براہ راست نشریات

پھر دیجیے جبین کو سجدوں کی تازگی…!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Ocean Darkness
حصہ دوم: سمندر کی تاریکیوں سے دل کے نور تک
Picture of عزیز بلگامی

عزیز بلگامی

بنگلور

سمندر کی گہرائی میں روشنی بتدریج ختم اور تاریکی بڑھتی جاتی ہے۔
یہ قدرتی منظر انسان کے باطن کی کیفیت کی علامت بھی بن جاتا ہے۔
قرآنِ کریم انسان کو کائنات کی نشانیوں پر غور، کتاب اللہ کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو اپنے کردار میں ظاہر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

2/2

مضمون کے پہلے حصے میں ہم نے درختوں کی خاموش خدمت، بہتے پانی کی حکمت، سورج کی پابندی اور بارش کی بے امتیاز رحمت میں پوشیدہ اسباق پر غور کیا تھا۔ 

کائنات کی یہ نشانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ قدرت کا کوئی منظر بے مقصد نہیں۔ 

اب ذرا سمندر کی گہرائیوں میں اتر کر دیکھئے، جہاں روشنی بتدریج کم ہوتی اور تاریکیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

سمندر کی تہوں میں تاریکیاں

بظاہر پُرسکون دکھائی دینے والے سمندر کے سینے میں نہ جانے کتنے طوفان مچلتے رہتے ہیں۔ اس کی گہرائیوں کی دنیا نہایت حیرت انگیز ہے۔ 

سورج کی سفید کرنیں جب سطحِ سمندر سے ٹکراتی ہیں تو پانی کی مختلف گہرائیوں میں روشنی کی مقدار اور اس کے رنگ بدلتے چلے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

سورۃ النور کی آیت 40 میں سمندر کی گہرائیوں اور ان کے عمیق اندھیروں کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے:

’یا ان کے اعمال کی مثال ایک گہرے سمندر کی تاریکیوں جیسی ہے، جس پر ایک موج چھائی ہوئی ہو، اس کے اوپر دوسری موج اور اس کے اوپر بادل، تاریکیوں پر تاریکیاں۔ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ سکے۔ اور جسے اللہ نور نہ دے، اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں‘۔

یہ آیت ہماری فکر و نظر کو مہمیز دیتی ہے کہ ہم علمِ بحر یا Oceanography کی موجودہ معلومات سے بھی استفادہ کریں اور سمندر کی گہرائیوں میں پھیلی تاریکیوں کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

سطحِ سمندر سے تقریباً 200 میٹر تک کا حصہ Epipelagic Zone کہلاتا ہے۔ 

یہاں سورج کی روشنی اتنی مقدار میں پہنچتی ہے کہ آبی پودوں میں ضیائی تالیف کا عمل جاری رہ سکے۔ 

اسی لیے سمندری حیات کی سب سے زیادہ گہماگہمی اسی حصے میں پائی جاتی ہے۔

اہم ترین نکات
  • سمندر کی گہرائی بڑھنے کے ساتھ سورج کی روشنی مسلسل کم ہوتی جاتی ہے۔
  • سورۃ النور میں گہرے سمندر کی تہ در تہ تاریکیوں کا ذکر موجود ہے۔
  • ماریانا ٹرینچ کی گہرائی تقریباً گیارہ ہزار میٹر تک پہنچتی ہے۔
  • سائنسی معلومات کائنات کی نشانیوں پر مزید غور کی دعوت دیتی ہیں۔
  • قرآن سے تعلق صرف تلاوت نہیں بلکہ سمجھنے اور عمل کرنے کا نام ہے۔
  • حقیقی تبلیغ انسان کے اخلاق، دیانت، عدل اور کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔
  • انسان نے سمندر اور خلا کو کھوج لیا، مگر اپنے باطن سے غافل ہے۔

تقریباً 200 سے ایک ہزار میٹر تک کی گہرائی کو Mesopelagic Zone کہا جاتا ہے۔ 

یہاں بہت معمولی روشنی پہنچتی ہے، جو ضیائی تالیف کے لیے کافی نہیں ہوتی، تاہم مختلف قسم کے سمندری جاندار یہاں بھی زندگی گزارتے ہیں۔

ایک ہزار سے تقریباً چار ہزار میٹر تک کا حصہ Bathypelagic Zone کہلاتا ہے۔ 

یہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی اور ہر طرف مکمل تاریکی ہوتی ہے، لیکن قدرت نے بعض مخلوقات کو ان انتہائی مشکل حالات میں بھی زندہ رہنے کی غیرمعمولی صلاحیت عطا کی ہے۔

چار ہزار میٹر سے سمندر کی انتہائی گہرائیوں تک کا حصہ Abyssopelagic Zone کہلاتا ہے۔ سمندر کی تہہ میں بعض مقامات پر نہایت تنگ مگر گہری کھائیاں بھی ہوتی ہیں، جنہیں Trenches کہا جاتا ہے۔

بحرالکاہل میں واقع ماریانا ٹرینچ دنیا کی گہری ترین معلوم سمندری کھائی ہے۔ 

اس کی گہرائی تقریباً 11 ہزار میٹر تک پہنچتی ہے۔ 

اگر ماؤنٹ ایورسٹ کو اس کھائی میں رکھ دیا جائے تو اس کی چوٹی بھی سطحِ سمندر سے نیچے رہ جائے گی۔

ہم سے جڑے رہیں

آج سائنس، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں قرآنِ حکیم کی آیات میں بیان کردہ نشانیوں پر غور کرنا ہمارے لیے پہلے سے زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ 

وقت کے ساتھ سامنے آنے والی نئی معلومات انسان کو کائنات، اپنی ذات اور خالقِ کائنات کے پیغام پر مزید غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔

نور ہمارے درمیان، پھر بھی اندھیرے کیوں؟

ہمارے سامنے سائنسی حقائق بھی ہوں، اللہ تعالیٰ کی واضح نشانیاں بھی موجود ہوں اور رات دن ان کا مشاہدہ بھی ہورہا ہو، پھر بھی ہم غفلت سے نہ جاگیں تو یہ کتنے افسوس کی بات ہے!

نورانی کتاب ہمارے درمیان موجود ہو اور اس کے باوجود ہم اندھیروں میں رہنا پسند کریں۔ ہدایت کا سورج چمک رہا ہو لیکن اس کی کوئی کرن ہمارے دل تک نہ پہنچے—کیا یہ حیرت انگیز المیہ نہیں؟

فیکٹ باکس
مرکزی موضوع سمندر کی تاریکیاں اور ہدایت کا نور
قرآنی حوالے سورۃ النور، آیت 40؛ سورۃ المائدہ، آیات 15 اور 16
حدیث کا حوالہ بلغوا عنی ولو آیۃ
سائنسی شعبہ علمِ بحر — Oceanography
گہری ترین معلوم کھائی ماریانا ٹرینچ
تقریبی گہرائی گیارہ ہزار میٹر
بنیادی پیغام قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت
یہ اشاعت حصہ دوم اور آخری

کیا ہم اپنی فکری اور اخلاقی سطح کو اتنا بلند نہیں کرسکتے کہ تاریکیوں سے باہر نکل آئیں؟ کیا کتاب اللہ کی نورانی کرنیں ہماری دنیا اور آخرت کو روشن نہیں کرسکتیں؟

ضرورت ہے کہ قرآنِ کریم سے ہمارا تعلق محض تلاوت تک محدود نہ رہے بلکہ ہم اس کے معانی و مفاہیم کے قریب ہوں، اس کی ہدایات کو سمجھیں اور توفیقِ الٰہی سے اپنی زندگی میں ان پر عمل بھی کریں۔

سورۃ المائدہ کی آیات 15 اور 16 میں ارشاد فرمایا گیا ہے:

’اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس ہمارے رسول آگئے ہیں، جو کتاب کی بہت سی وہ باتیں تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں جنہیں تم چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتے ہیں۔ 

بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔ 

اللہ اس کے ذریعے ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہوں، انہیں اپنے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور سیدھے راستے کی جانب ان کی رہنمائی کرتا ہے‘۔ 

دل کی کھڑکیوں سے پردے ہٹائیے

ہدایت کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے، لیکن ہم اپنے دل کی کھڑکیوں پر پڑے پردے ہٹانا نہیں چاہتے۔ 

اگر ہم کتاب اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرلیں، نبی کریمﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کریں اور اخلاقِ کریمانہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں تو ہمارے ذہن و دل کی دنیا جگمگا سکتی ہے۔

آپ بھی لکھیں
آپ کی تحریر شائع کر کے ہمیں خوشی ہوگی
✍️
📄

رسول اللہﷺ کا معروف ارشاد ہے:

’بلغوا عنی ولو آیۃ‘

’میری طرف سے دوسروں تک پہنچاؤ، خواہ ایک ہی آیت ہو‘۔

قرآنِ کریم کے تراجم دنیا کی بے شمار زبانوں میں موجود ہیں اور تفاسیر کی بھی کمی نہیں، لیکن حقیقی ضرورت یہ ہے کہ انسان قرآن کے اصل پیغام کو سمجھے، اس سے رہنمائی حاصل کرے اور اسے اپنے کردار و عمل کے ذریعے دوسروں تک پہنچائے۔

قرآن کا پیغام صرف زبان سے بیان کرنے کی چیز نہیں۔ 

اگر ہماری گفتگو میں نرمی، معاملات میں دیانت، رویوں میں عدل اور کمزوروں کے لیے ہمدردی پیدا نہ ہو تو محض الفاظ دوسروں کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ 

حقیقی تبلیغ وہ ہے جو انسان کے اخلاق اور کردار سے ظاہر ہو۔

اندھیروں میں بھٹکنے والی انسانیت اپنے رب کا راستہ کھو چکی ہے اور کسی نہ کسی درجے میں ہم بھی اسی غفلت کا شکار ہیں۔ ایک کامیاب، پاکیزہ اور باعزت زندگی کے لیے کتاب اللہ کی طرف پلٹنا ضروری ہے۔

یہ مضمون کیوں اہم ہے؟

انسان نے سمندروں کی گہرائیاں ناپ لیں، پہاڑوں کی بلندیاں سر کرلیں اور خلا تک رسائی حاصل کرلی، لیکن اپنے باطن میں موجود تاریکیوں کو پہچاننے کے لیے تیار نہیں۔ یہ مضمون علم، ایمان اور کردار کے درمیان تعلق واضح کرتے ہوئے انسان کو اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کتاب اللہ سے حقیقی تعلق اسی وقت قائم ہوتا ہے جب اس کی تعلیمات ہمارے معاملات، ترجیحات اور اخلاق میں دکھائی دیں۔

جب ہمارا تعلق قرآن سے مضبوط ہوگا تو خام خیالی، توہمات اور جہالت کے اندھیرے چھٹنے لگیں گے۔ 

عقل، سائنس، علم اور فنون کے بارے میں بھی ہماری سوچ زیادہ پختہ اور تعمیری ہوگی۔

باہر کی دنیا روشن، باطن تاریک

المیہ یہ ہے کہ انسان چاند اور مریخ تک پہنچنے کی کوشش تو کر رہا ہے، لیکن اس کے اپنے باطن کے نہاں خانے کتاب اللہ کے نور سے محروم ہیں۔ 

اس نے سمندر کی گہرائیاں ناپ لیں، پہاڑوں کی بلندیاں سر کرلیں اور کائنات کے دور دراز گوشوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی، مگر اپنے دل میں پوشیدہ تاریکیوں کو پہچاننے کے لیے تیار نہیں۔

غور طلب سوالات
  1. کیا قرآن سے ہمارا تعلق صرف تلاوت تک محدود ہے؟
  2. کیا اس کی تعلیمات ہمارے معاملات اور کردار میں دکھائی دیتی ہیں؟
  3. کیا ہم سائنسی ترقی کے ساتھ اپنے باطن کی اصلاح بھی کررہے ہیں؟
  4. کیا ہم کتابِ نور سے اپنی زندگی کی تاریکیاں دور کرنا چاہتے ہیں؟

دنیا خالقِ کائنات کے پیغام سے غافل ہے اور ہمارا اپنا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ 

ہم قرآن پڑھتے ہیں، اس کی تلاوت سنتے ہیں اور اسے اپنے گھروں میں بلند مقام پر رکھتے ہیں، مگر کیا اسے اپنے فیصلوں، معاملات، ترجیحات اور روزمرہ زندگی میں بھی وہی مقام دیتے ہیں؟

کتاب اللہ سے حقیقی تعلق اسی وقت قائم ہوگا جب اس کی تعلیمات ہمارے اخلاق، کردار اور طرزِ زندگی میں دکھائی دیں۔ 

ہماری زبان سچ بولے، ہمارے ہاتھ سے کسی کو نقصان نہ پہنچے، ہمارے معاملات دیانت پر قائم ہوں اور ہمارے دل میں انسانیت کے لیے خیرخواہی پیدا ہو۔

کائنات کی نشانیاں صرف آنکھوں سے دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ دل و دماغ سے سمجھنے کے لیے ہیں۔ 

درخت، پانی، سورج، بارش اور سمندر ہمیں اپنے اپنے انداز میں خالقِ کائنات کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ 

کوئی خدمت کا سبق دیتا ہے، کوئی استقامت کا، کوئی مساوات کا اور کوئی نور و تاریکی کے درمیان فرق سمجھاتا ہے۔

ایک منٹ میں مضمون

سمندر کی سطح سے نیچے جاتے ہوئے سورج کی روشنی کم اور تاریکی گہری ہوتی جاتی ہے۔ قرآنِ کریم بھی گہرے سمندر کی تہ در تہ تاریکیوں کا ذکر کرتا ہے۔ یہ منظر یاد دلاتا ہے کہ اللہ کا نور نہ ہو تو انسان کا باطن بھی تاریک رہتا ہے۔ کتاب اللہ سے حقیقی تعلق صرف تلاوت نہیں بلکہ اس کے مفہوم کو سمجھنے اور اپنی زندگی، معاملات اور اخلاق میں نافذ کرنے کا نام ہے۔ یہ مضمون کا دوسرا اور آخری حصہ ہے۔

اب سوال یہ ہے:

کیا ہم دنیا کی اس امتحان گاہ میں کتابِ نور سے اپنی زندگی کی تاریکیاں دور کرنا چاہتے ہیں؟

کیا ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت اور عظمت کی بازیافت کے خواہش مند ہیں؟

کیا آخرت کی فلاح بھی ہمارے پیشِ نظر ہے؟

یہ فیصلہ ہم میں سے ہر شخص کو خود کرنا ہے۔ 

اپنے معمولات، اخلاق و کردار، رویوں اور طرزِ زندگی میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

اب وقت ہے کہ کتابِ نور سے تعلق جوڑیں، دل کی دنیا روشن کریں اور پھر اپنی جبین کو سجدوں کی تازگی عطا کریں۔ 

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے