محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں اور ایران کی خاموشی نے ایک نیا سفارتی اور سکیورٹی بحران پیدا کر دیا ہے۔
مضمون میں یمن، ایران، امارات، امریکہ اور اسرائیل کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا مکہ معاہدہ عملی صورت اختیار کرے گا یا خطے کے ممالک جنگ سے پہلے سفارتی حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کی خبر کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سعودی عرب کے جنوبی سرحدی علاقوں پر یمنی حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر دو مرتبہ امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی کرنے پر زور دیا، تاہم امریکی صدر نے حوثیوں کے خلاف براہِ راست کارروائی سے انکار کر دیا۔
بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ پسِ پردہ کھیل کی پرتیں اب کھلنا شروع ہو گئی ہیں اور یمن میں جو کھیل کھیلا جا رہا تھا، اس کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔
اگرچہ نتائج کھلاڑیوں کی منصوبہ بندی کے عین مطابق سامنے نہیں آ رہے، لیکن پھر بھی جو کچھ مطلوب تھا، وہ کسی نہ کسی دوسرے انداز میں رونما ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL ANALYSISمکہ معاہدہ یا سفارتی حل؟ — اہم نکات ⌄
- ✓مضمون کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں نے خطے کی کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
- ✓مصنف کا استدلال ہے کہ سعودی عرب نے اب تک ایران کے خلاف براہِ راست جنگ سے گریز اور تحمل کی پالیسی اپنائی ہے۔
- ✓یمن میں سعودی عرب، امارات، ایس ٹی سی اور حوثیوں کے مفادات و تعلقات کو مضمون میں ایک پیچیدہ علاقائی کھیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
- ✓ایران کی حوثیوں پر اثراندازی اور سعودی عرب کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات کے درمیان تضاد کو مرکزی سوال بنایا گیا ہے۔
- ✓مضمون کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ اجتماعی دفاع کے راستے پر جانے سے پہلے فوری سفارتی حل تلاش کیا جائے۔
یمن کے اس کھیل میں ایک طرف سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) تھی، جسے مختلف ادوار میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی حمایت حاصل رہی، جبکہ دوسری طرف حوثیوں کی تنظیم انصار اللہ تھی، جسے ایران کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔
اگرچہ یمن میں سعودی عرب اور امارات ایک ہی تنظیم کی حمایت کرتے رہے، مگر دونوں ریاستوں کے مفادات اور ترجیحات یکساں نہیں تھیں۔
مزید پڑھیں
کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی صورت یہ نہیں چاہتا کہ اس کے جنوبی حصے میں کوئی ایسی تنظیم مضبوط بنیادوں پر استوار ہو جو مستقبل میں سعودی سلامتی یا تجارت کے لیے خطرہ بن سکے۔
تاہم اس کھیل میں ایس ٹی سی خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام ہی نہیں رہی بلکہ اندرونی طور پر یہ خبریں بھی زیرِ گردش ہیں کہ تنظیم کا جھکاؤ زیادہ واضح طور پر امارات کی جانب ہو گیا اور سعودی مفادات کے حوالے سے اس پر سوالات اٹھنے لگے۔
یوں سعودی عرب کو بیک وقت دو طرح کے خطرات کا سامنا دکھائی دیا: ایک جانب حوثیوں کا خطرہ پہلے سے موجود تھا، جبکہ دوسری جانب
وہ قوت، جسے حوثیوں کے مقابل مضبوط کیا گیا تھا، خود سعودی مفادات سے دور ہوتی محسوس ہوئی۔
ایس ٹی سی کے اس رویے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
اس حوالے سے یہ پہلو بھی زیرِ بحث رہتا ہے کہ امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہو چکے ہیں اور موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی پورے خطے کی صف بندیوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
ایسے حالات میں یمن کی داخلی سیاست کو صرف مقامی تناظر میں دیکھنا کافی نہیں، اس کے پیچھے علاقائی طاقتوں کے وسیع تر مفادات بھی کارفرما ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس ⌄
- ✓مرکزی موضوع: سعودی عرب، حوثی حملے اور علاقائی کشیدگی
- ✓بنیادی سوال: مکہ معاہدہ یا سفارتی حل؟
- ✓اہم فریق: سعودی عرب، ایران، یمن، امریکہ، اسرائیل، امارات
- ✓یمنی زاویہ: حوثی/انصار اللہ اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل
- ✓مصنف کی ترجیح: فوجی تصادم سے پہلے سفارت کاری
- ✓بڑا خطرہ: مقامی تنازع کا وسیع علاقائی جنگ میں بدل جانا
دوسری طرف امارات کے علاقائی مفادات پر نظر دوڑائی جائے تو سوڈان، صومالیہ اور لیبیا سمیت مختلف ممالک میں اس کے کردار پر مسلسل بحث ہوتی رہی ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف سعودی اثرورسوخ متاثر ہو سکتا ہے بلکہ خطے کے دیگر مسلم ممالک کی سیاست بھی نئی کشمکش کا شکار ہو رہی ہے۔
اس پس منظر میں اسرائیل کے ساتھ امارات کے تعلقات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص ایسے وقت میں جب پورے مشرقِ وسطیٰ میں اتحاد اور مفادات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کی جنگ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ تصادم میں اسرائیل کا کردار بنیادی رہا، جبکہ امریکہ بھی اسرائیل کی حمایت میں اس تنازع کا حصہ بنا۔
تاہم ایران کی عسکری اور دفاعی صلاحیت کے حوالے سے امریکی اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔
◎ OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSیہ معاملہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
- ✓حوثی حملوں میں اضافہ سعودی عرب کو زیادہ سخت ردعمل پر مجبور کر سکتا ہے۔
- ✓سعودی ایران تعلقات میں نئی کشیدگی خطے کی حالیہ سفارتی پیش رفت کو متاثر کر سکتی ہے۔
- ✓اجتماعی دفاعی بندوبست فعال ہونے کی صورت میں تنازع کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
امریکہ شاید یہ سمجھتا تھا کہ کئی دہائیوں کی پابندیوں کے نتیجے میں ایران اس قدر کمزور ہو چکا ہو گا کہ اسے آسانی سے زیر کیا جا سکے گا، مگر ایران نے پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت کو مسلسل مضبوط کیا۔
انقلابِ ایران کے بعد سے ہی یہ واضح تھا کہ واشنگٹن ایرانی نظام کو پسند نہیں کرتا اور اسی لیے تہران کو مسلسل پابندیوں اور سیاسی و معاشی دباؤ کا سامنا رہا۔
حوثیوں کے حملے
سعودی عرب
کے لیے نئی
سکیورٹی آزمائش
بن رہے ہیں
ایران نے ایک طرف باضابطہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے سے گریز کا مؤقف اختیار کیے رکھا، جس کے حق میں رہبرِ ایران کے فتویٰ کا حوالہ دیا جاتا رہا، تو دوسری جانب اپنی روایتی دفاعی اور میزائل صلاحیت میں مسلسل اضافہ کیا۔
آج کی صورتِ حال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود ایران کو عسکری اعتبار سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ایران پہلے ہی ایک باقاعدہ جوہری طاقت ہوتا تو کیا امریکہ اس کے خلاف اسی انداز میں جارحانہ پالیسی اختیار کرتا؟صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے بھی یہی نکتہ سامنے آتا ہے کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو امریکی حکمتِ عملی مختلف ہو سکتی تھی اور واشنگٹن شاید سفارتی راستے کو زیادہ ترجیح دیتا۔
دوسری جانب ٹرمپ یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
✓? OVERSEAS POST | EDITORIAL CAUTIONکیا ثابت ہے، کیا مصنف کا تجزیہ؟ ⌄
- ✓مضمون کے بعض نکات مصنف کے سیاسی تجزیے اور خدشات پر مبنی ہیں۔
- ✓فالس فلیگ کارروائیوں سے متعلق دعوے حتمی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ خدشے کے طور پر پیش کیے جائیں۔
- ✓ایس ٹی سی کے پسِ پردہ روابط اور بعض علاقائی محرکات سے متعلق نکات کو ادارتی احتیاط کے ساتھ شائع کیا جائے۔
یہ صورتِ حال خود ایران کے اندر بھی نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ ایرانی قیادت مستقبل میں اپنی جوہری حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرے۔
تاہم اس سے پہلے ایران کی ترجیح یقیناً یہ ہو گی کہ موجودہ جنگ میں اپنی دفاعی پوزیشن برقرار رکھے اور خود کو شکست خوردہ فریق بننے سے بچائے۔
ابھی تک صورتِ حال بنیادی طور پر فضائی اور میزائل حملوں تک محدود ہے۔
امریکہ اپنی بھرپور کوشش کے باوجود نہ ایران کے اندر کوئی فیصلہ کن زمینی پیش قدمی کر سکا ہے اور نہ ہی سمندری سطح پر کوئی ایسی مکمل برتری قائم ہوئی ہے جو جنگ کا فیصلہ کر دے۔
دوسری طرف ایران کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ امریکی سرزمین تک پہنچ کر امریکہ کو روایتی معنوں میں مکمل شکست سے دوچار کر دے۔
لہٰذا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک فریق مکمل اور واضح عسکری فتح حاصل کر سکے گا۔
زیادہ امکان یہی ہے کہ کسی مرحلے پر دونوں فریق اپنی اپنی سیاسی اور عسکری کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کوئی ایسا راستہ تلاش کریں گے جو انہیں فیس سیونگ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی اجازت دے۔
البتہ فی الحال اس کا فوری امکان دکھائی نہیں دیتا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کہیں یا انہیں اسرائیلی خواہشات کا نام دیا جائے، ایک حقیقت واضح ہے کہ اسرائیل اپنی علاقائی پالیسی کو توسیع دینے اور اپنے لیے زیادہ محفوظ جغرافیائی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے خلاف موجودہ جنگ میں بھی امریکہ پوری طرح اس کشمکش کا حصہ بن چکا ہے، اگرچہ ابھی تک نتائج اسرائیل کی تمام توقعات کے مطابق سامنے نہیں آئے۔
اس پورے تنازع میں سعودی عرب نے ابتدا ہی سے نسبتاً محتاط پالیسی اختیار کی۔
سعودی عرب نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکا اور بعد میں سعودی سرزمین پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کے استعمال کے حوالے سے بھی احتیاط برتی۔
سعودی قیادت نے واضح طور پر کوشش کی کہ مملکت براہِ راست ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بنے۔
مزید پڑھیں
اس دوران بعض واقعات کو فالس فلیگ کارروائیوں سے بھی تعبیر کیا گیا، تاہم سعودی حکومت نے مجموعی طور پر تحمل، برداشت اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی غیرمصدقہ اطلاع یا اشتعال انگیز واقعے کی بنیاد پر فوری طور پر ایران کے خلاف جنگی ردعمل دینے سے گریز کیا۔
اب صورتِ حال ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی
دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی سرزمین اور خودمختاری کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ سامنے آ رہا ہے۔
ایسے میں ایران کی خاموشی بھی سوالات کو جنم دیتی ہے اور تہران کی سفارتی پوزیشن کو کمزور کر سکتی ہے۔
⌘ OVERSEAS POST | REGIONAL PLAYERSعلاقائی کھلاڑی — کس کا کیا کردار؟ ⌄
- ✓سعودی عرب: جنوبی سرحد کی سلامتی، جنگ سے گریز اور علاقائی استحکام
- ✓ایران: حوثیوں پر اثرورسوخ اور سعودی تعلقات میں توازن
- ✓حوثی/انصار اللہ: سعودی سرحدی سلامتی کے لیے براہِ راست چیلنج
- ✓امارات: یمن اور دوسرے علاقائی محاذوں پر الگ مفادات
- ✓امریکہ: اسرائیل کی حمایت اور ایران کے ساتھ وسیع تصادم کا دباؤ
- ✓اسرائیل: ایران کے خلاف علاقائی حکمتِ عملی کا اہم فریق
اصولی طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان گزشتہ برسوں میں تعلقات میں جو بہتری آئی ہے، اس کے بعد ایران سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ نہ صرف سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرے بلکہ اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں روکنے کی بھی کوشش کرے۔
ابھی تک ایسی کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی، البتہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے میں امن، استحکام اور سلامتی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
یہاں معاملہ مزید حساس ہو جاتا ہے کیونکہ سعودی دفاع اب مکہ معاہدے سے بھی منسلک ہے۔ اگر اس معاہدے کے تحت شریک ممالک اس اصول پر متفق ہیں کہ کسی ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، تو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف مسلسل کارروائیاں پورے خطے کو ایک ایسے مرحلے تک لے جا سکتی ہیں جہاں کسی فریق کے لیے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایران، حوثی یا مکہ معاہدے کے فریق اس صورتِ حال کو اس حد تک پہنچنے دیں گے کہ جو کام خطے کے دشمن براہِ راست نہ کر سکے، وہ حوثیوں کی کارروائیوں کے ذریعے ہو جائے؟
➜ OVERSEAS POST | SAUDI OPTIONSسعودی عرب کے سامنے تین راستے ⌄
- ✓تحمل جاری رکھا جائے اور دفاعی ردعمل کو محدود رکھا جائے۔
- ✓حوثیوں کے خلاف زیادہ سخت فوجی یا سکیورٹی اقدامات کیے جائیں۔
- ✓ایران اور یمن کے ذریعے فوری سفارتی دباؤ بڑھا کر حملے رکوانے کی کوشش کی جائے۔
ایک اور خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں حوثیوں کی صفوں یا ان کے نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسے عناصر کارروائیاں تو نہیں کر رہے جو سعودی عرب کو براہِ راست ایک بڑی علاقائی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہوں۔
اس امکان کے ثبوت سامنے آنا ابھی باقی ہیں، لیکن خطے کی موجودہ پیچیدہ صورتِ حال میں اس خدشے کو یکسر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
بہرحال معاملہ انتہائی تشویشناک ہے۔
سعودی عرب، ایران اور یمن کے تمام متعلقہ فریقوں کو بالخصوص اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیے جائیں جن کے نتیجے میں مکہ معاہدے کے اجتماعی دفاعی تقاضے عملاً حرکت میں آ جائیں۔
اس بحران کا فوری، سنجیدہ اور قابلِ عمل سفارتی حل تلاش کرنا ہی تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ جنگ کا دائرہ مزید پھیلنے کی صورت میں کوئی ایک ملک نہیں بلکہ پورا خطہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔
خطے اور مسلم ممالک کی بہتری اسی میں ہے کہ بندوق سے پہلے سفارت کاری کو ایک مکمل موقع دیا جائے۔