براہ راست نشریات

امریکہ فرسٹ، تیل تنصیبات اور مشرقِ وسطیٰ کی دلدل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Oil Facilities
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات امریکی داخلی سیاست، وسط مدتی انتخابات، خلیجی سلامتی اور عالمی تیل منڈی تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔
کالم نگار کے مطابق اگر جنگ کا دائرہ تیل تنصیبات تک پہنچا تو اس کے نتائج پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔

امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی جس دلدل میں دھنس چکا ہے، یا دھنسایا جا چکا ہے، اس کے اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ 

ایک طرف امریکہ کو اس جنگ سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دے رہا تو دوسری جانب زیادہ خطرناک حقیقت یہ ہے کہ امریکی افواج، بالخصوص بحریہ، اس جنگ میں مزید گہرائی تک اترنے کے لیے زیادہ رضامند دکھائی نہیں دیتیں۔

امریکی بحریہ کے وہ خوفناک جنگی جہاز، جن کے نام سے کبھی اقوامِ عالم پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا، آج ایران کے سامنے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ 

آبنائے ہرمز سے خاصا فاصلے پر ہونے کے باوجود ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا خطرہ ان کے لیے مستقل تشویش بنا ہوا ہے۔ 

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • کالم کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل اور پیچیدہ جنگی دباؤ میں پھنستا جا رہا ہے۔
  • ایران کے ساتھ کشیدگی کو امریکی داخلی سیاست اور وسط مدتی انتخابات سے جوڑا گیا ہے۔
  • تیل تنصیبات کو ممکنہ ہدف بنائے جانے کو جنگ کے سب سے خطرناک اگلے مرحلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
  • ایرانی عسکری حکمتِ عملی کے دفاعی سے زیادہ جارحانہ رخ اختیار کرنے کے امکان پر زور دیا گیا ہے۔
overseaspost.net

دوسری طرف امریکی فضائی طاقت، جو کبھی امریکہ کا غرور اور اس کی عسکری برتری کی علامت سمجھی جاتی تھی، اس جنگ میں شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں

اس تمام صورتِ حال کے باوجود امریکہ ایک طرف ایران کے ساتھ میدانِ جنگ میں الجھا ہوا ہے اور دوسری جانب اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے داخلی سیاسی بھونچال سے بھی نبرد آزما ہے۔ 

بظاہر واشنگٹن کے پاس نہ جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح لائحہ عمل ہے اور نہ اندرونی سیاسی مشکلات سے نکلنے کی کوئی آسان راہ۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ کے دوران مسلسل اپنی 

برتری ثابت کرنے کی کوشش کی اور متعدد مواقع پر ایسے دعوے کئے جنہیں ان کے مخالفین اور امریکی میڈیا نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSیہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

اگر امریکہ اور ایران کی جنگ توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پھیلتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج عالمی تیل تجارت کا اہم مرکز ہے، اس لیے کسی بڑی رکاوٹ کا اثر قیمتوں، شپنگ، انشورنس اور عالمی مہنگائی تک پہنچ سکتا ہے۔

اصل خطرہ: جنگی محاذ سے زیادہ اس کے عالمی معاشی اثرات بڑے ہو سکتے ہیں۔
overseaspost.net

نتیجتاً ٹرمپ کی مقبولیت کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ 

اس کے باوجود امریکی صدر اب تک یہ تسلیم کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے کہ اسرائیل کے اس تنازع میں مزید الجھنے کے بعد واشنگٹن کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی زیرِ گردش رہی ہیں کہ واشنگٹن جنگ سے نکلنے کا کوئی ایسا راستہ تلاش کر رہا ہے جسے سیاسی شکست نہ سمجھا جائے۔ 

اصل مسئلہ یہی ’فیس سیونگ‘ ہے۔ 

جب تک امریکہ کو ایسا کوئی راستہ نہیں ملتا جسے وہ کامیابی کا نام دے سکے، اس کے لیے اس جنگ سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

وسط مدتی انتخابات کا دباؤ

امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ اس جنگ کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کرے گی تاکہ اسے انتخابی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ 

اگر ایسا ہو جاتا تو ری پبلکن پارٹی اور صدر ٹرمپ انتخابات میں نسبتاً بہتر پوزیشن میں آ سکتے تھے۔

USOVERSEAS POST | US PRESSUREامریکہ پر دوہرا دباؤ
  • 1خارجی محاذ پر ایران کے ساتھ جنگی اور عسکری دباؤ۔
  • 2داخلی محاذ پر عوامی رائے، کانگریس اور انتخابات کا دباؤ۔
  • 3جنگ سے نکلنے کے لیے ایسی سیاسی صورت درکار جسے شکست نہ سمجھا جائے۔
overseaspost.net

لیکن اب تک نہ کوئی فیصلہ کن کامیابی سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی سیاسی کامیابی میسر ہوئی ہے جسے انتخابی مہم میں مؤثر انداز سے استعمال کیا جا سکے۔ 

اس کے برعکس حالات ری پبلکن پارٹی کے لیے مزید پیچیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق کانگریس کے اختیارات اور قانونی حدود کے حوالے سے بھی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 

اگر وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو بڑی شکست ہوتی ہے تو کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ پر تحقیقات اور حتیٰ کہ مواخذے کی کوششوں کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔

امریکہ کو جنگ
سے نکلنے کیلئے
قابلِ قبول ’فیس سیونگ‘ کی تلاش ہے

صدر ٹرمپ خود بھی ماضی میں مواخذے کے خدشات کا ذکر کرتے رہے ہیں، اس لیے وسط مدتی انتخابات ان کے لیے محض ایک عام سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ ان کی باقی ماندہ صدارت کے لیے فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس کے باوجود ٹرمپ کا اعتماد برقرار ہے۔
وہ آج بھی ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے مخالفین امریکہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ری پبلکن پارٹی وسط مدتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے ان کی کوششیں ناکام بنا دے گی۔
تاہم اگر عوامی سرویز اور موجودہ سیاسی فضا کو بنیاد بنایا جائے تو ری پبلکن پارٹی اور صدر ٹرمپ کے لیے انتخابی راستہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔

پاکستانی انتخابی ماڈل کا طنزیہ حوالہ

یہاں ایک پاکستانی کی حیثیت سے ایک طنزیہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا انتخابی کامیابی کا دعویٰ شاید اس صورت میں حقیقت کا روپ دھار سکے اگر امریکہ میں بھی ’پاکستانی انتخابی ماڈل‘ اختیار کر لیا جائے!

OVERSEAS POST | POLITICSوسط مدتی انتخابات کا خطرہ

کالم میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایران جنگ میں واضح کامیابی نہ ملنے کی صورت میں صدر ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

یہ حصہ مصنف کا سیاسی تجزیہ ہے، انتخابی نتیجے کی حتمی پیش گوئی نہیں۔
overseaspost.net

پاکستان میں انتخابی عمل، الیکشن کمیشن کے کردار، عدالتی فیصلوں اور انتخابی تنازعات کے حوالے سے طویل عرصے سے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ 

بعض مقدمات میں حکمِ امتناعی طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو بعض سیاسی تنازعات میں فیصلے اس وقت سامنے آتے ہیں جب اصل سیاسی مقصد تقریباً ختم ہو چکا ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی پاکستانی اربابِ اختیار کے ساتھ قربت اور پاکستان کی بعض نمایاں شخصیات کے لیے ان کی پسندیدگی کو سامنے رکھا جائے تو طنزیہ طور پر یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا وہ انتخابی میدان میں بھی کسی ’پاکستانی نسخے‘ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے؟

مگر امریکہ کا عدالتی اور انتخابی نظام پاکستان سے مختلف ہے۔ 

امریکی عدالتوں نے ماضی میں خود ٹرمپ کے کئی انتخابی دعوؤں کو مسترد کیا۔ 

اس لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کسی بڑے انتخابی تنازع یا بے ضابطگی پر امریکی عدلیہ مکمل خاموشی اختیار کر لے گی۔

اگرچہ سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں، لیکن یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ انتخابی شکست کے خطرے کی صورت میں ٹرمپ کس حد تک سیاسی اور آئینی اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی

انتخابی سیاست سے ہٹ کر اصل سوال میدانِ جنگ کا ہے۔ 

کیا صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات کریں گے؟ 

کیا جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوگا؟ 

حتیٰ کہ بعض حلقوں میں محدود پیمانے پر انتہائی خطرناک ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات بھی زیرِ بحث آتے رہے ہیں، اگرچہ ایسا کوئی قدم پورے خطے اور دنیا کے لیے ناقابلِ تصور نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | EXIT STRATEGYفیس سیونگ کی تلاش

مصنف کے مطابق واشنگٹن کے لیے اصل مشکل صرف جنگ ختم کرنا نہیں، بلکہ ایسا راستہ تلاش کرنا ہے جسے سیاسی شکست نہ سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ سے نکلنے کی خواہش اور میدان میں برتری ثابت کرنے کی کوشش بیک وقت جاری رہ سکتی ہیں۔

overseaspost.net

فی الوقت ایران نے امریکہ کو شدید عسکری اور سیاسی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ 

خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں نے خلیجی ممالک میں بھی ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے: اگر امریکہ اپنے فوجی اڈوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پا رہا تو وہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے تحفظ کی ضمانت کس طرح دے سکتا ہے؟

خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل پر بھی بحث تیز ہو چکی ہے۔ 

امریکی افواج نے مختلف مقامات سے سازوسامان اور اہلکاروں کی نقل و حرکت کی ہے، لیکن واشنگٹن اب بھی اپنے علاقائی مفادات اور اثرورسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوتی ہے، اس بارے میں فی الحال یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ایران دفاع سے پیشگی حملے کی حکمت عملی کی طرف؟

ایران نہ صرف میدانِ جنگ میں ڈٹا ہوا ہے بلکہ مذاکرات کی میز پر بھی سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔ 

اب تہران میں اس بات پر بھی گفتگو ہو رہی ہے کہ محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں اور ایران کو اپنی عسکری پالیسی تبدیل کرنا چاہئے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس نوعیت کا مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کو ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے پیشگی اقدامات کی حکمتِ عملی پر غور کرنا چاہئے۔ 

یعنی اگر کسی مقام سے ایران پر حملے کی تیاری کے قابلِ اعتماد شواہد ملیں تو تہران حملہ ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے پہلے ہی اس مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت استعمال کرے۔

اگر ایران واقعی ایسی پالیسی اختیار کرتا ہے تو جنگ کی نوعیت بنیادی طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔ 

اس سے تہران کو وقتی عسکری فائدہ ملنے کا امکان ضرور ہوگا، مگر ساتھ ہی خطے میں امریکی اڈوں اور دیگر تنصیبات کے لیے خطرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔

OVERSEAS POST | NAVAL FRONTبحری محاذ اور آبنائے ہرمز

کالم میں امریکی بحری قوت پر بڑھتے ایرانی میزائل اور ڈرون خطرے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اس کشیدگی کو محض عسکری نہیں بلکہ عالمی توانائی اور شپنگ کا مسئلہ بھی بناتی ہے۔

overseaspost.net

تیل تنصیبات نیا محاذ

سب سے خطرناک پیش رفت تیل تنصیبات سے متعلق دھمکیوں کی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بات کی گئی ہے۔ 

اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل منڈی، خلیجی معیشتوں اور بین الاقوامی تجارت تک پھیل سکتے ہیں۔

ایران نے بھی جواباً سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں امریکی مفادات سے منسلک توانائی کے بنیادی ڈھانچے بھی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

یہ دھمکیاں اس لیے زیادہ تشویشناک ہیں کہ خلیج کا خطہ دنیا کی توانائی کی رسد میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ 

اگر جنگ کا اگلا مرحلہ تیل تنصیبات، ریفائنریوں، بندرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے نظام تک پہنچ گیا تو اس کے معاشی اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔

یوں اب تک کی صورتِ حال سے یہی دکھائی دیتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی آگ بجھنے کی بجائے مزید بھڑکنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

محمد مبشر انوار
دیگر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

امریکہ ایک طرف داخلی سیاسی مشکلات اور وسط مدتی انتخابات کے دباؤ میں ہے، جبکہ دوسری جانب اسے خارجی اور عسکری محاذوں پر بھی بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔

صدر ٹرمپ کا نعرہ ’امریکہ فرسٹ‘ تھا، مگر موجودہ حالات میں سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنے داخلی مفادات، سیاسی استحکام اور خطے میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کو بیک وقت کس طرح محفوظ رکھ پائے گا؟

اگر تیل تنصیبات بھی اس جنگ کا باقاعدہ ہدف بن گئیں تو معاملہ صرف ایران اور امریکہ کی جنگ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کی قیمت پورے خطے اور ممکنہ طور پر پوری دنیا کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔