میں شمار ہوتا تھا۔
ایک شیکل میں 3 لائٹر مل جاتے تھے اور خراب ہونے پر انہیں پھینک دینے سے پہلے کوئی دوسری بار سوچتا بھی نہیں تھا۔
آج جنوبی غزہ کے بے گھر افراد کے کیمپوں میں یہی معمولی سا پلاسٹک لائٹر تقریباً 100 شیکل تک میں فروخت ہو رہا ہے۔
اسے ایک خیمے سے دوسرے خیمے تک مانگ کر لے جایا جاتا ہے، خراب ہو جائے تو پھینکنے کے بجائے مرمت کرائی جاتی ہے، کیونکہ بعض اوقات ایک خاندان کا کھانا پکنے یا نہ پکنے کا دارومدار اسی سے نکلنے والی ایک چھوٹی سی چنگاری پر ہوتا ہے۔
دنیا کے کسی عام شہر میں پلاسٹک کا سستا لائٹر خراب ہو جائے تو شاید اس کا اگلا ٹھکانہ کوڑے دان ہوتا ہے۔
غزہ کے خیموں میں اس کی کہانی وہیں سے دوبارہ شروع ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
اسے کھولا جاتا ہے، پرزے دیکھے جاتے ہیں، کسی ناکارہ لائٹر سے قابلِ استعمال حصہ نکال کر اس میں لگایا جاتا ہے اور پھر بار بار کوشش کی جاتی ہے کہ شاید ایک مرتبہ پھر چنگاری نکل آئے۔
کیونکہ جنگ سے پہلے جس چیز کے تین عدد صرف ایک شیکل میں مل جاتے تھے، آج وہ اتنی قیمتی ہو چکی ہے کہ اسے آسانی سے پھینکا نہیں جا سکتا۔
جنوبی غزہ میں بعض مقامات پر ایک لائٹر کی قیمت تقریباً 100 شیکل تک پہنچ چکی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ چند سینٹی میٹر لمبی پلاسٹک کی ایک معمولی چیز اچانک اتنی اہم کیسے ہوگئی؟
اس کا جواب آگ سے شروع ہوتا ہے۔
جب ایک چنگاری کھانے کی پہلی ضرورت بن جائے
4 بچوں کی ماں نسرین ابو سعادہ بھی ان ہزاروں فلسطینیوں میں شامل ہیں جنہیں جنگ نے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔
ان کے لیے آگ جلانا اب کھانا پکانے سے پہلے کا ایک معمولی سا مرحلہ نہیں رہا۔
یہ خود ایک جدوجہد بن چکا ہے۔
کھانا پکانے کی گیس اور ایندھن کی قلت نے بہت سے خاندانوں کو لکڑی، گتے اور جو کچھ جلانے کے قابل ہاتھ لگ جائے، اس پر انحصار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
مگر جلانے کے لیے سامان جمع کرلینا کافی نہیں۔
پہلے اسے آگ دکھانا ضروری ہے۔
اہم نکات +
- جنگ سے پہلے غزہ میں ایک شیکل میں تین لائٹر مل جاتے تھے، اب بعض مقامات پر ایک لائٹر تقریباً 100 شیکل تک پہنچ چکا ہے۔
- گیس اور ایندھن کی قلت نے لائٹر کو عام استعمال کی چیز سے کھانا پکانے کی بنیادی ضرورت بنا دیا ہے۔
- ایک ہی لائٹر کئی خیموں اور خاندانوں کے درمیان استعمال کیا جاتا ہے۔
- خراب لائٹر اب پھینکے نہیں جاتے بلکہ پرزے بدل کر دوبارہ قابلِ استعمال بنائے جاتے ہیں۔
- زرعی انجینئر حسن ابو لطیفہ نے حالات کے باعث خراب لائٹر مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔
- لائٹر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ غزہ میں پیدا ہونے والی شدید قلت اور بقا کی معیشت کی ایک چھوٹی مگر طاقتور علامت بن چکا ہے۔
اور جب نسرین کے پاس کام کرنے والا لائٹر نہ ہو تو انہیں کیمپ میں ایسے شخص کی تلاش کرنا پڑتی ہے جس کے چولہے میں پہلے سے آگ جل رہی ہو، تاکہ وہاں سے شعلہ لے کر اپنے چولہے تک پہنچایا جا سکے۔
یہیں ایک معمولی لائٹر کی پوری قدر سمجھ میں آتی ہے۔
اب یہ سگریٹ سلگانے یا جیب میں رکھنے کی کوئی عام چیز نہیں۔
یہ آگ کی ابتدا ہے۔
اور آگ کا مطلب ہے کہ شاید آج کا کھانا پک سکے۔
ایک چنگاری کی قیمت 100 شیکل
جنگ سے پہلے خراب لائٹر کی مرمت کروانے کا تصور بھی عجیب لگتا۔
جب ایک شیکل میں 3 نئے لائٹر مل سکتے ہوں تو خراب لائٹر کو ٹھیک کرانے پر وقت اور پیسہ کون خرچ کرے؟
مگر جب ایک ہی لائٹر کی قیمت تقریباً 100 شیکل تک پہنچ جائے تو زندگی کے ساتھ معاشی اصول بھی بدل جاتے ہیں۔
لائٹر پہلے جیسا ہی ہے۔
اس کا پلاسٹک بھی وہی ہے۔
اس کی ساخت میں بھی کوئی انقلاب نہیں آیا۔
بدلا ہے تو صرف اس کے اردگرد کا جہان۔
رسد میں خلل، اشیا کی قلت، ایندھن کی کمی، آمدن کے ذرائع کا خاتمہ اور خاندانوں کی مسلسل کم ہوتی قوتِ خرید نے ایک ایسی چیز کی قیمت بدل دی جسے کبھی اہم سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔
اور یہ قیمت ایسے معاشرے میں بڑھی ہے جہاں بے شمار لوگ اپنی ملازمتیں اور مستقل آمدن کھو چکے ہیں۔
فیکٹ باکس +
اس لیے اب لائٹر کی قدر صرف شیکل میں نہیں ناپی جاتی۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا ایک خاندان اس کے بغیر گزارا کرسکتا ہے؟
جس گھر کو ہر روز کھانا پکانے کے لیے آگ جلانی ہو، اس کے لیے جواب آسان نہیں۔
ایک لائٹر، کئی خیمے
قلت نے اپنے ساتھ ایک نیا طریقہ بھی پیدا کیا ہے:
اشتراک۔
ایک ہی لائٹر کئی خیموں کا کام چلا سکتا ہے۔
ایک خاندان اپنی آگ جلاتا ہے، پھر اسے پڑوسی لے جاتا ہے، وہاں سے کسی دوسرے خاندان تک پہنچتا ہے۔
یوں ایک چھوٹی سی چیز کئی ہاتھوں سے گزرتی رہتی ہے۔
مگر ہر چنگاری کی ایک قیمت لائٹر خود بھی ادا کرتا ہے۔
مسلسل استعمال سے اس کے پرزے گھس جاتے ہیں، گیس ختم ہوجاتی ہے یا وہ اچانک کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
عام حالات میں یہ اس لائٹر کی زندگی کا اختتام ہوتا۔
غزہ میں یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
اب لوگ نیا لائٹر تلاش کرنے سے پہلے ایسے شخص کو تلاش کرتے ہیں جو پرانے کو دوبارہ زندہ کرسکے۔
انہی لوگوں میں حسن ابو لطیفہ بھی شامل ہیں۔
زرعی انجینئر جو لائٹروں کا ’معالج‘ بن گیا
جنگ سے پہلے حسن ابو لطیفہ ایک زرعی انجینئر تھے۔
شاید انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو کہ چند سینٹی میٹر کا پلاسٹک لائٹر ایک دن ان کے روزگار کا ذریعہ بن جائے گا۔
آج وہ ایک چھوٹے سے کھوکھے میں بیٹھتے ہیں، جہاں ان کے اردگرد خراب لائٹروں کے ڈبے پڑے ہوتے ہیں۔
کسی میں چنگاری نہیں نکلتی۔
کسی کا کوئی معمولی پرزہ خراب ہے۔
اور کچھ ایسے ہیں جنہیں خود تو دوبارہ نہیں چلایا جا سکتا، مگر ان کے اندر موجود کوئی چھوٹا سا پرزہ دوسرے لائٹر کی زندگی بچا سکتا ہے۔
ابو لطیفہ خراب لائٹر کھولتے ہیں، قابلِ استعمال حصے الگ کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ جو چیزیں بچائی جا سکتی ہیں، انہیں پھر سے کام کے قابل بنایا جائے۔
جنگ سے پہلے اس کام کی کوئی معاشی منطق نہیں تھی۔
جو چیز ایک شیکل میں 3 ملتی ہو، اسے کون مرمت کراتا؟
لیکن آج سوال الٹ گیا ہے:
اگر پرانا لائٹر مرمت ہوسکتا ہے تو نیا تقریباً 100 شیکل میں کیوں خریدا جائے؟
یوں جنگ نے صرف لائٹر کی قیمت نہیں بدلی۔
اس نے لائٹر کے گرد ایک نیا روزگار بھی پیدا کردیا۔
خراب لائٹروں کے ایک ڈبے میں چھپی پوری معیشت
حسن ابو لطیفہ کے سامنے رکھا خراب لائٹروں کا ڈبہ دراصل غزہ کی بدلتی ہوئی معیشت کی ایک مختصر تصویر ہے۔
عام زندگی میں ہم مہنگی چیزیں مرمت کراتے ہیں۔
فون، گاڑی، فریج یا کوئی قیمتی مشین۔
جبکہ انتہائی سستی چیز خراب ہو تو اسے پھینک کر نئی خرید لی جاتی ہے۔
جنگ نے اس فرق کو بھی مٹا دیا ہے۔
جب نئی چیز ملنا مشکل ہوجائے تو سستی چیز بھی مرمت کے قابل بن جاتی ہے۔
جب بازار میں متبادل نایاب ہو جائے تو پرانی اور ناکارہ اشیا کے پرزے بھی قیمتی ہوجاتے ہیں۔
ایک خراب لائٹر شاید خود نہ چل سکے، مگر اس کا ایک چھوٹا سا حصہ دوسرے لائٹر کو دوبارہ روشن کرسکتا ہے۔
یہی قلت کی معیشت ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟ +
یہاں پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس چیز کی اصل قیمت کتنی تھی۔
سوال یہ ہوتا ہے:
اگر یہ ختم ہوگئی تو اس کا متبادل کہاں سے آئے گا؟
آخر لائٹر اتنا ضروری کیوں ہوگیا؟
اس سوال کا جواب غزہ میں کھانا پکانے کے بدلتے طریقوں میں چھپا ہے۔
حالیہ انسانی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ کھانا پکانے کی گیس اور ایندھن کی قلت کے باعث غزہ کی بڑی آبادی متبادل ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہوئی، جن میں لکڑی، گتا، دستیاب قابلِ احتراق مواد اور یہاں تک کہ کچرا جلانا بھی شامل ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ کھلی آگ اب کیمپوں میں چند خاندانوں کی مجبوری نہیں رہی۔
بہت سے لوگوں کی روزمرہ زندگی اسی کے گرد گھوم رہی ہے۔
یہاں لائٹر ایک بڑی زنجیر کی پہلی کڑی بن جاتا ہے:
لائٹر → آگ → کھانا پکانا → ایک وقت کی خوراک۔
پہلی کڑی ٹوٹ جائے تو آخری منزل تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اسی لیے لائٹر کی کہانی کو ایندھن کی قلت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
اور نہ ہی اسے آمدن کے بحران سے جدا کیا جاسکتا ہے۔
جب بے روزگاری انتہائی بلند سطح پر ہو اور ہزاروں خاندانوں کے پاس مستقل آمدن نہ ہو تو ایک ایسی چیز پر درجنوں شیکل خرچ کرنا، جو کبھی تقریباً مفت تھی، معمولی فیصلہ نہیں رہتا۔
اسی لیے لائٹر مانگے جاتے ہیں۔
اسی لیے ان کی مرمت ہوتی ہے۔
اور اسی لیے اب انہیں پھینکا نہیں جاتا۔
صرف کھانے کے لیے نہیں
لائٹر سے نکلنے والی آگ کی اہمیت صرف گھر کا کھانا پکانے تک محدود نہیں۔
بعض بے گھر افراد کے لیے یہی آگ روزگار بھی ہے۔
6 بچوں کی بے گھر ماں افتخار الکفارنہ روایتی تنور میں روٹیاں پکا کر کچھ آمدن حاصل کرتی ہیں۔
ان کے لیے آگ جلانے کا ذریعہ خراب ہوجائے تو صرف کھانا تاخیر کا شکار نہیں ہوتا۔
کام رک جاتا ہے۔
لائٹر اتنا قیمتی کیوں ہوگیا؟ +
یہاں لائٹر ایک مرتبہ پھر اپنا کردار بدل لیتا ہے۔
وہ ایک عام صارفین کی چیز سے روزگار کے آلے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
لائٹر چلے گا تو آگ جلے گی۔
آگ ہوگی تو روٹی پکے گی۔
اور روٹی بکے گی تو شاید ایک خاندان کے ہاتھ کچھ آمدن آئے گی۔
لائٹر کے پیچھے 14 لاکھ انسانوں کی کہانی
بڑے اعداد اس کہانی میں لائٹر کی جگہ لینے کے لیے نہیں، بلکہ یہ سمجھانے کے لیے آتے ہیں کہ آخر اس کی قدر اتنی کیوں بڑھ گئی۔
غذائی تحفظ کی مربوط مرحلہ وار درجہ بندی، IPC کے تازہ جائزے کے مطابق اپریل کے وسط سے جون 2026 کے اختتام تک غزہ کے 12 لاکھ سے زیادہ افراد، یعنی تقریباً 59 فیصد آبادی، شدید غذائی عدم تحفظ کی ’بحران یا اس سے بدتر‘ سطح کا سامنا کر رہی تھی۔
جولائی سے دسمبر کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر 14 لاکھ سے زیادہ، یعنی تقریباً 67 فیصد آبادی تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ اعداد خوراک کے بحران کی تصویر دکھاتے ہیں۔
مگر خیمے کے اندر ایک خاندان کے لیے معاملہ اس سے بھی آگے جاتا ہے۔
ایک لائٹر، کئی خیمے +
کھانے کی چیز مل جانا ہمیشہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ اسے کھایا بھی جاسکتا ہے۔
آٹا مل جائے تو اسے روٹی میں بدلنے کے لیے آگ چاہیے۔
بہت سی غذائیں پکائے بغیر نہیں کھائی جاسکتیں۔
کھانا پکانے کے لیے حرارت درکار ہے۔
گیس نہ ہو تو لکڑی، گتے یا کسی اور قابلِ احتراق چیز کی طرف جانا پڑتا ہے۔
اور پھر یہ سب شروع کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے ایک نہایت چھوٹی چیز:
لائٹر۔
آگ زندگی بھی، خطرہ بھی
مگر جو چنگاری ایک مشکل حل کرتی ہے، وہ دوسری مصیبت بھی پیدا کرسکتی ہے۔
خیموں کے اندر یا ان کے قریب کھلی آگ پر کھانا پکانا آتش زدگی کا خطرہ بڑھاتا ہے، خصوصاً ایسی جگہوں پر جہاں پلاسٹک کی چادریں، گتا، پرانے کمبل اور دوسری جلد آگ پکڑنے والی اشیا موجود ہوں۔
یوں آگ کے دو چہرے ہیں۔
اس کے بغیر کھانا پکانا مشکل ہے۔
اور بے قابو ہوجائے تو یہی آگ خاندان کا عارضی سائبان بھی چھین سکتی ہے۔
یہ بے گھر زندگی کی تلخ ترین ستم ظریفیوں میں سے ایک ہے:
زندہ رہنے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے، وہی ایک لمحے میں نیا خطرہ بن سکتی ہے۔
اس کے باوجود ہر روز وہی سوال دوبارہ سامنے آتا ہے:
آگ کیسے جلائی جائے؟
ایک لائٹر کا سفر، پوری کہانی
ذرا ایک لائٹر کے سفر کا تصور کیجیے۔
وہ مہنگے داموں خریدا جاتا ہے۔
ایک خیمے میں پہنچتا ہے۔
ایک خاندان اس سے آگ جلا کر کھانا پکاتا ہے۔
پڑوسی اسے مانگ کر لے جاتا ہے۔
پھر کسی تیسرے خاندان کی باری آتی ہے۔
ایک منٹ میں کہانی +
گیس اور ایندھن کی قلت کے باعث بے گھر خاندان لکڑی، گتے اور دستیاب مواد سے آگ جلا کر کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔ اسی لیے ایک معمولی لائٹر روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن گیا ہے۔
اب لائٹر ایک خیمے سے دوسرے خیمے تک مانگے جاتے ہیں اور خراب ہونے پر پھینکنے کے بجائے مرمت کرائے جاتے ہیں۔ زرعی انجینئر حسن ابو لطیفہ بھی ایسے ہی خراب لائٹر ٹھیک کرکے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔
غزہ میں پلاسٹک قیمتی نہیں ہوا؛ ایک چنگاری قیمتی ہوگئی ہے۔
وہ کئی ہاتھوں سے گزرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
مگر اسے پھینکا نہیں جاتا۔
وہ حسن ابو لطیفہ کے کھوکھے تک پہنچتا ہے۔
وہ اسے کھولتے ہیں۔
دیکھتے ہیں۔
کسی دوسرے ناکارہ لائٹر سے ایک چھوٹا سا پرزہ نکالتے ہیں۔
اس میں لگاتے ہیں۔
پھر انگلی گھماتے ہیں۔
ایک چنگاری نکلتی ہے۔
لائٹر دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے۔
اور اس کا سفر پھر شروع ہوجاتا ہے۔
یہ چھوٹا سا چکر بغیر کسی بڑے معاشی گراف کے غزہ کی موجودہ زندگی کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتا ہے۔
یہ بتاتا ہے کہ جب چیزیں لوگوں کی پہنچ سے دور ہونے لگیں تو مرمت کیسے مجبوری بن جاتی ہے۔
قلت میں اشتراک کیسے زندگی کا طریقہ بنتا ہے۔
اور وہ چیزیں جنہیں کبھی کوئی سنبھال کر نہیں رکھتا تھا، کیسے اثاثہ بن جاتی ہیں۔
جنگ کی کہانی، ایک لائٹر کی زبانی
جنگ کے اثرات کو تباہ شدہ عمارتوں، معاشی نقصانات، بے روزگاری، بھوک اور بے گھر افراد کی تعداد سے ناپا جاسکتا ہے۔
لیکن شاید ایک اور پیمانہ بھی ہے:
ان چیزوں کی قیمت کتنی بڑھ گئی جن کی قیمت کبھی کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا؟
جنگ سے پہلے ایک شیکل میں 3 لائٹر مل جاتے تھے۔
آج ایک لائٹر تقریباً 100 شیکل تک پہنچ سکتا ہے۔
ان دونوں قیمتوں کے درمیان صرف مہنگائی کی کہانی نہیں۔
مختصر تجزیہ +
اس فاصلے میں ختم ہوجانے والے روزگار ہیں۔
نایاب ہوتی اشیا ہیں۔
کم پڑتی گیس اور ایندھن ہے۔
خیموں میں منتقل ہونے والی زندگیاں ہیں۔
وہ مائیں ہیں جنہیں بچوں کے لیے کھانا پکانے کو آگ چاہیے۔
وہ خاندان ہیں جو ایک ہی لائٹر ایک دوسرے سے مانگتے ہیں۔
اور ایک زرعی انجینئر ہے جو خراب لائٹروں کے ننھے پرزے جوڑ کر ان میں دوبارہ چنگاری پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
شاید اسی لیے ایک معمولی سا لائٹر آج غزہ کی ایک بہت بڑی کہانی سنانے والی سب سے چھوٹی چیز بن چکا ہے۔
جو پلاسٹک کا ٹکڑا کبھی خریدا، استعمال کیا اور پھینک دیا جاتا تھا، آج اسے سنبھالا جاتا ہے، مانگا جاتا ہے اور خراب ہونے پر مرمت کرایا جاتا ہے۔
اس لیے نہیں کہ پلاسٹک قیمتی ہوگیا ہے۔
بلکہ اس لیے کہ غزہ میں اب ایک چنگاری بھی قیمتی ہے۔
🔥
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
غزہ میں لائٹر کی انسانی کہانی، ایندھن کی قلت، غذائی بحران اور معاشی تباہی سے متعلق بنیادی اور معتبر ذرائع
6 معتبر ذرائع
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
غزہ میں لائٹر کی انسانی کہانی، ایندھن کی قلت، غذائی بحران اور معاشی تباہی سے متعلق بنیادی اور معتبر ذرائع