غزہ کی تباہی کو اعداد میں بیان کرنا آسان ہے۔ کتنی عمارتیں تباہ ہوئیں، کتنے لوگ مارے گئے اور کتنے خاندان بے گھر ہوئے؟، لیکن انہی اعداد کے پیچھے کچھ زندگیاں ایسی ہیں جو جنگ کی پوری ہولناکی کو بیان کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اہلِ غزہ نے صرف اپنے گھر نہیں کھوئے، بلکہ انہوں نے اپنے خاندان، یادیں اور زندگی کے پورے نقشے ملبے میں دفن ہوتے دیکھتے ہیں۔
تغرید الدلو بھی انہی میں سے ایک ہیں، جو 7 مرتبہ ملبے تلے دبیں اور ہر بار زندگی نے انہیں دوبارہ کھڑا ہونے کا موقع دیا۔
ایک نئے صدمے کی ابتدا تھا۔ کبھی ماں نہیں رہی، کبھی بھائی، بہن یا بھانجا بچھڑ گیا۔
🔥 لرزتی داستان
سات بار موت سے زندگی تک کا سفر
سات بار موت سے زندگی تک کا سفر
🥀 ہر واپسی پر بچھڑتے اپنے
تغرید الدلو کے لیے ملبے سے زندہ نکلنا نجات کی خوشی نہیں بلکہ ایک نئے ماتم کا آغاز تھا۔ کنکریٹ کے نیچے دبنے کے بعد جب بھی آنکھیں کھلیں، خاندان کے افراد پہلے سے کم ہو چکے تھے اور رشتوں کے نقشے راکھ بن چکے تھے۔
1۔ الشجاعیہ کا پہلا اور دوسرا ملبہ (اکتوبر 2023)
7 اکتوبر کو معذور والدہ کو سوراخ کی روشنی کی طرف گھسیٹ کر جان بچائی۔ اگلے ہی دن دوسرے حملے میں ملبے تلے دبیں اور ماموں سمیت درجنوں پیارے کھو دیے۔
2۔ ابو العظام اور شارع فلسطین (نومبر 2023)
تباہ شدہ کمرے میں پناہ لینے پر تیسری بار چھت آ گری، جبکہ 15 نومبر کو شارع فلسطین میں چوتھی بار کنکریٹ تلے دب کر نکلیں تو بھتیجا جدا ہو چکا تھا۔
3۔ شارع النفق اور الزیتون کی آزمائش (2024–2025)
شارع النفق پر 4 منزلہ عمارت گرنے سے 30 منٹ ریت تلے دبیں اور 20 رشتہ دار شہید ہوئے۔ جولائی 2025 میں الزیتون کے ساتویں ملبے نے خاندان کو محض 10 افراد تک محدود کر دیا۔
یہ 200 سے زیادہ افراد پر مشتمل خاندان آج صرف 10 زندہ چہروں تک سمٹ چکا ہے۔
غزہ کے الشفا اسپتال میں تغرید فوٹوگرافروں کے درمیان کسی خبر کے لیے نہیں، اپنے ماضی کے لیے بھٹک رہی تھی۔ اسے ایسی تصاویر درکار تھیں جن میں والدہ کا پرانا چہرہ ہو، بہن بھائی نظر آ جائیں یا اس کے خاندان کی کوئی یاد محفوظ ہو۔
7 بار ملبے سے زندہ نکلنے والی غزہ کی عنقا
اسرائیلی جارحیت میں 200 افراد پر مشتمل خاندان کھو کر بار بار موت کے منہ سے بچ نکلنے کی دردناک داستان
تغرید الدلو بمباری کے نتیجے میں سات مرتبہ ملبے تلے دب کر زندہ نکلیں، مگر ہر بار ان کا خاندان مختصر ہوتے ہوتے صرف دس افراد تک محدود ہو گیا۔
الشجاعیہ سے الزیتون تک مختلف پناہ گاہوں پر مسلسل بمباری کے باوجود تغرید ملبے کے نیچے سے ہر بار معجزاتی طور پر زندہ نکالی گئیں۔
دو سو سے زیادہ افراد پر مشتمل ہنستا بستاہ خاندان مسلسل بمباری اور شہادتوں کے بعد اب صرف گنے چنے افراد تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔
جنگ کے دوران درجنوں بار عارضی پناہ گاہیں تباہ ہوئیں اور وہ معذور والدہ کو لے کر شدید خطرات کے درمیان جگہ جگہ منتقل ہوتی رہیں۔
جسمانی زخموں اور ٹوٹی ہڈیوں کے باوجود وہ ہسپتالوں اور کیمروں میں شہید والدہ اور بہن بھائیوں کی پرانی تصویریں تلاش کر رہی ہیں تاکہ یادیں مٹنے سے بچ سکیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ملبہ، جو ایک یادداشت کا ڈھیر بن گیا
تغرید کے لیے غزہ کا نقشہ اب سڑکوں اور محلوں کا نقشہ نہیں رہا، بلکہ اس کے لیے ہر جگہ کسی مرنے والے عزیز کی ایک نشانی بن گئی ہے۔
کسی مقام پر والدہ کی یاد ہے، تو کہیں بھائی، بہن اور بھانجے کا نام، جبکہ کسی ملبے کے نیچے خاندان کے تقریباً 20 افراد ہمیشہ کے لیے دبے رہ گئے۔
وہ 7 مرتبہ اسرائیلی حملوں کے بعد ملبے تلے دبیں اور ساتوں مرتبہ زندہ نکلیں، مگر ہر واپسی پہلے سے زیادہ اذیت ناک تھی، کیونکہ باہر نکلنے کے بعد انہیں معلوم ہوتا کہ خاندان مزید مختصر ہوگیا ہے۔
اُن کے الفاظ میں، جنگ نے ان کی یادداشت کو چھلنی کردیا ہے۔ اب انہیں گھروں کی صورت سے زیادہ تر وہ ملبے یاد ہیں جن کے نیچے ’اپنے‘ کھو گئے ہیں۔
📊 المناک اعداد
خاندان 200 سے 10 ہوگیا
خاندان 200 سے 10 ہوگیا
🕯️ پورا شجرۂ نسب راکھ کا ڈھیر
تغرید الدلو کا خاندان جو کبھی دو سو سے زائد افراد کی مسکراہٹوں سے گونجتا تھا، مسلسل بمباری، محاصرے اور ملبے تلے دب جانے کے باعث اب صرف دس زندہ افراد تک محدود ہو چکا ہے۔ نسلوں کا تسلسل چند لمحوں میں ختم ہو گیا۔
قریبی خون کے رشتے بچھڑ گئے
والدہ کے علاوہ دو بھائی، ایک بہن، متعدد بھانجے اور بھتیجے بمباری میں شہید ہوئے جن کے بغیر گھر سنسان ہو گیا۔
اسیران اور گمشدگان
خاندان کے 2 قریبی افراد تاحال اسرائیلی حراست میں ہیں، جبکہ ایک بھائی دورانِ حراست مبینہ تشدد سے جان کی بازی ہار گیا۔
وسیع خاندانی حلقے کا خاتمہ
درجنوں چچا، ماموں، ممانی، کزنز اور ان کے معصوم بچوں کے پورے کے پورے گھرانے ملبے تلے ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے۔
یادداشتوں اور تصویروں کی کھوج
باقی رہ جانے والے 10 افراد کے پاس اب اپنوں کی شکلیں یاد رکھنے کے لیے پرانی تصویروں کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔
الشجاعیہ، جہاں موت سے پہلا مقابلہ ہوا
7 اکتوبر 2023 کو الشجاعیہ شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں آیا، عمارتیں گرنے لگیں اور لوگ جان بچانے کے لیے نکل پڑے۔ انہی منہدم گھروں میں تغرید اپنی 84 سالہ معذور اور الزائمر کی مریضہ والدہ کے ساتھ پھنس گئیں۔
رات ملبے کے نیچے گزری۔ تغرید نے ٹوٹی زمین اور منہدم چھت کے درمیان رینگتے ہوئے اپنی والدہ کو گھسیٹا۔ ایک چھوٹے سوراخ سے آنے والی روشنی ان کے لیے باہر نکلنے کا واحد راستہ بنی۔
وہ خود جیسے تیسے زندہ نکل آئیں، مگر خاندان کے کئی افراد نہیں نکل سکے۔ علاقے میں 200 سے زیادہ افراد مارے گئے۔ تغرید کے ماموں، بھانجے اور ماموں کی اہلیہ بھی مرنے والوں میں شامل تھے۔
اگلے ہی روز الشجاعیہ میں ایک اور شدید حملے نے انہیں دوبارہ ملبے میں پہنچا دیا۔ باہر نکلتے ہی خون آلود ہاتھوں سے ملبہ ہٹاتے ہوئے ان کا ایک ہی سوال تھا کہ ’میری ماں کہاں ہے، میرے بہن بھائی کہاں ہیں؟‘
ہر نئی پناہ گاہ، ایک نیا ملبہ
نومبر 2023 میں خاندان ابو العظام پہنچا۔ ایک پہلے سے تباہ گھر کے صرف 6 مربع میٹر حصے میں 12 افراد نے 3 پرانے گدوں پر 2 ہفتے گزارے۔ پھر بمباری ہوئی اور وہ عارضی چھت بھی اُن پر آگری۔
15 نومبر کو شارع فلسطین میں تغرید چوتھی مرتبہ ملبے سے نکلیں، جہاں ان کے بھتیجے سمیت کئی رشتہ دار جان سے گئے۔
تغرید کے لیے اس وقت اپنے جذبات سمجھنے کی فرصت بھی نہیں تھی۔ ہر حملے کے بعد ان کی پہلی فکر والدہ کو تلاش کرنا ہوتی۔ موت سے بچ جانے کی خوشی اس وقت ادھوری رہتی جب اگلے چند لمحوں میں کسی عزیز کی موت سامنے آجاتی۔
💔
بکھرتے خاندان کی داستان
+
بکھرتے خاندان کی داستان
ماضی کا شاداب آنگن
- 200 سے زائد افراد پر مشتمل ایک جڑا ہوا مضبوط اور پرسکون خاندان۔
- الشفا اسپتال میں تغرید کی بلڈ بینک انچارج کے طور پر باعزت پیشہ ورانہ زندگی۔
- غزہ کے گلی محلوں میں اپنے پیاروں کے ساتھ جڑی یادوں اور محبتوں کا مسکن۔
حال کی بکھری ہوئی حقیقت
- الشفا کے محاصرے کے دوران بھائیوں کی گرفتاری اور زبردستی جنوب کی طرف بیدخلی۔
- تغرید کے جسم پر ٹوٹی ہڈیوں، سانس کی تکلیف اور مستقل گھٹن کے گہرے اثرات۔
- اسپتالوں کے فوٹوگرافروں سے اپنے پیاروں کی گمشدہ تصویریں مانگنے کی تڑپ۔
الشفا میں خاندان بکھر گیا
اسی ماہ الشفا اسپتال ان کی اگلی پناہ گاہ بنا۔ تغرید خود اسپتال کے بلڈ بینک میں خون کے اجزا الگ کرنے والے شعبے کی انچارج تھیں، اس لیے انہوں نے اپنے دفتر کو عارضی ٹھکانہ بنالیا۔
اسرائیلی فوج نے اسپتال کا محاصرہ اور پھر اس کے مختلف حصوں میں کارروائی کی۔ بجلی، پانی اور ایندھن کی قلت کے درمیان طبی نظام شدید متاثر ہوا۔
اسی دوران تغرید کے ایک بھائی اور ان کے 2 بیٹوں کو والدہ کے سامنے گرفتار کرلیا گیا۔ تغرید کے مطابق ان کے بھائی بعد میں اسرائیلی حراست میں تشدد کے باعث جان سے گئے۔
دوسرے بھائی اور ان کے بچوں کو جنوب کی طرف جانے پر مجبور کردیا گیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب کئی ہفتوں سے ایک دوسرے کو تھامے خاندان کی آخری مضبوط کڑی بھی ٹوٹنے لگی۔
👵 معذور ماں کی استقامت
ماں کی آخری جنگ: ملبے سے آئی سی یو تک 40 دن
ماں کی آخری جنگ: ملبے سے آئی سی یو تک 40 دن
🏥 الزائمر، چھرے اور آئی سی یو کا کرب
تغرید کی 84 سالہ والدہ الزائمر کی مریضہ اور معذور تھیں، جنہیں ہر حملے میں ملبے کے درمیان سے گھسیٹ کر نکالا گیا۔ شارع النفق کے ہولناک سانحے میں شدید زخمی ہونے کے بعد وہ 40 روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہیں اور بالآخر دم توڑ گئیں۔
چھت گرنے کے بعد تغرید نے اپنی معذور ماں کو منہدم فرش پر گھسیٹ کر ایک سوراخ کے ذریعے باہر نکالا۔
دسمبر 2024 میں عمارت کا پورا بلاک اوپر آ گرا؛ والدہ کو شدید زخمی حالت میں زندہ تو نکالا گیا مگر جسم لہولہان تھا۔
طبی سہولیات اور ادویات کی شدید قلت کے دوران چالیس روز انتہائی نگہداشت میں لڑتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
4 منزلیں آ گریں اور ماں بھی چلی گئی
دسمبر 2024 میں شارع النفق کا سانحہ تغرید کے لیے سب سے بڑا زخم بن گیا۔ مسجد الیرموک کے اطراف شدید بمباری کے دوران 4 منزلیں خاندان پر آگریں۔
تقریباً 20 رشتہ دار ملبے میں جان سے گئے۔ ان میں تغرید کی بہن، بھانجا، کزن اور خاندان کے کئی دوسرے افراد شامل تھے۔ متعدد زخمیوں کے اعضا بھی کاٹنے پڑے۔
تغرید خود تقریباً 30 منٹ ریت اور مٹی کے نیچے دم گھٹنے کی حالت میں رہیں۔ امدادی کارکنوں نے ملبہ کھودا تو زندگی کی نشانیاں ملیں۔
ان کی والدہ بھی زندہ نکالی گئیں، مگر جسم اور چہرہ چھروں سے بھرا تھا۔ وہ 40 دن انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد دم توڑ گئیں۔
⛺
31 بار نقل مکانی: آخر کہاں کہاں پناہ ملی؟
◀
🚶♀️ بے سروسامانی کا نہ رکنے والا سفر
تغرید الدلو نے جنگ کے دوران اکتیس بار اپنے ٹھکانے بدلے۔ الشجاعیہ سے شروع ہونے والا یہ سفر اسپتال کے دفاتر، تباہ شدہ کمروں، گلیوں اور خیموں سے ہوتا ہوا ملبے کے نئے ڈھیروں تک پہنچتا رہا، جہاں کوئی جگہ محفوظ نہیں تھی۔
1۔ ابو العظام کا 6 میٹر کا کمرہ
پہلے سے کھنڈر بنے مکان کے چھوٹے سے حصے میں 12 افراد نے 3 پرانے گدوں پر دو ہفتے کاٹے، تاوقتیکہ وہ چھت بھی بمباری میں گر گئی۔
2۔ الشفا اسپتال کا بلڈ بینک آفس
تغرید نے اپنے دفتری کمرے کو عارضی گھر بنایا مگر محاصرے، بجلی پانی کی بندش اور گرفتاریوں نے خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا۔
3۔ مسجد الیرموک اور شارع النفق
مسجد کے اطراف میں واقع رہائشی عمارت میں پناہ لی جہاں 4 منزلیں منہدم ہو گئیں اور خاندان کے 20 افراد بیک وقت شہید ہوئے۔
4۔ الزیتون اور شارع فلسطین کے کھنڈرات
بار بار بمباری کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں سے نکل کر نئے عارضی کیمپوں کا رخ کیا جہاں اب بھی صرف ملبے کی یادیں باقی ہیں۔
ساتواں ملبہ اور صرف 10 زندہ لوگ
جولائی 2025 میں الزیتون کا علاقہ خاندان کی ساتویں آزمائش بنا۔ ایک رہائشی بلاک تباہ ہوا تو تغرید کے دوسرے بھائی، ان کے بیٹے اور دوسرے بھائی کے بچے بھی جان سے گئے۔
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 200 سے زیادہ افراد پر مشتمل خاندان اب صرف 10 افراد تک محدود ہوچکا تھا۔
تغرید خود جنگ کے دوران 31 مرتبہ بے گھر ہوئیں۔ 2 بھائی اور ایک بہن کھو چکی ہیں، 2 قریبی افراد قید میں ہیں، جبکہ درجنوں چچا، ماموں، کزن، بچے اور دوسری نسلوں کے رشتہ دار بھی اب موجود نہیں۔
غزہ کی عنقا اب تصویریں تلاش کرتی ہے
تغرید کے جسم میں آج بھی ٹوٹی ہڈیوں، سانس کی تکلیف اور مسلسل گھٹن کے اثرات موجود ہیں۔ آواز اتنی متاثر ہے کہ طویل گفتگو بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ مگر شاید سب سے گہرا زخم تصویروں کا ہے۔
وہ اپنی والدہ کا وہ چہرہ تلاش کررہی ہیں جو چھروں سے زخمی ہونے سے پہلے تھا۔ شہید بہن بھائیوں اور بچوں کی تصاویر ڈھونڈ رہی ہیں، تاکہ مٹتے ہوئے خاندان کو کم از کم یادداشت میں محفوظ رکھا جاسکے۔
7 مرتبہ ملبے تلے دفن ہوکر زندگی کی طرف لوٹنے والی تغرید اسی لیے غزہ کی ’عنقا‘ دکھائی دیتی ہیں۔
اِن کی کہانی صرف ایک عورت کے زندہ بچنے کی داستان نہیں، بلکہ اس سوال کی زندہ تصویر ہے کہ جب گھر، خاندان اور یادیں چھن جائیں تو انسان آخر کس چیز کو تھام کر زندہ رہتا ہے؟