براہ راست نشریات

ایران سے جنگ مہنگی لگی، کیا کانگریس بھی ٹرمپ کے ہاتھ سے جائے گی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
US Midterm Elections 2026

ٹرمپ ایران کو اپنی خارجہ پالیسی کی بڑی فتح بنانا چاہتے تھے، مگر طویل جنگ، ہرمز کی بندش اور مہنگے پٹرول نے صورتحال بدل دی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی جنگ نومبر میں ری پبلکنز سے کانگریس بھی چھین سکتی ہے؟

چند ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین تھا کہ ایران ان کی دوسری مدتِ صدارت کی سب سے بڑی سیاسی کامیابیوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔

منصوبہ بظاہر واضح تھا: 

فوجی دباؤ بڑھایا جائے، ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کیا جائے، پابندیاں سخت کی جائیں اور پھر تہران کو ایسے معاہدے پر مجبور کیا جائے جسے ٹرمپ امریکی عوام کے سامنے اپنی پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کرسکیں۔

لیکن 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے آتے حالات مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔

ایران نے امریکی شرائط قبول نہیں کیں، آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر نہیں آئی، توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے اور مذاکرات بھی کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

01
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
اہم نکات
  • ٹرمپ ایران کے خلاف محاذ آرائی کو اپنی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی بنانا چاہتے تھے، مگر جنگ طویل ہوگئی۔
  • آبنائے ہرمز کی بے یقینی نے عالمی تیل اور امریکی پٹرول کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا۔
  • Reuters/Ipsos کے تازہ سروے میں ٹرمپ کی منظوری 33 فیصد تک گر گئی۔
  • 80 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ طویل ہوسکتی ہے۔
  • کانگریس ووٹ ترجیح میں ڈیموکریٹس 42 فیصد اور ری پبلکنز 37 فیصد پر ہیں۔
overseaspost.net

یوں ایک ایسی جنگ، جسے خارجہ پالیسی میں طاقت کی علامت بننا تھا، اب اندرونِ امریکا ایک انتخابی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

ایران کو شاید امریکا کو میدانِ جنگ میں شکست دینے کی بھی ضرورت نہیں۔

اس کے لیے جنگ کا طویل ہونا ہی کافی ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

جو جنگ مختصر ہونی تھی

جب فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ محاذ آرائی شروع ہوئی تو ٹرمپ انتظامیہ نے بڑے اہداف سامنے رکھے تھے۔

ایرانی جوہری پروگرام کو کمزور کرنا، تہران کی فوجی صلاحیت محدود کرنا اور ایسا دباؤ پیدا کرنا جس کے بعد ایرانی قیادت واشنگٹن کی شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جائے۔

لیکن تقریباً 6 ماہ بعد بھی تنازع ختم نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات روک دیے جبکہ واشنگٹن مزید سخت اقتصادی پابندیوں کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق نئی پابندیاں ایران کے خلاف اب تک عائد کی جانے والی سخت ترین پابندیوں میں شامل ہوسکتی ہیں۔

02
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
فیکٹ باکس: انتخابی خطرہ کتنا بڑا؟
33%ٹرمپ کی موجودہ منظوری
64%کارکردگی سے عدم اطمینان
80%جنگ طویل ہونے کا خدشہ
42% بمقابلہ 37%کانگریس ووٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری

انتخابات: امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر 2026 کو ہوں گے۔ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستیں انتخاب کے لیے ہوں گی۔

overseaspost.net

دوسری جانب تہران نے اب تک ایسے کوئی اشارے نہیں دیے کہ وہ امریکا کی بنیادی شرائط ماننے کے لیے تیار ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس ایک ایسی صورتحال میں پہنچ گیا ہے جو انتخابات سے چند ماہ پہلے اس کے لیے خاصی پریشان کن ہے۔

نہ ایسی فتح موجود ہے جس کا اعلان کیا جاسکے، نہ کوئی مکمل معاہدہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی جنگ سے پہلے والی صورتحال بحال ہوئی ہے۔

ہرمز سے امریکی شہری کی جیب تک

ٹرمپ کے لیے اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ جنگ فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچی۔

اصل مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔

جنگ سے پہلے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اس اہم بحری راستے سے گزرتا تھا۔ کشیدگی بڑھنے کے بعد آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی اور ہر نئی پیش رفت نے عالمی توانائی منڈی میں بے یقینی پیدا کی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

19 اگست کو برینٹ خام تیل 91.62 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 85.83 ڈالر رہی۔

22 اگست کو ایران نے عراقی حکومت کی درخواست پر چند عراقی آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ تہران اب اس اہم سمندری راستے پر تیل کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے کی قابلِ ذکر صلاحیت رکھتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی جنگ امریکی انتخابات سے جڑ جاتی ہے۔

عام امریکی شہری شاید جوہری مذاکرات کی پیچیدہ تفصیلات نہ جانتا ہو، لیکن اسے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس کی گاڑی میں ایندھن کتنے میں بھر رہا ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ ایک عام امریکی کو فی گیلن ایک ڈالر سے زیادہ اضافی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

اوورسیز پوسٹ کے ساتھ جڑے رہیں

دنیا، خلیج اور پاکستانی تارکینِ وطن سے متعلق اہم خبریں اور خصوصی رپورٹس۔

یہاں تک کہ ٹرمپ خود امریکی عوام سے کہہ چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے کچھ مدت تک مہنگا پٹرول برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔

سیاسی اعتبار سے یہی جملہ سب سے اہم ہے۔

ایران کی جنگ اب ہزاروں کلومیٹر دور مشرق وسطیٰ کا تنازع نہیں رہی۔

یہ امریکا کے پٹرول پمپ تک پہنچ چکی ہے۔

33 فیصد.. ری پبلکنز کے لیے خطرے کی گھنٹی

رائٹرز کے تازہ سروے میں ٹرمپ کی کارکردگی کو منظور کرنے والے امریکیوں کی شرح صرف 33 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 64 فیصد ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔

یہ ان کی موجودہ مدتِ صدارت میں کم ترین سطح ہے۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ 80 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

یہی رجحان وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی مشکل پیدا کررہا ہے۔

03
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
یہ کیوں اہم ہے؟

ایران کا بحران باقی خارجہ تنازعات سے مختلف ہے کیونکہ اس کا اثر تیل کے ذریعے براہِ راست امریکی شہری کی جیب تک پہنچتا ہے۔ ہرمز میں رکاوٹ تیل مہنگا کرتی ہے، مہنگا تیل پٹرول اور نقل و حمل کی لاگت بڑھاتا ہے، اور یہی مسئلہ نومبر میں ووٹر کے فیصلے کو متاثر کرسکتا ہے۔

ایران → ہرمز → مہنگا تیل → مہنگا پٹرول → ووٹر کا غصہ → کانگریس کا خطرہ
overseaspost.net

ٹرمپ کو صرف ڈیموکریٹس کی مخالفت کا سامنا نہیں، بلکہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد کو بھی جنگ کا اختتام دکھائی نہیں دے رہا۔

جنگ جتنی طویل ہوگی، اتنا ہی ایک بنیادی سوال زیادہ شدت اختیار کرے گا:

یہ جنگ آخر ختم کب ہوگی؟

اور اگر وائٹ ہاؤس اس کا قابلِ اعتماد جواب نہ دے سکا تو دوسرا سوال زیادہ اہم ہوجائے گا:

اس جنگ کے ختم ہونے تک امریکی شہری کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟

معیشت بھی ہاتھ سے نکل رہی ہے؟

برسوں سے معیشت ری پبلکن پارٹی کی سب سے مضبوط انتخابی طاقت سمجھی جاتی رہی ہے۔

لیکن اگست کے آغاز میں کئے گئے رائٹرز سروے نے غیر معمولی تبدیلی دکھائی۔

37 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ معیشت چلانے کے معاملے میں ڈیموکریٹس کی پالیسی بہتر ہے، جبکہ 36 فیصد نے ری پبلکنز پر اعتماد کا اظہار کیا۔

فرق صرف ایک فیصد ہے، لیکن تقریباً ایک دہائی میں پہلی بار ڈیموکریٹس نے اس معاملے میں برتری حاصل کی ہے۔

کانگریس کے لیے ووٹنگ کے سوال پر بھی صورتحال ری پبلکنز کے لیے تشویش ناک ہے۔

42 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹ امیدوار کو ووٹ دیں گے، جبکہ 37 فیصد نے ری پبلکن امیدوار کی حمایت کی۔

آزاد ووٹرز میں ڈیموکریٹس کو تقریباً 12 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیموکریٹس نے کانگریس جیت لی ہے۔

04
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
کیا چیز فیصلہ بدل سکتی ہے؟
  • ایران سے معاہدہ: نومبر سے پہلے کوئی واضح پیش رفت ٹرمپ کو سیاسی فائدہ دے سکتی ہے۔
  • ہرمز میں بہتری: بحری آمدورفت معمول پر آنے سے تیل اور پٹرول کی قیمتوں کا دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
  • قیمتیں مزید بڑھیں: مہنگا ایندھن ری پبلکن امیدواروں کے لیے مشکل پیدا کرسکتا ہے، خاص طور پر سخت مقابلے والے حلقوں میں۔
  • غزہ یا یوکرین میں بریک تھرو: کسی دوسرے بڑے محاذ پر سفارتی کامیابی وائٹ ہاؤس کو بیانیہ بدلنے کا موقع دے سکتی ہے۔
overseaspost.net

امریکی انتخابات قومی سطح کے ایک سروے سے طے نہیں ہوتے۔ ایوان نمائندگان کی 435 نشستیں الگ الگ حلقوں میں لڑائی جاتی ہیں اور ان میں سے محدود تعداد ہی حقیقی طور پر سخت مقابلے والی ہوتی ہے۔

لیکن موجودہ رجحان ری پبلکنز کے لیے واضح انتباہ ہے۔

اگر ٹرمپ کی مقبولیت گرتی رہی، ایندھن مہنگا رہا اور ایران کی جنگ طویل ہوگئی تو چند اہم حلقوں کا نتیجہ بھی واشنگٹن میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

مسئلہ صرف پٹرول نہیں

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے کی لاگت نہیں بڑھاتا۔

اس کا اثر نقل و حمل، خوراک، مصنوعات کی ترسیل، کاروباری اخراجات اور بالآخر مہنگائی پر پڑتا ہے۔

امریکی بانڈ مارکیٹ بھی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر ردعمل دے رہی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مہنگی توانائی مہنگائی کو زیادہ عرصے تک بلند رکھ سکتی ہے۔

05
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
ایک منٹ میں پوری بات

ٹرمپ ایران کو اپنی دوسری مدتِ صدارت کی بڑی خارجہ پالیسی کامیابی بنانا چاہتے تھے، مگر جنگ طویل ہونے، آبنائے ہرمز کی بے یقینی اور امریکی پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے یہی مسئلہ ان کے لیے انتخابی خطرہ بنا دیا ہے۔ ٹرمپ کی منظوری 33 فیصد تک گر چکی ہے اور کانگریس ووٹ ترجیح میں ڈیموکریٹس آگے ہیں۔ نومبر میں فیصلہ شاید تہران کے میدانِ جنگ سے زیادہ کسی امریکی پٹرول پمپ پر ووٹر کی جیب کرے۔

overseaspost.net

ٹرمپ کے لیے یہی صورتحال زیادہ حساس ہے کیونکہ انہوں نے انتخابی مہم میں امریکیوں سے وعدہ کیا تھا کہ زندگی سستی ہوگی۔

اگر ووٹر یہ محسوس کرنے لگے کہ پٹرول، خوراک اور قرضوں کی لاگت ایک ایسی جنگ کے باعث بڑھ رہی ہے جس کا فیصلہ واشنگٹن نے کیا تھا، تو ٹرمپ کا سب سے مضبوط انتخابی نعرہ ان کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا موقف کیا ہے؟

ٹرمپ انتظامیہ اس پوری تصویر کو مختلف انداز میں پیش کرتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تہران پہلے سے زیادہ کمزور ہوا ہے اور اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا وقتی اقتصادی مشکلات سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

07
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
نومبر تک 3 ممکنہ منظرنامے
منظرنامہ 1 — ٹرمپ کے حق میں: ایران سے جزوی معاہدہ ہو، ہرمز میں آمدورفت بہتر ہو اور تیل و پٹرول کی قیمتیں نیچے آئیں۔ ایسی صورت میں وائٹ ہاؤس جنگ کو کامیابی کے طور پر پیش کرسکتا ہے۔
منظرنامہ 2 — موجودہ جمود: جنگ جاری رہے مگر کسی بڑے نئے تصادم کے بغیر۔ اس صورت میں مہنگا ایندھن اور کم مقبولیت ری پبلکن امیدواروں پر مسلسل دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
منظرنامہ 3 — بدترین صورت: ہرمز میں نئی کشیدگی یا تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہو۔ اس سے مہنگائی کا خوف بڑھے گا اور سخت مقابلے والے حلقوں میں ری پبلکنز کے لیے خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
overseaspost.net

انتظامیہ یہ بھی کہتی ہے کہ ایران کی تیل برآمدات متاثر ہوئی ہیں، اس کی فوجی صلاحیت کو نقصان پہنچا اور امریکی طاقت کا خوف دوبارہ بحال ہوا ہے۔

یہ موقف مکمل طور پر بے بنیاد نہیں۔

لیکن انتخابات میں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دشمن کو کتنا نقصان پہنچا۔

اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا امریکی ووٹر سمجھتا ہے کہ حاصل ہونے والا نتیجہ اس قیمت کے قابل تھا جو اسے ادا کرنا پڑی؟ 

غزہ اور یوکرین بھی مسئلہ بڑھا رہے ہیں

اگر وائٹ ہاؤس ایران میں فوری کامیابی حاصل نہیں کرسکا تو وہ کسی دوسرے بڑے عالمی بحران میں پیش رفت دکھا کر سیاسی دباؤ کم کرسکتا تھا۔

مگر غزہ اور یوکرین میں بھی ایسی فیصلہ کن کامیابی سامنے نہیں آئی۔

غزہ میں امریکی منصوبے کے اگلے مرحلے پر پیش رفت محدود ہے، جبکہ یوکرین کی جنگ بھی ایسے معاہدے سے دور ہے جسے ٹرمپ اپنی بڑی سفارتی فتح قرار دے سکیں۔

08
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
ری پبلکنز کو کیا بچا سکتا ہے؟
  • ایران سے قابلِ فروخت سیاسی کامیابی: ایسا معاہدہ یا پیش رفت جسے ٹرمپ واضح فتح کے طور پر پیش کرسکیں۔
  • پٹرول کی قیمتوں میں کمی: امریکی ووٹر کی جیب پر فوری دباؤ کم ہونا انتخابی فضا بدل سکتا ہے۔
  • غزہ یا یوکرین میں بریک تھرو: کسی دوسرے بڑے عالمی بحران میں کامیابی خارجہ پالیسی کا بیانیہ بدل سکتی ہے۔
  • معیشت میں بہتری: اگر مہنگائی نرم پڑے اور روزگار مضبوط رہے تو ایران جنگ کا انتخابی نقصان محدود ہوسکتا ہے۔
ری پبلکنز کے لیے اصل ہدف صرف جنگ جیتنا نہیں، بلکہ نومبر سے پہلے ووٹر کو یہ احساس دلانا ہے کہ اس کی زندگی مزید مہنگی نہیں ہورہی۔
overseaspost.net

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ٹرمپ ہر خارجہ پالیسی محاذ پر ناکام ہوئے ہیں، لیکن جن بڑی جنگوں کے خاتمے کو انہوں نے اپنی قیادت سے جوڑا تھا، وہ نومبر کے انتخابات سے پہلے اب بھی جاری ہیں۔ 

کیا ایران ری پبلکنز سے کانگریس چھین سکتا ہے؟

یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ صرف ایران کی جنگ نومبر کے انتخابات کا فیصلہ کرے گی۔

امریکی ووٹر امیگریشن، ٹیکس، اسقاطِ حمل، صحت، جرائم اور مقامی مسائل کو بھی سامنے رکھے گا۔

لیکن ایران کا معاملہ باقی خارجہ بحرانوں سے مختلف ہے۔

یہ براہِ راست تیل کے ذریعے امریکی معیشت تک پہنچتا ہے۔

09
OVERSEAS POST | URDU PACKAGE
کیا ابھی ثابت نہیں ہوا؟
  • یہ کہنا ابھی درست نہیں کہ صرف ایران جنگ ہی نومبر کے انتخابات کا فیصلہ کرے گی۔
  • قومی سروے کانگریس کی ہر نشست کا نتیجہ نہیں بتاتے؛ اصل مقابلہ محدود مگر اہم حلقوں میں ہوگا۔
  • تیل اور پٹرول کی قیمتیں جنگ کے علاوہ عالمی طلب، رسد اور اقتصادی حالات سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔
  • ٹرمپ کی 33 فیصد منظوری ایک اہم سیاسی اشارہ ہے، مگر انتخابی نتیجہ ابھی تبدیل ہوسکتا ہے۔
  • اگر ہرمز میں صورتحال بہتر ہوئی یا معاہدہ ہوگیا تو موجودہ انتخابی دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
یقینی بات یہ ہے کہ ایران جنگ اب خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہی؛ اس کے اقتصادی اثرات امریکی انتخابی سیاست میں داخل ہوچکے ہیں۔
overseaspost.net

ٹرمپ چاہتے تھے کہ وہ انتخابات سے پہلے ایران کے ساتھ کسی معاہدے یا واضح فتح کا اعلان کریں۔

اس کے بجائے وہ انتخابی مرحلے میں ایسی صورتحال کے ساتھ داخل ہورہے ہیں جہاں جنگ جاری ہے، ہرمز غیر یقینی کا شکار ہے، پٹرول مہنگا ہے اور ان کی مقبولیت 33 فیصد تک گر چکی ہے۔

شاید نومبر میں فیصلہ کن سوال یہ نہ ہو کہ ایران کتنا کمزور ہوا۔

اصل سوال یہ ہوسکتا ہے کہ امریکی شہری خود کو کتنا زیادہ مالی دباؤ میں محسوس کررہا ہے۔

کیونکہ بالآخر ایران کی جنگ کی سب سے اہم سیاسی لڑائی شاید تہران یا خلیج کے پانیوں میں نہیں لڑی جائے گی۔

ممکن ہے اس کا فیصلہ کسی امریکی ریاست کے ایک پٹرول پمپ پر ہو، جہاں ووٹر قیمت دیکھے اور پھر سیدھا پولنگ اسٹیشن کی طرف چلا جائے۔