غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے زندگی کے معمولات کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔
مزید پڑھیں
فلسطین کے اس جنگ زدہ محصور علاقے میں یونیورسٹی کی ڈگریاں اور پیشہ ورانہ مہارتیں روزگار کی ضمانت نہیں رہیں۔
تعلیمی اداروں کی بندش اور صنعتی تباہی نے ہزاروں گریجویٹس اور ہنرمندوں کو بقا کی خاطر نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
مقامی سطح پر سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق روزگار کے مواقع ختم ہونے اور اداروں کے غیر فعال ہونے کے بعد نوجوانوں نے چھوٹی
دکانوں اور عارضی نوعیت کی ورکشاپس کا سہارا لیا ہے۔
یہ لوگ بدترین معاشی و انسانی بحران کے درمیان بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی جدوجہد میں ہیں۔
ملٹی میڈیا کے گریجویٹ محمود ابو غنیمہ کا کہنا ہے کہ جنگ نے ان کے خوابوں کو ادھورا چھوڑ دیا ہے، کیونکہ بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی نے ڈیجیٹل کام کے مواقع ختم کر دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر صابن اور صفائی کا سامان فروخت کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے ہیں۔
نرسنگ کے شعبے سے وابستہ عبد الہادی زقزوق روزانہ زوائدہ سے غزہ شہر کا سفر کرتے ہیں تاکہ کپڑوں کی ایک چھوٹی سی دکان چلا سکیں۔
غزہ جنگ: تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کا بحران
یونیورسٹی ڈگریاں اور پیشہ ورانہ مہارتیں اب روزگار کی ضمانت نہ رہیں
ڈیجیٹل مواقع (بجلی و انٹرنیٹ کی عدم دستیابی)
حسین الکفرانہ کے زیر کفالت افراد (ایندھن فروخت کرنے پر مجبور)
بقا کی خاطر متبادل ذرائع معاش کی حقیقی مثالیں
محمود ابو غنیمہ (ملٹی میڈیا گریجویٹ): انٹرنیٹ اور بجلی غائب ہونے کے بعد اب صابن اور صفائی کا سامان بیچنے پر مجبور ہیں۔
عبد الہادی زقزوق (نرسنگ پروفیشنل): ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی بدحالی کے باعث کپڑوں کی چھوٹی دکان چلانے پر مجبور۔
خالد ابو العطا (درزی): تباہ شدہ کارخانے کے بعد کار کی بیٹری اور 12 وولٹ کی موٹر سے سلائی مشین چلا کر بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
بنیادی چیلنجز: مسلسل نقل مکانی، خام مال کی شدید قلت، اور تجارتی و تعلیمی اداروں کی مکمل بندش۔
by: overseaspost.net
انہوں نے کہا کہ یہ کام ان کا خواب نہیں تھا، لیکن خاندان کی کفالت کے لیے اب یہی واحد ذریعہ معاش بچا ہے۔
اکاؤنٹنگ کے گریجویٹ حسین الکفرانہ کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں ہے، جو اب لکڑی اور ایندھن بیچ کر اپنے 6 رکنی خاندان کا خرچ اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنیوں اور اداروں کی بندش کے بعد ان کے پاس اپنی تعلیمی قابلیت سے ہٹ کر کوئی بھی کام کرنے کے سوا چارہ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ غزہ میں صرف تعلیم یافتہ نوجوان ہی نہیں بلکہ ہنرمند افراد بھی شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔
ورکشاپس اور فیکٹریوں کی تباہی کے بعد انہوں نے محدود وسائل کے ساتھ کام جاری رکھنے کے لیے دیسی طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔
ایک مقامی تندور کے مالک نے لکڑی اور ایندھن کا استعمال کر کے عارضی چھپر میں روٹی اور پیسٹری بنانا شروع کی ہے۔
ایک اور مثال درزی خالد ابو العطا کی ہے، جنہوں نے اپنے تباہ شدہ کارخانے کے بعد سلائی مشین کو چلانے کے لیے ایک انوکھا طریقہ نکالا ہے۔
انہوں نے پہلے اسے ہاتھ سے چلایا اور پھر کار کی بیٹری اور 12 وولٹ کی چھوٹی موٹر کی مدد سے اسے خودکار بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
ان تمام افراد کو بجلی کی کمی، خام مال کی قلت اور بار بار نقل مکانی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ کہانیاں غزہ کے ان ہزاروں فلسطینیوں کی عکاسی کرتی ہیں جنہوں نے جنگ کی تباہ کاریوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنی بقا کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔