براہ راست نشریات

تیل موجود، جہاز نایاب.. ہرمز میں ٹینکر کرائے 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Strait of Hormuz
ہرمز بحران کے باعث آئل ٹینکروں کے یومیہ کرائے 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئے، خلیجی تیل کی ترسیل اب نئی مہنگی آزمائش بن گئی۔

آبنائے ہرمز کے بحران نے خلیجی تیل کی تجارت میں ایک نئی مشکل پیدا کردی ہے۔ خام تیل موجود ہونے کے باوجود خطرناک علاقے میں داخل ہونے کے لیے تیار آئل ٹینکروں کی قلت بڑھ رہی ہے۔
بعض VLCC ٹینکروں کی یومیہ آمدنی 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر اور بڑے ٹینکر کی قیمت 13 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوگئی ہے، جس سے تیل کی ترسیل خود ایک اسٹریٹجک مسئلہ بنتی جارہی ہے۔

آبنائے ہرمز کا بحران اب صرف اس سوال تک محدود نہیں رہا کہ خلیجی ممالک کتنا تیل پیدا کرسکتے ہیں، بلکہ ایک زیادہ اہم مسئلہ سامنے آگیا ہے: 

ایسے آئل ٹینکر کہاں سے آئیں جو خطرناک علاقے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوں؟ 

بعض بڑے ٹینکروں کی یومیہ آمدنی 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچنے اور ایک بڑے ٹینکر کی قیمت 13 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنے کے بعد، جہاز خود خلیجی تیل کی تجارت کی اہم ترین کڑی بن گیا ہے۔

تیل موجود ہے، خریدار بھی موجود ہیں اور سعودی بندرگاہوں پر خام تیل کی لوڈنگ بتدریج بحال ہورہی ہے، لیکن لاکھوں بیرل تیل کو ایشیائی منڈیوں تک پہنچانے میں غیر معمولی رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول لینے والے جہاز کم ہوگئے ہیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTہرمز اور آئل ٹینکر بحران — اہم نکات
  • بعض VLCC آئل ٹینکروں کی یومیہ آمدنی 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔
  • ایک بڑے آئل ٹینکر کی قیمت 13 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہوگئی ہے۔
  • ایک VLCC تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جاسکتا ہے۔
  • 19 اگست کو صرف 9 تجارتی کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
  • آرامکو نے رأس تنورہ اور الجعیمہ سے لوڈنگ بحال کی، مگر جہازوں کی قلت نئی رکاوٹ بن رہی ہے۔
  • اصل سوال: تیل موجود ہے، مگر اسے لے جانے والا جہاز کہاں ہے؟
overseaspost.net

فنانشل ٹائمز کے مطابق بعض بڑے آئل ٹینکروں کی قیمت 13 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے، جو 2008 کے بعد بلند ترین سطحوں میں شامل ہے، جبکہ زیادہ خطرے والے روٹس پر کام کرنے والے بعض VLCC ٹینکروں کی یومیہ آمدنی تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ٹینکر اب صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا اسٹریٹجک اثاثہ بن گیا ہے جو یہ طے کرسکتا ہے کہ کون اپنا تیل آسانی سے برآمد کرسکتا ہے اور کس کو انتظار یا اضافی رعایت دینا پڑے گی۔

جہاز نایاب کیوں ہوگئے؟

ایک VLCC ٹینکر عام طور پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جاسکتا ہے۔

معمول کے حالات میں جہاز کا انتظام کرائے، فاصلے اور دستیابی پر منحصر ہوتا ہے، مگر اب فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ جہاز کا مالک ہرمز میں داخل ہونے کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔

خلیج میں داخل ہونے کا مطلب حملے، سفر میں تاخیر، راستہ تبدیل ہونے، مہنگی انشورنس اور عملے کی سلامتی جیسے خطرات قبول کرنا ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

اسی لیے کئی جہاز مالکان نے علاقے سے دور رہنے کو ترجیح دی ہے۔

جو کمپنیاں سفر پر آمادہ ہیں، وہ اضافی خطرے کے بدلے بہت زیادہ کرایہ طلب کرسکتی ہیں۔

یوں جغرافیائی سیاسی خطرہ براہ راست مالی لاگت میں تبدیل ہورہا ہے۔

جتنے کم جہاز دستیاب ہوں گے، کرائے اتنے زیادہ ہوں گے اور خلیج سے ایشیا پہنچنے والا ہر بیرل مزید مہنگا ہوگا۔

ہرمز اب بھی معمول سے دور

Kpler کے مطابق بدھ 19 اگست کو صرف 9 تجارتی کارگو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز پہلے بھی تقریباً اتنی ہی تعداد ریکارڈ ہوئی۔

ممکن ہے ان اعداد میں ایسے تمام جہاز شامل نہ ہوں جو سفر کے دوران ٹریکنگ سسٹم بند کردیتے ہیں، تاہم مجموعی صورتحال واضح ہے: 

ہرمز کی تجارتی سرگرمی اب بھی جنگ سے پہلے کے معمول سے بہت نیچے ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXآئل ٹینکر بحران: فیکٹ باکس
VLCC یومیہ آمدنی
تقریباً 550,000 ڈالر
بڑے ٹینکر کی قیمت
130 ملین ڈالر سے زیادہ
VLCC گنجائش
تقریباً 20 لاکھ بیرل
ہرمز عبور
19 اگست کو 9 تجارتی جہاز
سعودی لوڈنگ
رأس تنورہ، الجعیمہ
متبادل راستہ
ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن → ینبع
بڑا خطرہ
جہازوں کی قلت، مہنگی انشورنس، طویل راستے اور بلند فریٹ لاگت
مرکزی نتیجہ
ٹینکر بیڑا توانائی سلامتی کا اسٹریٹجک اثاثہ بنتا جارہا ہے
overseaspost.net

دوسری طرف باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی 32 سے گھٹ کر 27 ہوگئی۔

اس طرح خلیجی تیل کو بیک وقت دو اہم راستوں پر دباؤ کا سامنا ہے: 

مشرق میں ہرمز اور مغرب میں باب المندب۔

آرامکو کے پاس راستے ہیں، مگر قیمت بھی ہے

سعودی عرب بعض دوسرے خلیجی ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ وہ مکمل طور پر آبنائے ہرمز پر منحصر نہیں۔

مملکت کے پاس ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن موجود ہے، جس کے ذریعے مشرقی علاقوں سے تیل بحیرۂ احمر کے ساحل پر ینبع تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر مصر کے راستے سیدی کریر تک رسائی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

لیکن متبادل راستے زیادہ طویل اور مہنگے ہیں۔

آرامکو نے رأس تنورہ اور الجعیمہ سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے۔ 12 سے 16 اگست کے درمیان تین VLCC ٹینکروں پر تقریباً 60 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لادا گیا جبکہ مزید جہاز لوڈنگ کے منتظر ہیں۔

کمپنی نے ایشیائی خریداروں کو Arab Medium اور Arab Heavy خام تیل بھی پیش کیا ہے، جس میں فجیرہ کے قریب ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرنے جیسے انتظامات شامل ہیں۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

تاہم اگست کے دوران سیدی کریر سے صرف تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ لوڈ ہونے کی توقع ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متبادل راستے ہرمز کا مکمل نعم البدل نہیں۔

اصل مسئلہ اب تیل نکالنے سے بڑھ کر صحیح وقت پر مناسب جہاز کی دستیابی بن چکا ہے۔

جس کے پاس جہاز نہیں، اسے قیمت دینا ہوگی

جن ممالک اور کمپنیوں کے پاس مضبوط بحری بیڑے ہیں وہ اپنی برآمدات پر زیادہ کنٹرول رکھ سکتے ہیں، جبکہ دوسروں کو اسپاٹ مارکیٹ کے بلند کرایوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عراق اس کی ایک مثال ہے۔

رپورٹس کے مطابق محدود بحری صلاحیت رکھنے والے بعض تیل پیدا کرنے والوں کو ایسے خریداروں کو زیادہ رعایت دینا پڑرہی ہے جو اضافی شپنگ رسک قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔

دوسری جانب خلیجی کمپنیاں اپنی بحری صلاحیت بڑھارہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی ادنوک نے تقریباً 1.3 ارب ڈالر نئے جہاز خریدنے اور اپنے بحری بیڑے کو وسعت دینے پر خرچ کئے ہیں، جبکہ خطے کی بعض کمپنیاں جہاز سے جہاز پر تیل منتقل کرکے خطرناک علاقوں میں براہ راست رسک کم کررہی ہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ بحران کیوں اہم ہے؟

آئل ٹینکر بحران تین سطحوں پر اہم ہے:

ترسیل کی طاقتخام تیل پیدا کرنا کافی نہیں؛ اسے خریدار تک پہنچانے کے لیے قابلِ اعتماد جہاز بھی ضروری ہیں۔
فریٹ اور انشورنسکم جہاز، زیادہ خطرہ اور مہنگی انشورنس ہر بیرل کی آخری لاگت بڑھا سکتے ہیں۔
توانائی سلامتیپائپ لائنوں اور بندرگاہوں کے ساتھ اب مضبوط ٹینکر بیڑا بھی اسٹریٹجک ضرورت بنتا جارہا ہے۔
اصل اہمیت: ہرمز بحران نے ثابت کردیا ہے کہ تیل کی طاقت صرف پیداوار میں نہیں، بلکہ محفوظ راستے اور دستیاب جہاز میں بھی ہے۔
overseaspost.net

مارکیٹ کا پیغام واضح ہے:

صرف تیل کا مالک ہونا کافی نہیں، اسے خریدار تک پہنچانے کی صلاحیت بھی اپنے اختیار میں ہونی چاہئے۔

سعودی عرب کے لیے نیا اسٹریٹجک سوال

سعودی عرب کے پاس آرامکو، البحری اور وسیع لاجسٹک نیٹ ورک موجود ہے، لیکن بحران طویل ہونے کی صورت میں آئل ٹینکرز توانائی سلامتی کا مزید اہم حصہ بن سکتے ہیں۔

ماضی میں سوال یہ تھا کہ سعودی عرب کے پاس کتنی اضافی پیداواری صلاحیت ہے اور کتنا تیل ہرمز کو بائی پاس کرکے برآمد کیا جاسکتا ہے۔

اب اس میں ایک نیا سوال شامل ہوگیا ہے:

اگر دوسرے جہاز مالکان خلیج میں داخل ہونے سے گریز کریں تو سعودی عرب کتنے ٹینکروں کی دستیابی یقینی بنا سکتا ہے؟

کیونکہ ایسا بیرل جسے منتقل کرنے کے لیے جہاز نہ ملے، خریدار تک نہیں پہنچ سکتا، چاہے پیداواری صلاحیت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا واضح ہے، کہاں احتیاط ضروری ہے؟

مصدقہ معلومات

  • بعض VLCC ٹینکروں کی یومیہ آمدنی تقریباً 550 ہزار ڈالر تک پہنچی ہے۔
  • بڑے ٹینکروں کی قیمت 130 ملین ڈالر سے اوپر گئی ہے۔
  • ہرمز کی تجارتی سرگرمی جنگ سے پہلے کے معمول سے نمایاں طور پر کم ہے۔
  • آرامکو نے مشرقی سعودی بندرگاہوں سے تیل کی لوڈنگ بحال کی ہے۔
  • متبادل راستے دستیاب ہیں، مگر ان کی لاگت اور سفر کا دورانیہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

ادارتی احتیاط

  • ہر VLCC کو 550 ہزار ڈالر یومیہ نہیں مل رہا؛ یہ مخصوص بلند خطرے والی مارکیٹ شرح ہے۔
  • جہازوں کی قیمت عمر، حالت، سائز اور مارکیٹ کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔
  • ٹریکنگ سسٹم بند رکھنے والی کچھ جہاز رانی دستیاب ڈیٹا میں نظر نہیں آ سکتی۔
  • تیل، فریٹ اور انشورنس کے اعداد تیزی سے بدل سکتے ہیں؛ اشاعت کے وقت تازہ عدد چیک کیا جائے۔
overseaspost.net

تیل 92 ڈالر کے قریب

جمعرات 20 اگست 2026 کو برینٹ خام تیل تقریباً 91.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 86 ڈالر کے قریب رہا۔

یہ مسلسل پانچویں سیشن میں اضافہ تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت ہوا جب امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 44 لاکھ بیرل اضافہ ہوا۔

عام حالات میں ذخائر میں اضافہ قیمتوں پر دباؤ ڈالتا، لیکن اس وقت مارکیٹ مشرق وسطیٰ اور ہرمز سے متعلق خطرات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔

اب بحران تیل کا نہیں، ترسیل کا بھی ہے

ہرمز بحران کا اصل خطرہ یہ نہیں کہ خلیجی تیل اچانک ختم ہوجائے گا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ تیل بندرگاہوں اور ذخیرہ گاہوں میں موجود رہے، لیکن اسے عالمی منڈی تک پہنچانے کی لاگت مسلسل بڑھتی جائے۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

ہرمز میں خطرات کے باعث کئی جہاز مالکان خلیج میں داخل ہونے سے گریز کررہے ہیں، جس سے بعض VLCC ٹینکروں کی یومیہ آمدنی 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

سعودی عرب کے پاس ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن، ینبع اور مضبوط لاجسٹک نیٹ ورک موجود ہے، مگر متبادل راستے زیادہ طویل اور مہنگے ہوسکتے ہیں۔

اصل تبدیلی یہ ہے کہ تیل کی تجارت میں اب صرف برآمدی صلاحیت نہیں، بلکہ جہاز کی دستیابی بھی طاقت بن گئی ہے۔ جس کے پاس تیل، محفوظ راستہ اور ٹینکر تینوں ہوں، برتری اسی کے پاس ہوگی۔

overseaspost.net

اگر ٹینکروں کے کرائے لاکھوں ڈالر یومیہ پر برقرار رہے تو خلیجی ممالک کو اپنے بحری بیڑے، متبادل بندرگاہوں، پائپ لائنوں اور طویل مدتی شپنگ معاہدوں پر مزید سرمایہ کاری کرنا پڑسکتی ہے۔

اس بحران کا اقتصادی سبق واضح ہے:

نئی تیل منڈی میں طاقت صرف اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ کوئی ملک کتنے بیرل پیدا کرسکتا ہے، بلکہ اس سے بھی کہ وہ کتنے بیرل خریدار تک پہنچا سکتا ہے۔

جس کے پاس صرف تیل ہے، اسے راستے کا انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔

لیکن جس کے پاس تیل، محفوظ راستہ اور اسے لے جانے والا جہاز تینوں ہوں، توانائی منڈی میں اصل برتری اسی کے پاس ہوگی۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net