قرآنِ کا احترام کافی نہیں، حقیقی قدردانی اس کے پیغام کو سمجھنے اور زندگی میں نافذ کرنے کا نام ہے
سید نور العارفین
حیدر آباد دکن
قرآنِ کریم انسانیت کے لیے آخری اور مکمل ہدایت نامہ ہے، مگر مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اس سے اپنا تعلق رسمی تلاوت اور ظاہری احترام تک محدود کردیا ہے۔
اسے خوب صورت غلافوں میں محفوظ تو رکھا جاتا ہے، لیکن اس کے معانی سمجھنے، احکام پر غور کرنے اور عملی زندگی میں رہنمائی لینے کی کوشش کم دکھائی دیتی ہے۔
قرآن کی حقیقی قدردانی یہ ہے کہ اسے پڑھا، سمجھا، اس پر عمل کیا اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچایا جائے۔
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانیت کے لیے نازل کیا گیا آخری ہدایت نامہ ہے۔
انسانی تاریخ کے آغاز سے وحیِ الٰہی کا سلسلہ جاری رہا اور ہر دور میں انبیائے کرامؑ نے انسانوں کو ایک ہی بنیادی تعلیم دی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
قرآنِ کریم کی بنیادی دعوت بھی یہی ہے۔
سابق انبیائے کرامؑ کی تعلیمات مخصوص اقوام اور ادوار کے لیے تھیں، لیکن حضرت محمدﷺ کا پیغام پوری انسانیت اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے ہے۔
اسی لیے قرآن کو جامع، مکمل اور ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رکھا گیا۔
چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اس کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے۔
دنیا کی کوئی قوم اتنی خوش قسمت نہیں کہ اس کے پاس قرآن جیسی کتاب ہو، لیکن اس سے بڑی محرومی بھی کوئی نہیں کہ ایسی عظیم نعمت رکھنے کے باوجود اس کی حقیقی قدر نہ کی جائے۔
مزید پڑھیں
ہم قرآنِ مجید کا ظاہری احترام بہت کرتے ہیں۔
اسے گھر میں بلند اور پاکیزہ مقام پر رکھتے، خوب صورت غلاف میں لپیٹتے، آنکھوں سے لگاتے اور بوسہ دیتے ہیں۔
اہم مواقع پر اس کی قسم کھاتے اور انتقال کرنے والوں کے ایصالِ ثواب کے لیے اس کی تلاوت کرتے ہیں۔
بلاشبہ قرآن کا جتنا احترام کیا جائے کم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے
کہ کیا قرآن صرف انہی مقاصد کے لیے نازل ہوا؟
کیا قرآن کی حقیقی قدردانی محض اسے بلند مقام پر رکھنے اور مخصوص مواقع پر پڑھنے کا نام ہے؟
قرآن کی اصل قدر دانی یہ ہے کہ اس کے مقصدِ نزول کو سمجھا اور اس کے حقوق ادا کیے جائیں۔
◈خلاصہ +
قرآنِ کریم انسانیت کے لیے آخری اور مکمل ہدایت نامہ ہے، مگر مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اس سے اپنا تعلق رسمی تلاوت اور ظاہری احترام تک محدود کردیا ہے۔ قرآن کی حقیقی قدردانی یہ ہے کہ اسے پڑھا، سمجھا، اس پر عمل کیا اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچایا جائے۔
اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس پر سچے دل سے ایمان لایا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’پس ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول ﷺ پر اور اس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے۔‘ (التغابن: 8)
یہ ایمان محض زبانی اقرار نہیں بلکہ ایسا یقین ہونا چاہیے جو انسان کی فکر، کردار اور عملی زندگی کو تبدیل کردے۔
قرآن انسان کو عقیدے اور فکر کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ۔‘ (ابراہیم: 1)
مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ دنیا بھر کی کتابیں پڑھتے اور مختلف فلسفوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن قرآن کو سمجھنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔
زندوں کے لیے نازل ہونے والی کتاب کو صرف مردوں کے ایصالِ ثواب تک محدود کردیا گیا ہے، حالاں کہ قرآن خود اعلان کرتا ہے کہ وہ زندہ اور باشعور انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
★پانچ اہم نکات +
- قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے مکمل اور آخری ہدایت نامہ ہے۔
- قرآن کو بلند مقام پر رکھنا احترام ہے، مگر یہی حقیقی قدردانی نہیں۔
- قرآن کا بنیادی حق ایمان، فہم، تدبر اور عملی پیروی ہے۔
- اسے صرف ایصالِ ثواب تک محدود کرنا مقصدِ نزول کو نظرانداز کرنا ہے۔
- زندگی کو قرآن کے مطابق بدلنا حقیقی ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
قرآن کا دوسرا حق یہ ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے۔
صرف زبان سے تلاوت کرنا یقیناً باعثِ اجر ہے، لیکن اگر اس کا پیغام دل تک نہ پہنچے تو زندگی میں مطلوبہ تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔
رسول اللہﷺ نے ایسے لوگوں کے بارے میں خبردار فرمایا جو قرآن پڑھیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تلاوت تو ہوگی، لیکن قرآن کے معانی، احکام اور روح دل و کردار میں جگہ نہیں بنا سکیں گے۔
دل ہی ایمان، اخلاص اور اخلاق کا مرکز ہے اور اسی میں شرک، نفاق، حسد، تکبر اور دوسری روحانی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔
جب تک قرآن کی روشنی دل تک نہیں پہنچے گی، محض درست تلفظ زندگی کی اصلاح اور باطن کی پاکیزگی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
قرآن پر ایمان کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے احکام کو بلا چون و چرا قبول کیا جائے۔
اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام تسلیم کیا جائے۔
اپنی خواہشات کے مطابق قرآنی احکام کی تاویل کرنا یا ان سے بچنے کے راستے تلاش کرنا حقیقی ایمان کی علامت نہیں۔
قرآن کو ہمارے عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات اور باہمی تنازعات میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔
”مرکزی اقتباس +
قرآن کی حقیقی قدردانی اسے غلافوں اور طاقوں سے نکال کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا رہنما بنانے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ اللہ نے جو راہ تمہیں دکھائی ہے، اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔‘ (النساء: 105)
قیامت کے روز رسول اللہﷺ کی یہ شکایت نہایت تشویش ناک ہوگی:
’اے میرے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو نظرانداز کردیا تھا۔‘ (الفرقان: 30)
اس آیت میں استعمال ہونے والے لفظ ’مہجور‘ کا مفہوم صرف قرآن کا انکار کرنا نہیں بلکہ اسے چھوڑ دینا اور اس سے عملی تعلق توڑ لینا بھی ہے۔
قرآن نہ پڑھنا، اسے سمجھنے کی کوشش نہ کرنا، اس کے احکام پر غور نہ کرنا اور ان پر عمل سے گریز کرنا، ترکِ قرآن کی مختلف صورتیں ہیں۔
قرآن کو اپنی خواہشات، خود ساختہ تصورات اور مروجہ روایات کے تابع کردینا بھی ناقدری ہے۔
بعض اوقات انسان قرآن سے رہنمائی لینے کے بجائے اپنی پہلے سے قائم رائے کو درست ثابت کرنے کے لیے آیات کا من پسند مفہوم اخذ کرتا ہے۔
ایسے رویے کی حقیقت شاعر نے یوں بیان کی ہے:
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
!یہ کیوں اہم ہے؟ +
قرآن سے عملی تعلق کمزور ہونے کا اثر صرف عبادات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اخلاق، خاندان، کاروبار، معاشرت اور اجتماعی فیصلوں پر بھی پڑتا ہے۔ جب رہنمائی کے بنیادی سرچشمے سے دوری پیدا ہو تو فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور قول و عمل کا تضاد بڑھنے لگتا ہے۔
قرآن کا ایک اہم حق اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا اور اس کی تعلیمات کو عام کرنا بھی ہے، مگر یہ ذمہ داری اسی وقت مؤثر انداز میں ادا ہوسکتی ہے جب ہمارا اپنا تعلق قرآن سے مضبوط ہو۔
ہمیں اس کی تلاوت، فہم، تدبر اور پیروی کو اپنی زندگی کا معمول بنانا ہوگا۔
قرآن کی حقیقی قدردانی یہی ہے کہ اسے غلافوں اور طاقوں سے نکال کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا رہنما بنایا جائے۔
تبھی یہ دنیا میں ہمارے لیے ہدایت، دلوں کے لیے شفا اور آخرت میں نور اور ذریعۂ شفاعت بن سکتا ہے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللّٰهِ