بین الاقوامی ادارے ’اقوام متحدہ‘ کی 80 سالہ تاریخ ایک دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔
مزید پڑھیں
دنیا کے سب سے بڑے عالمی ادارے کی اگلی قیادت کے لیے 8 امیدوار میدان میں ہیں، لیکن اس بار مقابلہ صرف شخصیات کا نہیں۔ خطے، جنس اور 5 بڑی طاقتوں کی پسند بھی فیصلہ کن ہوگی۔
موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری 5 سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ ان کی جگہ لینے کے لیے 3 مرد اور 5 خواتین امیدوار سامنے آ چکے ہیں۔
🌐
اقوام متحدہ کی سب سے بڑی کرسی کس کے نام؟
+
اقوام متحدہ کی سب سے بڑی کرسی کس کے نام؟
انتونیو گوتریس کی مدت مکمل ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی قیادت کے لیے 8 امیدوار میدان میں ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں خطے کی روایتی باری اور ویٹو پاورز کے مفادات اس اہم تقرری کا رخ متعین کریں گے۔
ریبیکا گرینسپین — ابتدائی برتری
کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور انکٹاڈ (UNCTAD) کی سربراہ پہلے غیر رسمی خفیہ پول میں سب سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
رافیل گروسی — بین الاقوامی شناخت
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ کے طور پر حساس عالمی بحرانوں سے نمٹنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، جس سے ان کی پوزیشن کافی نمایاں ہے۔
کیرولین روڈریگز — کیریبین نمائندگی
گیانا کی سابق وزیر خارجہ ترقی پذیر اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کے تحفظات کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی ہیں۔
افریقی و لاطینی امریکی متبادل
مشیل باشلے، ماریا فرنانڈا ایسپینوسا، ایوون عبدالباقی، میکی سال اور اولارا اوتونو بھی ڈیڈلاک کی صورت میں ممکنہ توازن قائم کر سکتے ہیں۔
پہلی خاتون سیکریٹری جنرل؟
اس انتخاب کی سب سے دلچسپ بات خواتین امیدواروں کی مضبوط موجودگی ہے۔
اقوام متحدہ کے قیام سے آج تک کوئی خاتون سیکریٹری جنرل نہیں بنی، مگر اس مرتبہ کئی ممالک پہلی خاتون سربراہ کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔
30 جولائی کی پہلی غیر رسمی ووٹنگ میں کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی کی سربراہ ریبیکا گرینسپین سب سے زیادہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
ان کے نمایاں حریفوں میں گیانا کی سابق وزیر خارجہ کیرولین روڈریگز برکیٹ اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ارجنٹائنی سربراہ رافیل گروسی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کی 80 سالہ تاریخ میں پہلی بار خواتین امیدواروں کی اکثریت سامنے آئی ہے، جہاں لاطینی امریکا کی نمائندگی اور سلامتی کونسل کا ویٹو اختیار فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔
تاریخ میں پہلی بار 8 میں سے 5 امیدوار خواتین ہیں، جن میں ریبیکا گرینسپین ابتدائی غیر رسمی رائے شماری میں سرفہرست رہیں۔
کامیابی کے لیے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت ضروری ہے جبکہ کسی ایک مستقل رکن کا ویٹو بھی نام مسترد کر سکتا ہے۔
غیر رسمی علاقائی روٹیشن کے تحت لاطینی امریکا کو مضبوط دعوے دار مانا جا رہا ہے، جس سے ادارے کو پہلی بار دوہرا سنگ میل مل سکتا ہے۔
نئی قیادت کو فنڈنگ میں کمی، عالمی طاقتوں کے اختلافات اور انسانی امدادی مشنز کے دباؤ جیسے سنگین بحرانوں کا سامنا ہوگا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
8 نام: بازی کس کے ہاتھ؟
دیگر امیدواروں میں چلی کی مشیل باشلے، ایکواڈور کی ماریا فرنانڈا ایسپینوسا، لبنانی نژاد ایکواڈور کی سفارت کار ایوون عبدالباقی، یوگنڈا کے اولارا اوتونو اور سینیگال کے میکی سال شامل ہیں۔
گروسی عالمی سطح پر شاید سب سے معروف امیدوار ہیں، لیکن مبصرین کے مطابق ابھی کسی کو واضح برتری حاصل نہیں۔ روس نے تو یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید امیدوار سامنے آ سکتے ہیں۔
پہلی خاتون سیکریٹری جنرل؟ کیا تاریخ بدلے گی؟
▼
پہلی خاتون سیکریٹری جنرل؟ کیا تاریخ بدلے گی؟
🏛️ 80 سالہ روایتی تسلسل کا چیلنج
اقوام متحدہ کے قیام سے لے کر اب تک تمام 9 سیکریٹری جنرل مرد رہے ہیں۔ عالمی برادری کی بڑی اکثریت کا مؤقف ہے کہ اب ادارے کی قیادت خاتون کے سپرد کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
🗳️ 5 خواتین امیدواروں کی مضبوط موجودگی
میدان میں موجود 8 امیدواروں میں سے 5 خواتین ہیں جن کے پاس بین الاقوامی سفارت کاری اور وزارتی سطح کا ٹھوس تجربہ موجود ہے، جس سے اس بار امکانات خاصے روشن دکھائی دیتے ہیں۔
تاریخی موڑ: اگر لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والی کوئی خاتون امیدوار منتخب ہوتی ہے تو اقوام متحدہ بیک وقت جغرافیائی باری اور صنفی برابری کا نیا سنگِ میل عبور کر لے گی۔
اصل مقابلہ بند کمرے میں
واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے 15 ارکان، امیدواروں کے بارے میں خفیہ طور پر ’حوصلہ افزائی‘، ’حوصلہ افزائی نہ کرنا‘ یا ’کوئی رائے نہیں‘ کا انتخاب کرتے ہیں۔
اس کے بعد اصل مشکل شروع ہوتی ہے۔
کامیاب امیدوار کو کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، مگر امریکا، چین، روس، فرانس اور برطانیہ میں سے کسی ایک کا ویٹو بھی اس کا راستہ روک سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ عالمی کشیدگی میں اگلے سیکریٹری جنرل کا انتخاب محض ووٹوں کا کھیل نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان پیچیدہ سفارت کاری بھی ہے۔
🗳️
15 ووٹ، 5 ویٹو: اصل کھیل کیا ہوگا؟
انتخابی طریقہ کار
15 ووٹ، 5 ویٹو: اصل کھیل کیا ہوگا؟
خفیہ اسٹرا پولز
سلامتی کونسل کے 15 ارکان خفیہ طور پر حمایت، مخالفت یا غیر جانبداری ظاہر کر کے کمزور امیدواروں کو باہر کرتے ہیں۔
9 ووٹوں کی لازمی حد
امیدوار کو کونسل کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ارکان کی باضابطہ تائید حاصل کرنا ضروری ہے۔
ویٹو کا سرخ کارڈ
9 یا اس سے زائد ووٹ ہونے کے باوجود مستقل 5 ارکان میں سے کسی ایک کا ویٹو نامزدگی کو فوراً ختم کر سکتا ہے۔
فیصلہ کن حقیقت: جنرل اسمبلی صرف کونسل کی سفارش کی توثیق کرتی ہے، اس لیے اصل فیصلہ بند کمرے کے سفارتی سودے بازی اور پی فائیو ممالک کے باہمی اتفاق پر منحصر ہے۔
لاطینی امریکا کی باری؟
اقوام متحدہ میں سیکریٹری جنرل کے منصب کے لیے مختلف جغرافیائی خطوں کو موقع دینے کی ایک غیر رسمی روایت موجود ہے۔ اسی بنیاد پر اس بار لاطینی امریکا کے امیدوار کو مضبوط دعوے دار سمجھا جا رہا ہے۔
اگر کوئی خاتون لاطینی امریکی امیدوار 5 مستقل طاقتوں کو قابل قبول ہوجاتی ہے تو اقوام متحدہ بیک وقت 2 تاریخی سنگ میل عبور کر سکتی ہے۔
⚖️
امریکہ، چین یا روس: فیصلہ کس کے پاس؟
◀
امریکہ، چین یا روس: فیصلہ کس کے پاس؟
امریکی مفادات اور فنڈنگ کا توازن
واشنگٹن ایسا غیر جانبدار امیدوار چاہے گا جو اقوام متحدہ کے بجٹ اور انتظامی اصلاحات پر کام کر سکے اور امریکی پالیسیوں سے براہِ راست متصادم نہ ہو۔
روس اور چین کا اسٹریٹجک بلاک
ماسکو اور بیجنگ مغربی اثر و رسوخ سے پاک، گلوبل ساؤتھ کے حقوق کی وکالت کرنے والے ایسے امیدوار کی حمایت کریں گے جو کثیر قطبی نظام کو قبول کرے۔
حتمی تجزیہ: موجودہ شدید جغرافیائی کشیدگی میں کوئی بھی انتہا پسند شخصیت منتخب نہیں ہو سکتی؛ صرف وہی متفقہ امیدوار بازی جیتے گا جو واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو تینوں کے لیے قابلِ قبول سمجھوتہ بن سکے۔
نئے سربراہ کو مشکل ادارہ ملے گا
تجزیہ کاروں کے مطابق جو بھی گوتریس کی جگہ لے گا، اسے آسان حالات نہیں ملیں گے، کیونکہ سلامتی کونسل تقسیم کا شکار ہے، کثیرالجہتی تعاون دباؤ میں ہے اور اقوام متحدہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے۔
اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی ادارے کے کردار اور فنڈنگ پر مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ بجٹ میں کمی انسانی امداد اور امن مشنز کو متاثر کرنے کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔
اس طرح اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اقوام متحدہ کا اگلا سیکریٹری جنرل کون ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا نئی قیادت ایک منقسم دنیا میں اس ادارے کا اثر دوبارہ بڑھا سکے گی؟