اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

سعودی عرب، اقوامِ متحدہ کی سائنس و ٹیکنالوجی کمیٹی کا رکن منتخب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی بینکاری قرضے
سرکاری و نجی شعبے کو دیے گئے بینک قرضوں میں 9.6 فیصد سالانہ اضافہ

اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل ECOSOC نے سعودی عرب کو سائنس اور ٹیکنالوجی کو ترقی کے مقاصد کے لیے بروئے کار لانے کی کمیٹی CSTD کے لیے 2027 سے 2030 تک کے لیے رکنیت دے دی ہے۔

عالمی کمیٹی کی رکنت سے سعودی عرب کی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق عالمی پالیسیوں اور رجحانات کی تشکیل میں اس کے قائدانہ کردار کو مزید تقویت ملے گی۔

مزید پڑھیں

مواصلات، خلائی و ٹیکنالوجی کمیشن نے کہا ہے کہ یہ انتخاب ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ڈیٹا گورننس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی امور پر سعودی عرب کے فعال کردار کی عکاسی کرتا ہے، اور تکنیکی شعبوں میں اس کی پیش رفت اور پائیدار ترقیاتی اہداف کی حمایت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ 

مملکت کی یہ رکنیت عالمی معلوماتی معاشرے سے متعلق سربراہی 

اجلاس WSIS اور عالمی ڈیجیٹل معاہدے GDC کے نتائج پر عمل درآمد کی نگرانی کے ساتھ ساتھ متعلقہ بین الاقوامی سفارشات کی تیاری میں بھی کردار ادا کرے گی، تاکہ انہیں منظوری کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا جا سکے۔

رکنیت کی مدت 2027 سے 2030
تک ہوگی

اتھارٹی نے مزید بتایا کہ یہ کامیابی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے حاصل ہوئی، جس سے اقوام متحدہ کے نظام میں، خصوصاً مواصلات، ٹیکنالوجی اور خلائی شعبوں میں، سعودی عرب کے ایک مؤثر عالمی شراکت دار کے کردار کو مزید مضبوطی ملے گی۔
یہ رکنیت رکن ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تجربات کے تبادلے میں بھی معاون ثابت ہوگی اور ایک پائیدار ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل اور عالمی قیادت کے حصول میں مملکت کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرے گی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب نے 2022 میں اس کمیٹی کے 25 ویں اجلاس کی صدارت بھی کی تھی، جس کی نمائندگی مواصلات، خلائی و ٹیکنالوجی کمیشن نے کی، جو ڈیجیٹل شعبوں میں مملکت کے عالمی مقام اور اس کے قائدانہ کردار پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

واضح رہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی برائے ترقی کمیٹی CSTD، جو 1992 میں قائم کی گئی تھی اور جس میں 43 ممالک شامل ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اقتصادی و سماجی کونسل کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور ان کے ترقی پر اثرات سے متعلق بنیادی مشاورتی ادارہ سمجھی جاتی ہے۔ 

یہ کمیٹی سفارشات، رہنما اصولوں اور ترقی پذیر ممالک کی ترقی کے لیے پالیسیوں کی تیاری کی ذمہ دار بھی ہے جبکہ عالمی معلوماتی معاشرے کے سربراہی اجلاس اور عالمی ڈیجیٹل معاہدے کے نتائج پر عمل درآمد کا باقاعدہ جائزہ بھی لیتی ہے۔