غزہ کی پٹی پر قائم بے گھر فلسطینیوں کی خیمہ بستیوں میں پانی کے ٹرک کا پہنچنا کسی عید کے تہوار سے کم نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں
یہ وہ لمحہ ہے جب خیموں میں زندگی کی ہلچل تیز ہو جاتی ہے۔ بچے ہفتہ وار پانی کے محدود کوٹے میں سے اپنا حصہ لینے کے لیے خالی گیلن اٹھائے دوڑتے ہیں اور مائیں کھانا پکانے کی تیاری کرتی ہیں۔
شدید گرمی اور پانی کی قلت کے درمیان ہر خیمے میں ’روزانہ کا حساب‘ جاری رہتا ہے، جہاں صرف 70 لیٹر پانی پورے ہفتے کی ضروریات، کھانا پکانے، دھلائی، غسل اور ادویات کے لیے پورا کرنا لازمی ہے۔
بچے، بیمار اور بقا کی جنگ
غزہ کے خیموں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے پانی کا ہر قطرہ قیمتی ہے۔
9 سالہ کنعان(جو اپنے خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ بیت حانون سے نقل مکانی پر مجبور ہوا) کے لیے پانی کے ٹرک کی آواز کسی سائرن سے کم نہیں ہوتی۔
اس کی والدہ نعمة صالح بتاتی ہیں کہ کنعان ایک اعصابی مرض کا شکار ہے، جس کی وجہ سے اسے تشنج کے دورے پڑتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، اسرائیلی بمباری میں اس کے جگر میں لگنے والے ٹکڑے اس کی تکلیف میں اضافہ کر رہے ہیں۔
علاج کی عدم دستیابی کے باعث نعمة کی پہلی ترجیح کنعان کی ادویات کے لیے پانی محفوظ کرنا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ اگر پانی کم پڑے تو وہ کھانا پکانے یا دھلائی میں کمی کر سکتی ہیں، لیکن ادویات کے لیے درکار پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔
خیموں کے اندر پانی کا حساب
علاء القبج (38 سال) اور ان کی اہلیہ فرح (25 سال) کے خیمے میں پانی کی بوتلوں اور گیلن کو لے کر ہفتے بھر کا حساب بنایا جاتا ہے۔
یہاں ہر برتن کا ایک مخصوص مقصد ہے۔ ایک گیلن پینے کے لیے، ایک کھانا پکانے کے لیے اور دیگر بچوں کی صفائی اور برتن دھونے کے لیے۔
فرح (جو ایک چھوٹے سے چولہے پر دوپہر کا کھانا تیار کر رہی ہیں) بتاتی ہیں کہ پانی کا ٹرک پہنچتے ہی خیمے کی ساری سرگرمیاں ایک ’جنگ‘ کا منظر پیش کرتی ہیں۔
پانی آتے ہی بچے نہاتے ہیں، دھلائی کا کام نمٹایا جاتا ہے اور پھر باقی پانی کو انتہائی احتیاط کے ساتھ محفوظ کر لیا جاتا ہے تاکہ اگلے ہفتے تک کام چل سکے۔
بے سہارا خواتین پر دہرا بوجھ
فتحیہ حمد (66 سال) کے خیمے کا منظر مزید دلخراش ہے، جہاں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے ان کے خاندان کے تمام مردوں(شوہر، بیٹوں اور دامادوں) کو چھین لیا ہے۔
اب اس خیمے کو فتحیہ، ان کی زخمی بیٹی یاسمین اور 2 دیگر بیٹیاں سہا اور مریم اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہاں پانی لانا، لکڑیاں جمع کرنا اور گھر چلانا اب خواتین کی ذمہ داری ہے۔
یاسمین(جس کی ٹانگ میں زخم ہے) بتاتی ہیں کہ پہلے مرد پانی کے بھاری گیلن اٹھا کر لاتے تھے، لیکن اب یہ مشقت انہیں خود کرنی پڑتی ہے۔
پانی کے گیلن بھر کر لانے اور لکڑیوں کا بھاری بوجھ اٹھانے سے ان خواتین کو شدید جسمانی تکلیف کا سامنا ہے۔
نہ ختم ہونے والا امتحان
فتحیہ حمد کی بیٹی مریم اپنے 4 بچوں کے ساتھ اس مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ اُن کے لیے پانی کی یہ 70 لیٹر کی قلیل مقدار صرف ایک کوٹہ نہیں، بلکہ ہر روز ایک نیا امتحان ہے۔
پانی کی تلاش، لکڑیاں ڈھونڈنا اور خیمے کی ضروریات پورا کرنا اس خاندان کے لیے زندگی کا معمول بن چکا ہے۔
یہ صورتحال صرف ایک پانی کے بحران کا قصہ نہیں، بلکہ ان ہزاروں فلسطینی خاندانوں کی اجتماعی کہانی ہے جو اپنے سرپرستوں کے کھو جانے کے بعد اب تنہا بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
غزہ میں پانی کی قلت کا بحران صرف موسمیاتی یا بنیادی ڈھانچے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ کے تباہ کن اثرات کا ایک بھیانک چہرہ ہے۔
جب ایک خیمہ نشیں خاندان ہفتہ وار 70 لیٹر پانی پر گزارا کرنے پر مجبور ہو، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانیت ایک امتحان سے گزر رہی ہے جہاں زندگی کی بنیادی ترین ضرورت بھی انسان کو کتنا مجبور کردیتی ہے۔
یہ بحران اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ غزہ کی پٹی پر انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کس قدر سنگین حد تک متاثر ہو چکی ہے اور جب تک عالمی برادری اس بنیادی ضرورت کو یقینی نہیں بناتی، تب تک ہر خیمے میں ایک نئی بقا کی جنگ جاری رہے گی۔